کیوں نہ مہکیں دو جہاں مہکانے والے آ گئے | Kyun Na Mehkein Do Jahan Mehkane Wale Aa Gaye Lyrics in Urdu
کیوں نہ مہکیں دو جہاں، مہکانے والے آ گئے آنے والے آ گئے وہ آنے والے آ گئے جُھک گئے بھٹکے ہوئے سر اپنے مولا کے حضور رب سے رب کے بندوں کو مِلوانے والے آ گئے یہ وہی ہیں جن کے سر سہرہ شفاعت کا سجا عاصِیوں کی بخششیں کروانے والے آ گئے آمِنہ کے گھر میں چل، آقا کو لے لے گود میں اے حلیمہ ! تیرے دن چمکانے والے آ گئے اے سُراقہ ! قیصر و کِسریٰ کے کنگن ہاتھ میں جو تمہیں پہنائیں گے، پہنانے والے آ گئے کُھل گئے رحمت کے دروازے زمانے کے لیے رَحْمَةً لِّلْعَالَمِيں کہلانے والے آ گئے آ گئے عاشق بنانے والے اپنے کرن میں دل بلالِ حَبْش کا دھڑکانے والے آ گئے بے زباں لوگوں کو بھی اب بولنا آ جائے گا کنکروں سے گُفتگُو کروانے والے آ گئے دل پِگل جائیں گے زندہ بچّی دفناتے ہوئے پتّھروں کو پاؤں سے پِگھلانے والے آ گئے دیکھ کر مولا علی کو خود ہی خیبر بول اُٹھا مجھ پہ پرچم دین کا لہرانے والے آ گئے نعت خواں: محمد علی فیضی हिन्दी ENG اردو