پل سے اتارو راہ گزر کو خبر نہ ہو | Pul Se Utaro Rah Guzar Ko Khabar Na Ho Lyrics in Urdu
پُل سے اُتارو راہ گزر کو خبر نہ ہو
جبریل پر بچھائیں تو پر کو خبر نہ ہو
کانٹا مِرے جگر سے غَمِ روزگار کا
یُوں کِھینچ لیجئے کہ جِگر کو خبر نہ ہو
فریاد اُمّتی جو کرے حالِ زار میں
ممکن نہیں کہ خیرِ بشر کو خبر نہ ہو
کہتی تھی یہ بُراق سے اُس کی سبک رَوی
یوں جائیے کہ گردِ سفر کو خبر نہ ہو
فرماتے ہیں یہ دونوں ہیں سردارِ دو جہاں
اے مُرتضیٰ ! عتیق و عمر کو خبر نہ ہو
ایسا گُما دے اُن کی ولا میں خدا ہمیں
ڈھونڈھا کرے پر اپنی خبر کو خبر نہ ہو
آ دِل ! حرم کو روکنے والوں سے چُھپ کے آج
یُوں اُٹھ چلیں کہ پہلُو و بر کو خبر نہ ہو
طیرِ حَرم ہیں یہ کہیں رشتہ بپا نہ ہوں
یوں دیکھیے کہ تارِ نظر کو خبر نہ ہو
اے خارِ طیبہ ! دیکھ کہ دامن نہ بھیگ جائے
یُوں دِل میں آ کہ دیدۂ تر کو خبر نہ ہو
اے شوقِ دل ! یہ سجدہ گر اُن کو روا نہیں
اچّھا ! وہ سجدہ کیجے کہ سر کو خبر نہ ہو
اُن کے سِوا، رضا ! کوئی حامی نہیں جہاں
گُزرا کرے پِسر پہ پِدر کو خبر نہ ہو
شاعر:
امام احمد رضا خان
نعت خواں:
اویس رضا قادری
اسد رضا عطاری
جبریل پر بچھائیں تو پر کو خبر نہ ہو
کانٹا مِرے جگر سے غَمِ روزگار کا
یُوں کِھینچ لیجئے کہ جِگر کو خبر نہ ہو
فریاد اُمّتی جو کرے حالِ زار میں
ممکن نہیں کہ خیرِ بشر کو خبر نہ ہو
کہتی تھی یہ بُراق سے اُس کی سبک رَوی
یوں جائیے کہ گردِ سفر کو خبر نہ ہو
فرماتے ہیں یہ دونوں ہیں سردارِ دو جہاں
اے مُرتضیٰ ! عتیق و عمر کو خبر نہ ہو
ایسا گُما دے اُن کی ولا میں خدا ہمیں
ڈھونڈھا کرے پر اپنی خبر کو خبر نہ ہو
آ دِل ! حرم کو روکنے والوں سے چُھپ کے آج
یُوں اُٹھ چلیں کہ پہلُو و بر کو خبر نہ ہو
طیرِ حَرم ہیں یہ کہیں رشتہ بپا نہ ہوں
یوں دیکھیے کہ تارِ نظر کو خبر نہ ہو
اے خارِ طیبہ ! دیکھ کہ دامن نہ بھیگ جائے
یُوں دِل میں آ کہ دیدۂ تر کو خبر نہ ہو
اے شوقِ دل ! یہ سجدہ گر اُن کو روا نہیں
اچّھا ! وہ سجدہ کیجے کہ سر کو خبر نہ ہو
اُن کے سِوا، رضا ! کوئی حامی نہیں جہاں
گُزرا کرے پِسر پہ پِدر کو خبر نہ ہو
شاعر:
امام احمد رضا خان
نعت خواں:
اویس رضا قادری
اسد رضا عطاری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں