اشاعتیں

Kaaf لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

کیوں نہ مہکیں دو جہاں مہکانے والے آ گئے | Kyun Na Mehkein Do Jahan Mehkane Wale Aa Gaye Lyrics in Urdu

کیوں نہ مہکیں دو جہاں، مہکانے والے آ گئے آنے والے آ گئے وہ آنے والے آ گئے جُھک گئے بھٹکے ہوئے سر اپنے مولا کے حضور رب سے رب کے بندوں کو مِلوانے والے آ گئے یہ وہی ہیں جن کے سر سہرہ شفاعت کا سجا عاصِیوں کی بخششیں کروانے والے آ گئے آمِنہ کے گھر میں چل، آقا کو لے لے گود میں اے حلیمہ ! تیرے دن چمکانے والے آ گئے اے سُراقہ ! قیصر و کِسریٰ کے کنگن ہاتھ میں جو تمہیں پہنائیں گے، پہنانے والے آ گئے کُھل گئے رحمت کے دروازے زمانے کے لیے رَحْمَةً لِّلْعَالَمِيں کہلانے والے آ گئے آ گئے عاشق بنانے والے اپنے کرن میں دل بلالِ حَبْش کا دھڑکانے والے آ گئے بے زباں لوگوں کو بھی اب بولنا آ جائے گا کنکروں سے گُفتگُو کروانے والے آ گئے دل پِگل جائیں گے زندہ بچّی دفناتے ہوئے پتّھروں کو پاؤں سے پِگھلانے والے آ گئے دیکھ کر مولا علی کو خود ہی خیبر بول اُٹھا مجھ پہ پرچم دین کا لہرانے والے آ گئے نعت خواں: محمد علی فیضی हिन्दी ENG اردو

کرم کر دو میرے آقا خدا را | Karam Kar Do Mere Aaqa Khudara Lyrics in Urdu

کرم کر دو، میرے آقا ! خُدا را سہارا دو، سہارا دو، سہارا کرم کر دو، میرے آقا ! خُدا را جو ہر غم کی دوا ہے، وہ ہے نامِ محمّد مدد کُن یا محمّد، مدد کُن یا محمّد سدا دیتا ہے تنہا غم کا مارا سہارا دو، سہارا دو، سہارا کرم کر دو، میرے آقا ! خُدا را میں کیوں دنیا میں، آقا ! سہارے ڈُھونڈتا ہُوں تیرے ہوتے ہوئے بھی میں اپنے ڈُھونڈتا ہُوں یہ غفلت ہے، یہ ہے میرا خسارہ سہارا دو، سہارا دو، سہارا کرم کر دو، میرے آقا ! خُدا را زمانے کو خبر کیا، جو ظاہر ہے وہ کیا ہے میرے دل کا فسانہ کہاں تجھ سے چُھپا ہے نہ کُھل جائے کہیں پردہ ہمارا سہارا دو، سہارا دو، سہارا کرم کر دو، میرے آقا ! خُدا را جنابِ سیّدہ ! گر سِفارِش آپ کر دیں میری آقا سُنیں گے، میری جھولی بھریں گے بھرم رہ جائے گا کچھ تو ہمارا سہارا دو، سہارا دو، سہارا کرم کر دو، میرے آقا ! خُدا را میرا کشکول بھر دیں، جُھکائے سر کھڑا ہُوں تیرے در کا گدا ہُوں، کہاں کا میں ضِیا ہُوں سدا بستہ رہے تیرا دَوَارا سہارا دو، سہارا دو، سہارا کرم کر دو، میرے آقا ! خُدا را شاعر: محمد رفیق ضیا قادری نعت خواں: محمد رفیق ضیا قادری شکیل قاد...

کون کہتا ہے کہ کربل میں نہیں تھا پانی | Kaun Kehta Hai Ki Karbal Mein Nahi Tha Paani Lyrics in Urdu

کون کہتا ہے کہ کربل میں نہیں تھا پانی کربلا والوں نے خود ہی نہیں چاہا پانی اپنے ہونٹوں کو ہِلا دیتے جو ابنِ حیدر آسمانوں سے اُسی وقت برستا پانی وہ خُدا نے تمہیں، شبّیر ! دِیا ہے رُتبہ تم اگر چاہتے تو خُلد سے آتا پانی عالمِ طفلی میں یہ آپ کی غیرت، اصغر ! جان تو دے دی مگر مُنہ سے نہ مانگا پانی نعت خواں: سید عبدالوصی قادری رضوی हिन्दी ENG اردو

کس کو معلوم ہے کس کو ہے یہ پتا | Kis Ko Maloom Hai Kis Ko Hai Ye Pata Lyrics in Urdu

کس کو معلوم ہے، کس کو ہے یہ پتا رب تعالیٰ کو محشر میں کیا چاہیے ہر کسی کو خدا کی رضا چاہیے اور خدا کو نبی کی رضا چاہیے کیسے ایماں بچائیں یہ رہتا ہے غم سب کو اپنی پڑی ہے، کہاں جائیں ہم ایسے حالات میں اور اِس دور میں پھر بریلی کا احمد رضا چاہیے تھے بہتّر مگر دبدبہ یاد کر ہے حُسینی تو پھر کربلا یاد کر ظُلْم کا سر یہاں کاٹنے کے لیے دل میں شبّیر کا حوصلہ چاہیے گِرتے گِرتے یقیناً سنبھل جائے گا میرا دعویٰ ہے غم سے نِکل جائے گا کامیابی قدم چُوم لے گی تیرے شرط ہے باپ ماں کی دُعا چاہیے وہ مُجاہد میرا ارشد القادری کاش ! آ جاتے اختر رضا ازہری ہر طرف سے یہ آنے لگی پھر صدا سُنّت کو وہی قافلہ چاہیے چھوڑ کر مصطفیٰ کو کہاں جائے گا دیکھنا روزِ محشر میں پچھتائے گا دامنِ مصطفیٰ آج ہی تھام لے خُلد میں گر تجھے داخلہ چاہیے رب نے قرآن میں کر دِیا فیصلہ عِشق ہوگا نبی سے تو ہوگا بھلا جتنے غُستاخ ہیں، جائیں گے نار میں خُلد کو عاشقِ مصطفیٰ چاہیے میرے سرکار کا جو ثنا خوان ہے شاعِروں میں الگ جس کی پہچان ہے جُھوم کر نعت پڑھتا ہے ہر بزم میں اس لیے مجھ کو عظمت رضا چاہیے شاعر: عظمت ر...

کربلا کے جاں نثاروں کو سلام | Karbala Ke Jaan Nisaron Ko Salam Lyrics in Urdu

کربلا کے جاں نِثاروں کو سلام فاطِمہ زہرا کے پیاروں کو سلام مصطفیٰ کے ماہ پاروں کو سلام نوجوانوں گُل عِذاروں کو سلام کربلا تیری بہاروں کو سلام جان نِثاری کے نظاروں کو سلام یا حُسین ابنِ علی مُشکل کُشا ! آپ کے سب جاں نِثاروں کو سلام اکبر و اصغر پہ جاں قربان ہو میرے دل کے تاجداروں کو سلام قاسم و عبّاس پر ہوں رحمتیں کربلا کے شَہ سُواروں کو سلام جس کسی نے کربلا میں جان دی اُن سبھی ایمان داروں کو سلام بُھوکی پیاسی بیبیوں پر رحمتیں بُھوکے پیاسے گُل عِذاروں کو سلام بھید کیا جانے شہادت کا کوئی اُن خُدا کے رازداروں کو سلام بے بسی میں بھی حیا باقی رہی سب حُسینی پردہ داروں کو سلام رحمتیں ہوں ہر صحابی پر مُدام اور خُصُوصاً چار یاروں کو سلام بیبیوں کو، عابِدِ بیمار کو بے کسوں کو، غم کے ماروں کو سلام ہو گئے قُرباں محمّد اور عَون سیّدہ زینب کے پیاروں کو سلام کربلا میں ظُلم کے ٹُوٹے پہاڑ جن پہ اُن سب دِل فِگاروں کو سلام آل و اصحاب نبی کے جس قدر چاہنے والے ہیں ساروں کو سلام یا خُدا ! اے کاش، جا کر پھر کرُوں کربلا کے سب مزاروں کو سلام تین دِن کے بھوکے پیاسے آپ کے یا نبی ...

کربلا سے مری لو لگی ہے | Karbala Se Meri Lau Lagi Hai Lyrics in Urdu

مجھ کو، شبّیر ! اپنا بنا لو کربلا سے مِری لَو لگی ہے اب تو نظرِ کرم مجھ پہ ڈالو کربلا سے مِری لَو لگی ہے خُوب تَر زخم کھایا ہُوا ہُوں دہر کا میں ستایا ہُوا ہُوں ڈال دو مجھ پہ نظرِ عنایت دِل کا دِیپک جلایا ہُوا ہُوں بحرِ غم سے مجھے اب نِکالو کربلا سے مِری لَو لگی ہے آ گیا پھر سے ماہِ مُحرّم یعنی ذکرِ شہادت کا موسم اے قسیمِ ولایت ! تَوَجُّہ کہہ رہی ہے یہی چشمِ پُرنم میری جھولی میں خیرات ڈالو کربلا سے مِری لَو لگی ہے دل کی دنیا میں پھر کھلبلی ہے کیا کہوں کیسی بھگدڑ مچی ہے غرق ہونے کو ہے اب سفینہ پھر سے بادِ مُخالف چلی ہے ڈوبنے سے مجھے تم بچا لو کربلا سے مِری لَو لگی ہے ہر سُو نہرِ فتن پُھوٹتے ہیں کنزِ ایمان کو لُوٹتے ہیں کس قدر پُرخطر دور آیا ہر طرف بھیڑیے گُھومتے ہیں اپنے دامن میں مجھ کو چُھپا لو کربلا سے مِری لَو لگی ہے کر دو میرا جِگر نُوری نُوری دے دو مجھ کو بھی اذنِ حضُوری واسطہ سیّدہ فاطمہ کا میرے دل کی یہ حسرت ہو پُوری اپنے در کا مجھے سگ بنا لو کربلا سے مِری لَو لگی ہے جُرم کوئی میرا دھو رہا ہے دنیائے دِل میں کچھ ہو رہا ہے تاجدارِ شہیداں کرم ہو ...

کونین کے دولہا کے صدقے میں خدائی ہے | سنتے ہیں کہ محشر میں تضمین کے ساتھ | Kaunain Ke Dulha Ke Sadqe Mein Khudai Hai Lyrics in Urdu

کونین کے دولہا کے صدقے میں خُدائی ہے محبوبِ کریما نے ہاں شان وہ پائی ہے مولا نے فَتَرۡضٰی خوشخبری سُنائی ہے سُنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رَسائی ہے گر اُن کی رَسائی ہے لو جب تو بن آئی ہے رحمت نے سرِ محشر کیا رنگ جمائی ہے سوغاتِ کرم دیکھو لَا تَقۡنَطُوۡا لائی ہے آقا کی شفاعت نے کیا دُھوم مچائی ہے مچلا ہے کہ رحمت نے اُمّید بندھائی ہے کیا بات تِری، مجرم ! کیا بات بَنائی ہے اعمالِ سیہ نے جب پِھٹکار دِیا ہم کو ہم کیا کہیں اپنوں نے کیا پیار دِیا ہم کو ماں باپ نے بھی، آقا ! دُھتکار دِیا ہم کو سب نے صفِ محشر میں لَلکار دِیا ہم کو اے بے کسوں کے آقا ! اب تیری دُہائی ہے سرکار کی عظمت کا جب ذکرِ جلی چھیڑو بازارِ محبّت میں پھر ہوش و خِرَد بھیجو گلدستۂ تَن مَن دَھن ہر چیز ہی، اے لوگو! یُوں تو سب اُنہیں کا ہے، پَر دِل کی اگر پُوچھو یہ ٹوٹے ہوئے دِل ہی خاص اُن کی کمائی ہے یوں بزمِ محبّت سے ہرگز نہ تُو خالی اُٹھ محبوب کی چوکھٹ سے لے کر کے، سوالی ! اُٹھ سرکارِ مدینہ کے اے قلبِ فدائی ! اُٹھ اے دِل ! یہ سُلگنا کیا، جلنا ہے تو جل بھی اُٹھ دَم گُھٹنے لگا، ظالِم ! کیا دُھونی رَما...

کچھ دیر تو بیٹھو اہل دل ہم نور ہدیٰ کی بات کریں | Kuchh Der To Baitho Ahl-e-Dil Lyrics in Urdu

کچھ دیر تو بیٹھو، اہلِ دل ! ہم نُورِ ہُدیٰ کی بات کریں سرکارِ دو عالم صلّی علیٰ محبوبِ خدا کی بات کریں وہ جِن سے مُنَوّر دونوں جہاں وہ جن سے مِٹی ظُلمتِ شب کی تحفے میں جنہیں قرآن مِلا اُن جانِ فدا کی بات کریں وَالشَّمس ہے چہرۂ انور اور واللَّیل ہیں گیسو حضرت کے کونین کی محفل جِن سے سجی وہ سب سے جُدا کی بات کریں القاب مِلے طٰہٰ یٰسین مُزَمّل و مکّی مدنی بھی اور اسوۂ حسنہ جس کو کہا اُس رب کی صدا کی بات کریں غم خوار ہیں آقا اُمّت کے سردارِ عُلیٰ ہیں جنّت کے وہ رحمتِ عالم نُورِ مُبیں شفقت کی رِداء کی بات کریں ہو عظمت و رفعت کیسے بیاں معراج تلک ہیں جا پہنچے ہم سـاقئ آبِ کوثر کے اخلاق و ادا کی بات کریں ہم جیسے گنہگاروں کے لیے وہ رب سے سِفارش کر دیں گے بہبود کی جو گونجی ہے، فِضا ! اُس حق کی نِدا کی بات کریں شاعرہ: فضا فانیہ نعت خواں: مفتی انس یونس हिन्दी ENG اردو

کعبہ دکھا دے مولا | Kaba Dikha De Maula Lyrics in Urdu

کعبہ دِکھا دے، مولا ! مولا ! کعبہ دِکھا دے، مولا ! عُمْر بچی ہے میری کہاں مر ہی نہ جاؤں، مولا ! یہاں کعبہ دِکھا دے، مولا ! مولا ! کعبہ دِکھا دے، مولا ! کبھی گِرد کعبے کے میں بھی تو گُھومُوں کبھی میں بھی کعبے کی چادر کو چُومُوں مجھے بھی دِکھا دے، خدایا ! حرم وہ برستی ہے رحمت کی بارِش جہاں کعبہ دِکھا دے، مولا ! مولا ! کعبہ دِکھا دے، مولا ! کبھی سنگِ اسود کا بوسہ عطا ہو کہ مرنے سے پہلے ختم ہر خطا ہو تمنّا مِرے رب یہ پُوری تُو کر دے اِسی جُستجُو میں ہُوں جیتا یہاں کعبہ دِکھا دے، مولا ! مولا ! کعبہ دِکھا دے، مولا ! میں اکثر ہی یادوں میں کعبے کو پہنچا میں کتنا ہُوں تڑپا، میں کتنا ہُوں رویا ہے بے چین، مولا ! یہ دل میرا کتنا کروں کیسے میں یہ لبوں سے بیاں کعبہ دِکھا دے، مولا ! مولا ! کعبہ دِکھا دے، مولا ! بہت ہو کے آئے ہیں دیکھو وہاں سے کہ میں صرف جا ہی نہ پایا یہاں سے زِیارت حرم کی ہے کِتنوں نے کر لی تِری اب نگاہِ کرم ہو یہاں کعبہ دِکھا دے، مولا ! مولا ! کعبہ دِکھا دے، مولا ! بہت لوگ جاتے ہیں ایسے حرم کو کہ جیسے حرم ہو قدم دو قدم کو بڑا خوب اُن کا مُقَدَّر ہے، ...

کعبہ ہے تیرا بڑا محترم | Kaba Hai Tera Bada Mohtaram Lyrics in Urdu

میرے خُدا اے رہنما ! تیرے لئے ہی ہے حمد و ثنا اے بادشاہ ! کعبہ تیرا، ہے تیرے بندوں کی جائے پناہ کعبہ ہے تیرا بڑا محترم دِکھتا یہاں ہے نشانِ کرم ہے تیرے بندوں پہ تیری عطا جو آج کرتے یہاں سر ہیں خم لبّیک کی ہے لبوں پہ صدا لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه تکبیر سے ہے مُعَطّر فضا لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه کعبہ تیرا جس جا آباد ہے اسلام کی جائے بُنیاد ہے سارے جہاں کا ہے مرکز یہی دنیا یہاں سے ہی آباد ہے تیرے خلیل کی یہ یاد ہے اب بُت پرستوں سے آزاد ہے کعبہ ہے تیرا بڑا محترم دِکھتا یہاں ہے نشانِ کرم لبّیک کی ہے لبوں پہ صدا لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه تکبیر سے ہے مُعَطّر فضا لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه احرام میں سب ہیں اِک رنگ میں آتے نظر سب ہیں اِک ڈھنگ میں کوئی کھڑا ہے کوئی دوڑتا سب ہیں یہاں اپنے آہنگ میں ادنیٰ ہے کوئی نہ اعلیٰ کوئی در پر تیرے ہیں برابر سبھی کعبہ ہے تیرا بڑا محترم دِکھتا یہاں ہے نشانِ کرم لبّیک کی ہے لبوں پہ صدا لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه تکبیر سے ہے مُعَطّر فضا لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه گورے بھی آئے ہیں کالے بھی ہیں دُکھ درد اپنے سُنانے کو ہیں عربی ہو یا پھ...

کون ہے جو یہ التجا نہ کرے | دل کو ان سے خدا جدا نہ کرے تضمین کے ساتھ | Kaun Hai Jo Ye Iltija Na Kare Lyrics in Urdu

کون ہے جو یہ اِلتجا نہ کرے کون اُن کے لئے مَرا نہ کرے کون رو رو کے یہ دُعا نہ کرے دِل کو اُن سے خدا جُدا نہ کرے بیکسی لوٹ لے خدا نہ کرے عِشق کا سر پہ ڈال کر کے غِلاف بات اہلِ خرد یہ سُن لیں صاف کام ہے کون سا شرع کے خِلاف اس میں رَوضہ کا سجدہ ہو کہ طواف ہوش میں جو نہ ہو وہ کیا نہ کرے رات دن ہم گُنہ میں ڈُوبے ہیں جُرم جتنے ہیں سارے کرتے ہیں پھر بھی آقا کریم ایسے ہیں یہ وہی ہیں کہ بخش دیتے ہیں کون ان جرموں پر سزا نہ کرے عِشق نے کر دِیا مجھے مشہور اُن کی یادوں سے ذہن ہے معمور مجھ کو اِس بات پہ ہے فخر ضرور دِل میں روشن ہے شمعِ عشقِ حضور کاش ! جوشِ ہوس ہوا نہ کرے زخم سینے کے سارے سینے کو جو یہاں مَر رہے تھے جینے کو اے وصی ! جامِ عشق پینے کو لے، رضا ! سب چلے مدینے کو میں نہ جاؤں ارے خدا نہ کرے کلام: امام احمد رضا خان تضمین: سید عبد الوصی قادری رضوی نعت خواں: سید عبد الوصی قادری رضوی हिन्दी ENG اردو

کعبے پہ پڑی پہلی نظر تم کو مبارک | Kabe Pe Padi Pehli Nazar Tum Ko Mubarak Lyrics in Urdu

کعبے پہ پڑی پہلی نظر تم کو مبارک اے حاجیو ! یہ حج کا سفر تم کو مبارک مُزْدلِفہ ہے، عرفات ہے، مَروہ ہے، صَفا ہے یہ پاک یہ پاکیزہ نگر تم کو مبارک اے حاجیو ! یہ حج کا سفر تم کو مبارک کعبے پہ پڑی پہلی نظر تم کو مبارک اے حاجیو ! یہ حج کا سفر تم کو مبارک اب اور طلب کیا ہے تیری زائرِ کعبہ ہے فرشِ حرم پر تیرا سر، تم کو مبارک اے حاجیو ! یہ حج کا سفر تم کو مبارک کعبے پہ پڑی پہلی نظر تم کو مبارک اے حاجیو ! یہ حج کا سفر تم کو مبارک ہیں خاکِ مدینہ کے تیرے ہاتھ میں ذرّے یہ لال، یہ ہیرے، یہ گُہر تم کو مبارک اے حاجیو ! یہ حج کا سفر تم کو مبارک کعبے پہ پڑی پہلی نظر تم کو مبارک اے حاجیو ! یہ حج کا سفر تم کو مبارک تم مسجدِ نبوی کے احاطے میں کھڑے ہو یہ نوریوں کی راہ گُزر تم کو مبارک اے حاجیو ! یہ حج کا سفر تم کو مبارک کعبے پہ پڑی پہلی نظر تم کو مبارک اے حاجیو ! یہ حج کا سفر تم کو مبارک فارُوقی ! سبھی حاجیوں سے کہتے ہیں قُدسی سجدوں کے لِیے رب کا یہ گھر تم کو مبارک اے حاجیو ! یہ حج کا سفر تم کو مبارک کعبے پہ پڑی پہلی نظر تم کو مبارک اے حاجیو ! یہ حج کا سفر تم کو مبارک شاعر: سہ...

کام آپ کا بندوں کو سدا رب سے ملانا | سرکار مدینہ | Kaam Aap Ka Bandon Ko Sada Rab Se Milana Lyrics in Urdu

کام آپ کا بندوں کو سدا رب سے مِلانا سرکارِ مدینہ ! سرکارِ مدینہ ! کیوں آپ پہ قربان نہ ہو سارا زمانہ سرکارِ مدینہ ! سرکارِ مدینہ ! آپ آئے تو آنے لگیں راحت کی ہَوائیں آپ آئے تو چھانے لگیں رحمت کی گھٹائیں ہر ایک کو حاصِل ہُوا خوشیوں کا خزانا سرکارِ مدینہ ! سرکارِ مدینہ ! سر پر ہے سجا ختمِ نَبُوّت کا حسیں تاج اللہ نے بخشی ہے فقط آپ کو معراج قرآن میں ہے آپ کی عظمت کا ترانا سرکارِ مدینہ ! سرکارِ مدینہ ! ہم بُھول نہیں سکتے ہیں طائِف کا وہ منظر مارے گئے پتّھر پہ جہاں آپ کو پتّھر روکے سے نہیں رُک گیا وہ اشک بہانا سرکارِ مدینہ ! سرکارِ مدینہ ! کی آپ نے اقصیٰ میں رسُولوں کی اِمامت صف باندھے کھڑی پیچھے تھی نبیوں کی جماعت بُرّاق پہ پھر آپ ہوئے عرش روانہ سرکارِ مدینہ ! سرکارِ مدینہ ! عُشّاق کی دن رات یہی رب سے گُزارش خواہش ہے اگر کوئی تو وہ آپ کی خواہش ہو آپ کی نگری میں ہمارا بھی ٹِھکانا سرکارِ مدینہ ! سرکارِ مدینہ ! کیونکر وہ کِسی اور کے رستے پہ چلے گا کیونکر وہ کسی اور کی سیرت میں ڈھلے گا ہے دل سے عزیز آپ کا ہی ایک دِوانہ سرکارِ مدینہ ! سرکارِ مدینہ ! شاعر: عبدالعزیز...

کرم ہو کرم تاجدار مدینہ | Karam Ho Karam Tajdar-e-Madina Lyrics in Urdu

اے گُنبدِ خضرا کے مکیں ! میری مدد کر یا پھر یہ بتا کون میرا تیرے سِوا ہے کرم ہو کرم، تاجدارِ مدینہ ! کرم چاہتے ہیں کرم کے بِھکاری شہنشاہِ کونین طیبہ کے والی ! میں قُربان تم پر، میری جان واری حبیبِ خُدا ساقیٔ حوضِ کوثر ! خُدارا غُلاموں پہ چشمِ کرم ہو ہمیں آج دے دو نواسوں کا صدقہ کہ مُدّت سے خالی ہے جھولی ہماری میرا دل بھی لبّیک بولے کِسی دن کبھی سبز گُنبد کو دیکھوں میں جا کر مجھے اپنے روضے پہ بُلوا لو، آقا ! ہیں سارے جہاں پر نِگاہیں تمہاری مُقَدّر جو جاگے تو اِس طرح جاگے مدینے میں جاؤں تو اِس طرح جاؤں درودوں کی سوغات ہو پاس میرے محمّد محمّد لبوں پر ہو جاری ہے قرآن ساری کِتابوں سے افضل خلِش نے پڑھا ہے یہ قرآں میں، آقا ! سجایا گیا سِدرۃُ الْمُنتہیٰ کو فلک پر جو پہنچی سواری تمہاری نعت خواں: اسد رضا عطاری हिन्दी ENG اردو

کوئی سو بار پوچھے میں کہوں ہر بار کافی ہے | Koi Sau Baar Poochhe Main Kahun Har Baar Kafi Hai Lyrics in Urdu

کوئی سو بار پُوچھے، میں کہُوں ہر بار کافی ہے میں دیوانہ ہُوں، مجھ کو بس تیرا دیدار کافی ہے مسیحائے زمانہ نے کِیا واپس مجھے کہہ کر مریضِ یار ! جا تجھ کو نگاہِ یار کافی ہے پہنچ کر تیری چوکھٹ پر تیرا دیوانہ کہتا ہے مجھے جنّت سے کیا لینا، تیرا دربار کافی ہے زمانے کے ہر اِک مرحب کو مٹّی میں مِلانا ہو سرِ میداں خیالِ حیدرِ کرّار کافی ہے لکھی نعتِ نبی پھانسی کا پھندا چُوم کر جس نے وہ ہندوستان کا شاعر قتیلِ دار کافی ہے سِکھایا جو وظیفہ والدہ نے غوثِ اعظم کو غُلامو ! کافی کافی کی یہی تکرار کافی ہے جو غدّارِ نبی کو زیر کرنا ہو، وصی ! پھر تو امام احمد رضا کے نام کا اِک وار کافی ہے شاعر: سید عبد الوصی قادری رضوی نعت خواں: سید عبد الوصی قادری رضوی हिन्दी ENG اردو

کہہ دینا سرکار سے سلام ہمارا سلام ہمارا | Keh Dena Sarkar Se Salam Hamara Salam Hamara Lyrics in Urdu

لے کے جب آئیں حاجی اُن کے دَر کا حسیں نظارہ کہہ دینا سرکار سے سلام ہمارا، سلام ہمارا وہ ہیں جانِ کعبہ، وہ ہیں شاہِ دوعالم دیکھ کے جن کا جلوہ جھومے عرشِ اعظم نبیوں میں کوئی بھی نہیں ہے اُن کے جیسا نیارا کہہ دینا سرکار سے سلام ہمارا، سلام ہمارا اُن کے در پہ جا کے ہوش نہ اُڑنے پائے دل کی ہر دھڑکن پہ رنگِ جُنُوں نہ چھائے بے ادبی محبوب کے در کی رب کو نہیں گوارا کہہ دینا سرکار سے سلام ہمارا، سلام ہمارا نشید خواں:  جاوید رضا हिन्दी ENG اردو

کہاں ہو یا رسول اللہ کہاں ہو | Kahan Ho Ya Rasoolallah Kahan Ho Lyrics in Urdu

کہاں ہو، یا رسول اللہ ! کہاں ہو مِری آنکھوں سے کیوں ایسے نِہاں ہو گدا بن کر میں ڈھونڈوں تم کو دَر دَر مِرے آقا ! مجھے چھوڑا ہے کس پر اگر میں خواب میں دیدار پاؤں لِپٹ قدموں سے بس قربان جاؤں تمنّا ہے تمھارے دیکھنے کی نہیں ہے اس سے بڑھ کر کوئی نیکی بسو دل میں، سما جاؤ نظر میں ذرا آ جاؤ اس ویرانہ گھر میں بنا دو میرے سینے کو مدینہ نکالو بحرِ غم سے یہ سفینہ مِری بگڑی ہوئی حالت بنا دو مِری سوئی ہوئی قسمت جگا دو تمھارے سینکڑوں ہم سے گدا ہیں ہمارے آپ ہی اِک آسرا ہیں کِھلائیں نعمتیں مجھ بے ہنر کو دِیا آرام مجھ گندے بشر کو نہیں ہے ساتھ میرے کوئی توشہ کٹھن منزل، تمھارا ہے بھروسہ کُھلیں جب روزِ محشر میرے دفتر رہے پردہ مِرا، محبوب داور ! میں بے زَر، بے ہنر، بے پَر ہُوں، سالک ! مگر اُن کا ہُوں وہ ہیں میرے مالک شاعر: مفتی احمد یار خان نعیمی نعت خواں: اسد رضا عطاری علامہ حافظ بلال قادری हिन्दी ENG اردو

کس بلندی پہ ستارہ ہے میرا بچپن سے | Kis Bulandi Pe Sitara Hai Mera Bachpan Se Lyrics in Urdu

نامِ محمّد صلِّ عَلےٰ آنکھوں کی ٹھنڈک، دِل کی جِلا آؤ اُن کا ذِکر کریں جو ہیں دافعِ رنج و بلا کِس بُلندی پہ سِتارہ ہے میرا بچپن سے ذکرِ سرکار حوالہ ہے میرا بچپن سے میں نے دیکھی نہیں غُربت کبھی اپنے گھر میں اُن کے ٹُکڑوں پہ گُزارہ ہے میرا بچپن سے ذکرِ سرکار حوالہ ہے میرا بچپن سے کِس بُلندی پہ سِتارہ ہے میرا بچپن سے ذکرِ سرکار حوالہ ہے میرا بچپن سے اُن کی رحمت سے ہی بنتے ہیں میرے کام سبھی اُن کی نسبت ہی وسیلہ ہے میرا بچپن سے ذکرِ سرکار حوالہ ہے میرا بچپن سے کِس بُلندی پہ سِتارہ ہے میرا بچپن سے ذکرِ سرکار حوالہ ہے میرا بچپن سے یا نبی یا نبی کرتے ہوئے دِن گُزرے ہیں یہی اِک وِرد وظیفہ ہے میرا بچپن سے ذکرِ سرکار حوالہ ہے میرا بچپن سے کِس بُلندی پہ سِتارہ ہے میرا بچپن سے ذکرِ سرکار حوالہ ہے میرا بچپن سے آل کے ساتھ صحابہ کا بھی لازِم ہے ادب صاف سُتھرا یہ عقیدہ ہے میرا بچپن سے ذکرِ سرکار حوالہ ہے میرا بچپن سے کِس بُلندی پہ سِتارہ ہے میرا بچپن سے ذکرِ سرکار حوالہ ہے میرا بچپن سے یہ دُعا مانگو کہ ٹوٹے نہ کبھی فارُوقی اُن کی یادوں سے جو رِشتہ ہے میرا بچپن سے ذکرِ سرکار...

کرسی پر کوئی بھی بیٹھے راجہ تو میرا خواجہ ہے | Kursi Par Koi Bhi Baithe Raja To Mera Khwaja Hai Lyrics in Urdu

یا خواجہ ! یا خواجہ ! یا خواجہ ! یا خواجہ ! خواجہ ! یا خواجہ ! خواجہ ! یا خواجہ ! میں گدائے خواجۂ چشت ہوں، مجھے اِس گدائی پہ ناز ہے میرا ناز خواجہ پہ کیوں نہ ہو، میرا خواجہ بندہ نواز ہے اُس کے کرم کے سب ہیں بِھکاری، کیا راجہ مہاراجہ ہے کُرسی پر کوئی بھی بیٹھے، راجہ تو میرا خواجہ ہے سارے ہند کا ہے راجہ میرا خواجہ مہاراجہ سارے ہند کا ہے راجہ میرا خواجہ مہاراجہ حیدر کا لاڈلا ہے، وہ زہرا کا لال ہے بے شک میرا مُعین محمّد کی آل ہے دیوانوں کو کِس بات کا آخر ملال ہے خواجہ کو اپنی پرجا کا پُورا خیال ہے مُعین الدّین... کُرسی پر کوئی بھی بیٹھے، راجہ تو میرا خواجہ ہے سارے ہند کا ہے راجہ میرا خواجہ مہاراجہ ہر آنکھ چاہتی ہے زِیارت مُعین کی ہر دِل میں بس گئی ہے محبّت مُعین کی اس سر زمینِ ہند کے شاہوں نے کہہ دِیا محشر تلک رہے گی حکومت مُعین کی مُعین الدّین... کُرسی پر کوئی بھی بیٹھے، راجہ تو میرا خواجہ ہے سارے ہند کا ہے راجہ میرا خواجہ مہاراجہ ہم غریبوں کی صداؤں نے بُلایا ہے تجھے ہند کا شاہ محمّد نے بنایا ہے تجھے کیسے آئے گا کوئی حرف حکومت پہ تیری پنجتن پاک نے کُرسی پہ بِٹھا...

کیوں چاند میں کھوئے ہو الجھے ہو ستاروں میں | Kyun Chand Mein Khoye Ho Uljhe Ho Sitaron Mein Lyrics in Urdu

کیوں چاند میں کھوئے ہو، اُلجھے ہو سِتاروں میں آقا کو مِرے ڈُھونڈو قرآن کے پاروں میں اُن کے ہی پسینے کی خوشبو ہے بہاروں میں اُن کی ہی تجلّی ہے اِن چاند سِتاروں میں سرکارِ دو عالم کی اُلفت میں جو مرتے ہیں اللہ کے وہ بندے زندہ ہیں مزاروں میں اے کاش ! کبُوتر ہی ہم بن کے رہے ہوتے اس گنبدِ خضرا کے پُر نُور مِناروں میں جبریلِ امیں بولے، سِدرہ کے مکیں بولے تم سا نہ حسیں دیکھا لاکھوں میں ہزاروں میں رِضواں ! تِری جنّت کو دیکھوں جو مِلے فُرصت کھوئی ہیں ابھی نظریں طیبہ کے نظاروں میں آ تجھ کو بتا دوں کہ جنّت کسے کہتے ہیں آ بیٹھ ذرا مِل کر ہم درد کے ماروں میں اللہ نے اُمّت کی بخشش کا کِیا وعدہ محبوب کو جب دیکھا روتے ہوئے غاروں میں طیبہ کے فقیروں کی ٹھوکر میں زمانہ ہے تاریخ بتاتی ہے یہ راز اِشاروں میں نعت خواں: تسنیم عارف سید ریحان قادری جاوید رضا हिन्दी ENG اردو