اشاعتیں

Be لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

بقائے اللہ اکبر حسین کا خیمہ | Baqa-e-Allahu Akbar Hussain Ka Khaima Lyrics in Urdu

بقائے اللہ اکبر حُسین کا خیمہ نبی کے دین کا محور حُسین کا خیمہ نبی کا دین ٹِکا ہے اِنہی سُتُونوں پر ہے جن سُتُونوں کے اُوپر حُسین کا خیمہ بڑے بڑوں سے بچایا گیا نہ تختِ یزید بچا کے لے گئے اصغر حُسین کا خیمہ غلاظتوں کے اندھیرے یزیدی خیموں میں عبادتوں سے مُنَوَّر حُسین کا خیمہ جنابِ سیّدہ زہرا نے اِس کو اوڑھا ہے یہ جو لپیٹے ہے چادر حُسین کا خیمہ اسی میں رہتے ہیں شیرِ خدا کے شیر سبھی سنبھل کے دیکھ، اے لشکر ! حُسین کا خیمہ لگا رہا ہے یہ نعرہ "حُسین زندہ باد" یزیدی محل پہ چڑھ کر حُسین کا خیمہ جو ہاتھ بڑھتا ہے ناموسِ دین کی جانب تو کاٹ دیتا ہے بڑھ کر حُسین کا خیمہ کھڑا ہے فخر سے صبر و رضا کے پیکر میں زمینِ کرب و بلا پر حُسین کا خیمہ کھڑے ہیں طالبِ بیعت جُھکائے سر اپنا کھڑا ہے سر کو اُٹھا کر حُسین کا خیمہ یہ جب سے چاند مُحَرَّم کا آ گیا ہے نظر بنا ہُوا ہے میرا گھر حُسین کا خیمہ سوارِ دوشِ پیمبر اِسی کے اندر ہیں بلند کیوں نہ ہو، اظہر ! حُسین کا خیمہ شاعر: اظہر فاروقی بریلوی نعت خواں: غلام غوث غزالی हिन्दी ENG اردو

باطل کے سامنے جو نہ ہارا حسین ہے | Batil Ke Samne Jo Na Hara Hussain Hai Lyrics in Urdu

باطِل کے سامنے جو نہ ہارا حُسین ہے اُمّت کا جس نے بَخْت سنوارا حُسین ہے دینِ نبی کا عرش پہ تارا حُسین ہے سَر دے کے جس نے دین سنوارا حُسین ہے مولا حُسین ہے، مولا حُسین ہے مولا حُسین ہے، مولا حُسین ہے سجدے میں سَر جُھکا کے، سچّے رسُول زادے ! دُنیا بدل دی تم نے، اے حق کے شاہزادے ! اِسلام کی رگوں میں خُوں دان کر دِیا ہے دینِ نبی کا عرش پہ تارا حُسین ہے سر دے کے جس نے دین سنوارا حُسین ہے مولا حُسین ہے، مولا حُسین ہے مولا حُسین ہے، مولا حُسین ہے آئے ہیں کربلا میں حُسین ابنِ حیدر بنے ہیں یہ جہاں کے مولا حُسین رہبر نیزے پہ جس نے دیکھو قرآن پڑھ دِیا ہے مولا حُسین ہے، مولا حُسین ہے مولا حُسین ہے، مولا حُسین ہے حیدر کا لاڈلا ہے، زہرا کا ہے وہ جایا کندھے پہ مصطفیٰ نے مولا کو ہے بِٹھایا رُتبہ ہے جن کا رب نے کونین میں بڑھایا مولا حُسین ہے، مولا حُسین ہے مولا حُسین ہے، مولا حُسین ہے مِدحت لِکھی ہے تم نے، احمد ! جو شاہِ دیں کی خوشبو مہک اُٹھی ہے افلاک اور زمیں کی مولا نے دیکھو تم پر فیضان کر دِیا ہے مولا حُسین ہے، مولا حُسین ہے مولا حُسین ہے، مولا حُسین ہے شاعر: محمد ا...

بولے نبی یہ دیکھ کر کتنا حسیں میرا حسین | Bole Nabi Ye Dekh Kar Kitna Haseen Mera Hussain Lyrics in Urdu

دل سے ہے پیارا حُسین، میرا سہارا حُسین دل سے ہے پیارا حُسین، میرا سہارا حُسین بولے نبی یہ دیکھ کر، کِتنا حَسیں میرا حُسین زہرا کا یہ لَخْتِ جگر، کِتنا حَسیں میرا حُسین سجدے میں تھے پیارے نبی، تسبیح پھر بڑھتی گئی بیٹھا جو آ کے پُشْت پر کِتنا حَسیں میرا حُسین شعبان میں زہرا کے گھر، آیا وِلایت کا قَمر قُدسی کھڑے دہلیز پر، کِتنا حَسیں میرا حُسین کیا خُوب ہے اِن کا چمن، بھائی ہوئے مولا حَسن حیدر کا ہے نُورِ نظر کِتنا حَسیں میرا حُسین بہتا رہا رَن میں لہُو، سجدے میں رب سے گُفتگُو تجھ پہ کِیا قُربان گھر، کِتنا حَسیں میرا حُسین اِس بندۂ ناچیز کو، تم نے اُجاگر کر دیا لِکّھا وفا میں ڈُوب کر، کِتنا حَسیں میرا حُسین شاعر: علامہ نثار علی اجاگر نعت خواں: حافظ طاہر قادری हिन्दी ENG اردو

بڑا محبوب گھرانہ علی حیدر کا گھرانہ | Bada Mehboob Gharana Ali Haider Ka Gharana Lyrics in Urdu

میرا عشق علی، میری جان علی میرا عشق علی، میری جان علی بڑا محبوب گھرانہ، علی حیدر کا گھرانہ غُلام اِن کا ہے زمانہ، علی حیدر کا گھرانہ مَن کُنتُ مَولا ! علی علی ! آقا نے بولا ! علی علی ! میں جس کا مولا ! علی علی ! ہے اُس کا مولا ! علی علی ! زہرا کا شوہر ! علی علی ! حسنین کا بابا ! علی علی ! ہم سب نے پُکارا ! علی علی مولا ! بڑا محبوب گھرانہ، علی حیدر کا گھرانہ کِیا ہر کام اُسی کی رضا میں راضی رہ کر خُدا کے دین کی خاطر ہزاروں صدمے سہہ کر کرے ہر دم شُکرانہ، علی حیدر کا گھرانہ بڑا محبوب گھرانہ، علی حیدر کا گھرانہ کدی مِنبر تے کھڑ کے، کدی میداں تے لڑ کے کدی نیزے تے چڑھ کے، کدی خُطبے پڑھ پڑھ کے سِکھاوے دین بچانا، علی حیدر دا گھرانہ بڑا محبوب گھرانہ، علی حیدر دا گھرانہ پُکارا جب مُشکِل میں، اِنہوں نے کی لجپالی سبھی منگتوں کی پَل میں بھری ہے جھولی خالی جُھکا جس در پہ زمانہ، علی حیدر کا گھرانہ بڑا محبوب گھرانہ، علی حیدر کا گھرانہ اوہدا حجوری گداگر، تے غوث و خواجہ نوکر دیوے عطّار سلامی، تے سگ شہباز قلندر ہے بنیا سب دا ٹِھکانا، علی حیدر دا گھرانہ بڑا محبوب گھرانہ، علی حی...

بے طلب بھیک یہاں ملتی ہے آتے جاتے | یہ وہ در ہے کہ جہاں دل نہیں توڑے جاتے | Betalab Bheek Yahan Milti Hai Aate Jate Lyrics in Urdu

بے طلب بھیک یہاں مِلتی ہے آتے جاتے یہ وہ در ہے کہ جہاں دل نہیں توڑے جاتے یہ ہے آقا کی عنایت، وہ کرم کرتے ہیں ورنہ ہم جیسے کہاں در پہ بُلائے جاتے وہ میرے دل کے دھڑکنے کی صدا سُنتے ہیں اِس لِیے لفظ زباں پر نہیں لائے جاتے اُن کی دہلیز کے منگتے ہیں، بڑی موج میں ہیں ہم سے اغیار کے ٹُکڑے نہیں کھائے جاتے یہ تو سرکار کی رحمت نے ہمیں تھام لِیا ورنہ در در پہ یوں ہی ٹھوکریں کھائے جاتے وہ نقابِ رُخِ روشن جو اُٹھاتے جاتے میری بِگڑی ہوئی تقدیر بناتے جاتے کاش ! اپنا بھی مدینے میں کوئی گھر ہوتا دیکھتے روضۂ سرکار کو آتے جاتے شہرِ سرکار کی ہم خاک کے ذرّے ہوتے آپ کی راہ میں بِکھرے ہوئے پائے جاتے اپنا مدفن بھی مُقَدّر سے جو بن جاتا بقیع حشر میں آپ کے قدموں سے اُٹھائے جاتے قافلے والو ! ذرا ٹھہرو، میں آتا ہُوں ابھی ایک اور نعت سُنا لُوں اُنہیں جاتے جاتے شمعۂ دین نہ اِس شان سے روشن ہوتی خُونِ اصغر سے نہ گر دیپ جلائے جاتے ہم کہاں ہوتے، کہاں ہوتی یہ محفل، الطاف ! خاکِ کربل پہ اگر سر نہ کٹائے جاتے شاعر: سید الطاف شاہ کاظمی نعت خواں: سید الطاف شاہ کاظمی خالد حسنین خالد سید عبد ا...

بنایا مجھ کو اپنا ہے ترا احسان ہے مرشد | Banaya Mujh Ko Apna Hai Tera Ehsan Hai Murshid Lyrics in Urdu

بنایا مجھ کو اپنا ہے، تِرا احسان ہے مُرشِد ! مِلا مجھ کو یہ رُتبہ ہے، تِرا احسان ہے مُرشِد ! تِری نسبت نے مجھ کو کر دیا ہے کیا سے کیا، مُرشِد ! رکھا کیا مجھ میں ورنہ ہے، تِرا احسان ہے مُرشِد ! بھٹکتا پھر رہا تھا دشتِ عصیاں میں یونہی بے کس دِکھایا تو نے رَستہ ہے، تِرا احسان ہے مُرشِد ! یہ فیشن کا تھا شیدائی، یونہی پھرتا تھا ننگے سر یہ جو سر پر عمامہ ہے، تِرا احسان ہے مُرشِد ! زباں پر گالیاں، ہونٹوں پہ گانے تھے کبھی جاری یہ جو لب پر مَدینہ ہے، تِرا احسان ہے مُرشِد ! یہ نِگراں ہے، یہ حافظ ہے، یہ قاری، یہ مُبَلِّغ ہے سبھی پہ تیرا سایہ ہے، تِرا احسان ہے مُرشِد ! نمازوں کی حفاظت کا، عبادت کا، تِلاوت کا مِلا جو بھی یہ جذبہ ہے، تِرا احسان ہے مُرشِد ! یہ مدنی قافلوں کا، مدنی انعامات کا تُو نے دِیا اُمّت کو تحفہ ہے، تِرا احسان ہے مُرشِد ! حیا کی چادرِ نعمت عطا کر دی اُسے تُو نے یہ کرتی اب جو پردہ ہے، تِرا احسان ہے مُرشِد ! یہ ہائے کیا میں کرتا ہُوں، تجھے ناراض کرتا ہُوں مجھے پھر بھی نبھایا ہے، تِرا احسان ہے مُرشِد ! میں ہُوں منگتا تِرا، مُرشِد ! کسی جانب میں کیوں دیکھوں لگا...

نہ کلیم کا تصور نہ خیال طور سینا | بولو مدینہ مدینہ مدینہ | Na Kaleem Ka Tasawwur Na Khayal-e-Toor-e-Seena Lyrics in Urdu

بولو مدینہ مدینہ مدینہ بولو مدینہ مدینہ مدینہ نہ کلیم کا تَصَوُّر، نہ خیالِ طُورِ سینا میری آرزُو محمّد، میری جُستجُو مدینہ میں گدائے مصطفیٰ ہُوں، میری عظمتیں نہ پُوچھو مجھے دیکھ کر جہنّم کو بھی آ گیا پسینہ مجھے، دُشمنو ! نہ چھیڑو، میرا ہے کوئی جہاں میں میں ابھی پُکار لُوں گا، نہیں دُور ہے مدینہ میں مریضِ مصطفیٰ ہُوں، مجھے چھیڑو نہ، طبیبو ! میری زندگی جو چاہو، مجھے لے چلو مدینہ میرے ڈُوبنے میں باقی نہ کوئی کسر رہی تھی کہا المدد محمّد، تو اُبھر گیا سفینہ سِوا اِس کے میرے دل میں کوئی آرزُو نہیں ہے مجھے موت بھی جو آئے تو ہو سامنے مدینہ نہیں مال و زر تو کیا ہے، میں غریب ہُوں یہی نا میرے عشق مجھ کو لے چل تُو ہی جانبِ مدینہ کبھی، اے شکیل ! دل سے نہ مِٹے خیالِ احمد اِسی آرزُو میں مرنا، اِسی آرزُو میں جینا نعت خواں: سید فصیح الدین سہروردی الحاج خورشید احمد हिन्दी ENG اردو

بٹتا ہے کائنات میں صدقہ بتول کا | Batta Hai Kainat Mein Sadqa Batool Ka Lyrics in Urdu

بٹتا ہے کائنات میں صدقہ بتول کا سُلطانِ دو جہان ہے بابا بتول کا سچ ہے کہ میری امّاں بھی اُن کی کنیز ہے میرا ہے باپ دادا بھی منگتا بتول کا رہتی ہیں میری دیکھ لو موجیں لگی ہوئی مجھ پر کرم ہُوا ہے یہ کیسا بتول کا شامی بازارِ شام میں حیران تھے کھڑے قرآن پڑھ رہا تھا بیٹا بتول کا مولا علی نے کہہ دیا زہرا کی شان میں اللہ ہی جانتا ہے رُتبہ بتول کا نظروں سے میں نے چُوما ہے چوکھٹ کو بار بار دیکھا ہے میں نے بارہا حُجرہ بتول کا اجمل کی ہے توقیر بھی، پہچان بھی یہی ادنیٰ سا اِک غُلام ہے زہرا بتول کا شاعر: یاسین اجمل چشتی نعت خواں: خاور نقشبندی ریحان قریشی سید حسان اللہ حسینی हिन्दी ENG اردو

بخش دے مجھ کو خدایا | Bakhsh De Mujh Ko Khudaya Lyrics in Urdu

مولا مولا ! میرے مولا مولا ! میرے مولا مولا ! میرے مولا ! مولا مولا ! میرے مولا مولا ! میرے مولا مولا ! میرے مولا ! بخش دے مجھ کو، خدایا ! بخش دے مجھ کو، خدایا ! میرے مولا ! میرے مولا ! میرے مولا ! میرے مولا ! تیرے در پر یہ تیرا بندہ چلا آیا میں عاصی ہوں، میں مجرم ہوں، تو ہے رحمان مولا ! میری اِک ایک دھڑکن کا تو ہے نگران مولا ! اگر چاہے تُو، مولا ! پھر سبھی آسانیاں ہیں وگرنہ رائیگاں میری سبھی قربانیاں ہیں تو میرے حال پر اپنے کرم کا کر دے سایہ بخش دے مجھ کو، خدایا ! بخش دے مجھ کو، خدایا ! میرے مولا ! میرے مولا ! میرے مولا ! میرے مولا ! تیرے دربار میں دِل سے میں توبہ کر رہا ہُوں تو قادِر ہے، میں تیرے اِس غضب سے ڈر رہا ہُوں بھٹک چُکا تھا آخر پر، خدا ! اب لوٹ آیا ہُوں کہ اپنی آنکھ میں اشکِ ندامت بھر کے لایا ہُوں کہ تیری بارگاہ میں حالِ دل میں نے سُنایا بخش دے مجھ کو، خدایا ! بخش دے مجھ کو، خدایا ! میرے مولا ! میرے مولا ! میرے مولا ! میرے مولا ! مولا مولا میرے ! مولا مولا میرے ! مولا مولا میرے مولا ! مولا مولا میرے ! مولا مولا میرے ! مولا مولا میرے مولا ! شاعر: ...

بارش رحمت کبریا ہے | مصطفیٰ رب سے ملنے چلے ہیں | Mustafa Rab Se Milne Chale Hain Lyrics in Urdu

سرِ لامکاں سے طلب ہوئی سوئے منتہا وہ چلے نبی کوئی حد ہے اُن کے عروج کی صَلُّو عَلَیہِ وَ آلِہِ بارشِ رحمتِ کبریا ہے مصطفیٰ لامکاں جا رہے ہیں آج سارا جہاں سج گیا ہے مصطفیٰ رب سے مِلنے چلے ہیں دست بستہ ملائک کھڑے ہیں نعت سرکار کی پڑھ رہے ہیں حُور و غِلماں کے لب پر صدا ہے مصطفیٰ رب سے مِلنے چلے ہیں جشن میں ذرّہ ذرّہ مگن ہے ہر طرف بجتے ہیں شادِیانے بہرِ تعظیم کعبہ جُھکا ہے مصطفیٰ رب سے مِلنے چلے ہیں انبیاء و رُسُل مُقتدی ہیں اور اِمامت پہ میرے نبی ہیں عرش پر مرحبا کی صدا ہے مصطفیٰ رب سے مِلنے چلے ہیں پہنچے سِدرہ پہ سرکار جس دم بولے جبریل، اے شاہِ عالم ! بس یہیں پر میری اِنتہا ہے مصطفیٰ رب سے مِلنے چلے ہیں ہے درودوں کی دستار سر پر ہے سلامی فرشتوں کے لب پر پہنچا محبوب قُربِ خُدا ہے مصطفیٰ رب سے مِلنے چلے ہیں یہ قصیدہ، اے شوقِ فریدی ! تم نے لِکّھا ہے جو فضلِ ربّی صدقہ وَاللّٰہ معراج کا ہے مصطفیٰ رب سے مِلنے چلے ہیں شاعر: حافظ شوق فریدی نعت خواں: غلام مصطفیٰ قادری हिन्दी ENG اردو

باہر سے ٹھیک ٹھاک ہوں میں پر میرے حضور | Bahar Se Theek Thaak Hun Main Par Mere Huzoor Lyrics in Urdu

باہر سے ٹِھیک ٹھاک ہوں میں پر، میرے حضور ! کُچھ ٹُوٹ پُھوٹ ہے میرے اندر، میرے حضور ! میں غم زدہ ہُوں، میری طرف مُسکرائیے میں گر رہا ہُوں تھام لیں آ کر، میرے حضور ! اللہ! میری شِکستہ دِلی برقرار رکھ آتے ہیں یاد پہلے سے بڑھ کر میرے حضور دستِ طلب کو چاہے تُو نہ بھی دراز کر دے دیں گے بھیک خود ہی بُلا کر میرے حضور یا رسُول اللہ ! اِک نگاہِ کرم آپ کی چاہیے اِن اندھیروں کو پھر روشنی چاہیے شاعر: دانش اعجاز نعت خواں: منیب قریشی محمود رضا قادری हिन्दी ENG اردو

عرس آیا ہے ولیوں کے سلطان کا مرحبا مرحبا | بٹتا ہے صدقہ خواجہ کے فیضان کا مرحبا مرحبا | Urs Aaya Hai Waliyon Ke Sultan Ka Marhaba Marhaba Lyrics in Urdu

غریب جان کے ہر اِک نے مجھ کو ٹالا ہے تم اپنے در سے نہ ٹالو مجھے، غریب نواز ! عُرس آیا ہے ولیوں کے سُلطان کا، مرحبا مرحبا ! بٹتا ہے صدقہ خواجہ کے فیضان کا، مرحبا مرحبا ! جگمگا اُٹّھا پھر دیپ ایمان کا، مرحبا مرحبا ! کیا حسیں ہے سماں اُن کے اَیوان کا، مرحبا مرحبا ! کِھل اُٹھا چہرہ ہر ایک مُسلمان کا، مرحبا مرحبا ! عُرس آیا ہے ولیوں کے سُلطان کا، مرحبا مرحبا ! بٹتا ہے صدقہ خواجہ کے فیضان کا، مرحبا مرحبا ! وہ عطائے نبی فضلِ رحمان ہے، واہ کیا شان ہے ابنِ زہرا ہے، حسنین کی جان ہے، واہ کیا شان ہے ہند کی سر زمیں کا وہ سُلطان ہے، واہ کیا شان ہے میں ہی کیا اُس پہ ہر ایک قُربان ہے، واہ کیا شان ہے پُھول ہے وہ علی کے گُلستان کا، مرحبا مرحبا ! عُرس آیا ہے ولیوں کے سُلطان کا، مرحبا مرحبا ! بٹتا ہے صدقہ خواجہ کے فیضان کا، مرحبا مرحبا ! غُسْل آبِ کرم سے کرایا گیا، مرحبا مرحبا ! نُوری جوڑے سے تن جگمگایا گیا، مرحبا مرحبا ! سر پہ تاجِ ولایت سجایا گیا، مرحبا مرحبا ! میرے خواجہ کو دُولہا بنایا گیا، مرحبا مرحبا ! اور صدقہ مِلا شاہِ جیلان کا، مرحبا مرحبا ! عُرس آیا ہے ولیوں کے سُلطان کا، م...

بیاں ہو کس زباں سے مرتبہ صدیق اکبر کا | Bayan Ho Kis Zaban Se Martaba Siddiq-e-Akbar Ka Lyrics in Urdu

بیاں ہو کِس زباں سے مرتبہ صدّیقِ اکبر کا ہے یارِ غار محبوبِ خُدا صدّیقِ اکبر کا الٰہی ! رحم فرما خادمِ صدّیقِ اکبر ہوں تِری رحمت کے صدقے، واسطہ صدّیقِ اکبر کا رُسُل اور انبیاء کے بعد جو افضل ہو عالم سے یہ عالم میں ہے کس کا مرتبہ ؟ صدّیقِ اکبر کا گدا صدّیقِ اکبر کا خُدا سے فضل پاتا ہے خُدا کے فضل سے میں ہوں گدا صدّیقِ اکبر کا ہوئے فاروق و عثمان و علی جب داخلِ بیعت بنا فخرِ سلاسِل سِلسِلہ صدّیقِ اکبر کا نبی کا اور خُدا کا مدح گو صدّیقِ اکبر ہے نبی صدّیقِ اکبر کا، خُدا صدیقِ اکبر کا علی ہیں اُس کے دُشمن اور وہ دُشمن علی کا ہے جو دُشمن عقل کا، دُشمن ہوا صدّیقِ اکبر کا لُٹایا راہِ حق میں گھر کئی بار اِس محبّت سے کہ لُٹ لُٹ کر، حسن ! گھر بن گیا صدّیقِ اکبر کا شاعر: مولانا حسن رضا خان نعت خواں: اویس رضا قادری हिन्दी ENG اردو

بلبل تیرے ہونٹوں پہ یہ کس کا ترانہ ہے | Bulbul Tere Honton Pe Ye Kis Ka Tarana Hai Lyrics in Urdu

بُلبُل تیرے ہونٹوں پہ یہ کِس کا ترانہ ہے عُشّاق کی آمد ہے، موسم بھی سُہانا ہے بُلبُل تیرے ہونٹوں پہ یہ کِس کا ترانہ ہے سرکار کی آمد ہے، موسم بھی سُہانا ہے پُوچھا نہ کرے کوئی یہ کِس کا زمانہ ہے آقا کی نُبُوّت ہے، آقا کا زمانہ ہے سُورج بھی پلٹ آیا اور چاند ہوا ٹُکڑے سرکار کی اُنگلی کا کیا خُوب نِشانہ ہے پیغامِ محبّت یُوں آقا نے دِیا ہم کو اخلاق کے پُھولوں سے دِل اپنا سجانا ہے دامن میں چُھپا لیں گے جو ہم کو سرِ محشر وہ جان ہیں رحمت کی، حسنین کے نانا ہیں نعت خواں: قاری سرتاج عالم سلطانپوری انتصاف بستوی الوداع خاتون हिन्दी ENG اردو

بغداد والے میراں روشن ضمیر | میرے پیران پیر میرے پیران پیر | Mere Peeran-e-Peer Mere Peeran-e-Peer Lyrics in Urdu

میرے پیرانِ پیر ! میرے پیرانِ پیر ! میرے پیرانِ پیر ! میرے پیرانِ پیر ! بغداد والے میراں روشن ضمیر ! میرے پیرانِ پیر ! میرے پیرانِ پیر ! مولیٰ علی کے تم ہو دُلارے زہرا کی آنکھوں کے تارے جُود و سخا ہے تیری بے نظیر میرے پیرانِ پیر ! میرے پیرانِ پیر ! بغداد والے میراں روشن ضمیر ! میرے پیرانِ پیر ! میرے پیرانِ پیر ! اللہ اللہ ! یہ اُن کا رتبہ دینِ خدا کے وہ ہیں مسیحا خلقِ خدا کے ہیں دستگِیر میرے پیرانِ پیر ! میرے پیرانِ پیر ! بغداد والے میراں روشن ضمیر ! میرے پیرانِ پیر ! میرے پیرانِ پیر ! راہِ یقیں پر تم نے چلایا بندوں کو رب سے تم نے مِلایا واللہ، سب ہیں تمہارے اسِیر میرے پیرانِ پیر ! میرے پیرانِ پیر ! بغداد والے میراں روشن ضمیر ! میرے پیرانِ پیر ! میرے پیرانِ پیر ! جب سے تمہارے در پہ گِرا ہوں عِزّت کی مسند پہ کھڑا ہوں کہلاتا ہوں تمہارا فقیر میرے پیرانِ پیر ! میرے پیرانِ پیر ! بغداد والے میراں روشن ضمیر ! میرے پیرانِ پیر ! میرے پیرانِ پیر ! آ جانا تم قبر میں میری ہوگی وہاں پر سخت اندھیری مجھ کو ستائیں نہ مُنکرنکِیر میرے پیرانِ پیر ! میرے پیرانِ پیر ! بغداد...

برس رہا ہے کرم کا ساون حضور آئے حضور آئے | Baras Raha Hai Karam Ka Sawan Huzoor Aaye Huzoor Aaye Lyrics in Urdu

برس رہا ہے کرم کا ساون، حضور آئے، حضور آئے ہیں اجلے اجلے گلوں کے دامن، حضور آئے، حضور آئے ہیں روح پرور سبھی نظارے، جہاں میں آئے نبی ہمارے بھرا ہے خوشبو سے آنگن آنگن، حضور آئے، حضور آئے تھا ذکر جس کا صدی صدی میں، وہ نور پھیلا گلی گلی میں چمک اُٹھے ہیں دلوں کے درپن، حضور آئے، حضور آئے خدائے غَفَّار مہرباں ہے، خزاں کے قبضہ میں خود خزاں ہے بہار پر ہے حقیقی جوبن، حضور آئے، حضور آئے جہاں میں نکلے ہیں یوں سویرے کہ منہ چھپانے لگے اندھیرے نظر نظر میں ہیں دیپ روشن، حضور آئے، حضور آئے یقین کہتا ہے یوں گماں سے، بڑھی زمیں آج آسماں سے ہیں رشکِ جنّت یہاں کے گلشن، حضور آئے، حضور آئے ہوائیں ہیں نغمہ بار، نازِش ! چمن بھی ہیں پُر بہار، نازِش ! یہ کہہ رہی ہے دلوں کی دھڑکن، حضور آئے، حضور آئے شاعر: محمد حنیف نازش قادری نعت خواں: حوریہ فہیم قادری हिन्दी ENG اردو

بس میرا ماہی صل علیٰ | Bas Mera Mahi Salle Ala Lyrics in Urdu

بس میرا ماہی صَلِّ عَلیٰ، بس میرا ماہی صَلِّ عَلیٰ میں کچھ بھی نہیں، میں کچھ بھی نہیں بس میرا ماہی صَلِّ عَلیٰ، بس میرا ماہی صَلِّ عَلیٰ رحمتِ عالم بن کر آیا، دونوں جہاں پر اُن کا سایہ مالِکِ کُل محبوبِ خدا، میں کچھ بھی نہیں، میں کچھ بھی نہیں بس میرا ماہی صَلِّ عَلیٰ، بس میرا ماہی صَلِّ عَلیٰ طٰہٰ، یٰس اور مُزَمِّل، شاہِ مدینہ احمدِ مرسل شافِع و نافِعِ روزِ جزا، میں کچھ بھی نہیں، میں کچھ بھی نہیں بس میرا ماہی صَلِّ عَلیٰ، بس میرا ماہی صَلِّ عَلیٰ دونوں عالم صدقہ جن کا، صبح و شام ہے چرچا جن کا وِردِ ملائک صَلِّ عَلیٰ، میں کچھ بھی نہیں، میں کچھ بھی نہیں بس میرا ماہی صَلِّ عَلیٰ، بس میرا ماہی صَلِّ عَلیٰ عرش پہ آنے جانے والے، رحمتِ عالم حق کے اُجالے وہ محبوب ربِّ عُلیٰ، میں کچھ بھی نہیں، میں کچھ بھی نہیں بس میرا ماہی صَلِّ عَلیٰ، بس میرا ماہی صَلِّ عَلیٰ اُن کے کرم کی بات ہے، عاصی ! رب کا کرم اور دنیا راضی وہ ہیں مخزنِ جود و سخا، میں کچھ بھی نہیں، میں کچھ بھی نہیں بس میرا ماہی صَلِّ عَلیٰ، بس میرا ماہی صَلِّ عَلیٰ شاعر: حسین عاصی نعت خواں: محمد حسان رضا قادری ...

بڑھے جو کر کے وہ سوئے شہ انام سلام | Badhe Jo Kar Ke Wo Soo-e-Shah-e-Anam Salam Lyrics in Urdu

بڑھے جو کر کے وہ سُوئے شَہِ انام سلام صدائیں آتی تھیں ہر سمت سے سلام سلام بڑا ہجوم تھا طیبہ کی پہلی منزل پر کھڑے تھے راہ میں کرنے کو خاص و عام سلام چلے حسین جو طیبہ سے کربلا کی طرف جہاں پہنچتے تھے کرتا تھا وہ مقام سلام جو عزم کر کے چلے تھے وہ کربلا پہنچے اگرچہ راہ میں آتے رہے پیام سلام زمینِ منزلِ مقصود نے قدم چومے فلک نے دُور سے جھک کر کہا، امام سلام یہ شاہ وہ جنہیں سب شاہ شاہ کہتے ہیں امام وہ جنہیں کرتے ہیں سب امام سلام سلامبندۂ عاصی قبول ہو، شاہا ! تمہاری آل پر، اولاد پر مدام سلام اُنہیں سلام، مُنوّر ! یہ چاہتا ہے جی تمام عمر لکھوں اور نہ ہو تمام سلام شاعر: منور بدایونی نعت خواں: ذوالفقار علی حسینی اویس رضا قادری हिन्दी ENG اردو

بیاں ہو کس طرح رتبہ مرے تاج الشریعہ کا | Bayan Ho Kis Tarah Rutba Mere Tajushshariya Ka Lyrics in Urdu

بیاں ہو کس طرح رتبہ مرے تاج الشریعہ کا زمانے بھر میں ہے چرچہ مرے تاج الشریعہ کا فقاہت ناز کرتی ہے مرے تاج الشریعہ پر فقاہت میں ہے وہ ملکہ مرے تاج الشریعہ کا رضا کے علم کے وارث مرے تاج الشریعہ ہیں ذرا دیکھےکوئی رتبہ مرے تاج الشریعہ کا اصاغر کی کروں کیا بات، اے حضرت کے دیوانو ! اکابر نے پڑھا خطبہ مرے تاج الشریعہ کا مرے اختر کے جانے کا اٹھایا غم زمانے نے دلوں پر ایسا تھا قبضہ مرے تاج الشریعہ کا انہیں جو دیکھتا تھا وہ دیوانہ ہو ہی جاتا تھا تھا اتنا دل نشیں چہرہ مرے تاج الشریعہ کا جھکایا اُن کے آگے علم والوں نے سرِ تسلیم تھا رعب و دبدبہ ایسا مرے تاج الشریعہ کا مخالف جلتے ہیں جلتے رہیں پرواہ نہیں ہم کو لگےگا حشر تک نعرہ مرے تاج الشریعہ کا ولی، بابا ولی، دادا ولی، نانا ولی اُن کے دلوں میں بس گیا شجرہ مرے تاج الشریعہ کا جناب مُفتیٔ اعظم کی چشم خاص تھی اُن پر تبھی تو نام ہے چمکا مرے تاج الشریعہ کا ادب وہ سیّدوں کا دل کی گہرائی سے کرتے تھے مجھے اچھا لگا اسوہ مرے تاج الشریعہ کا جنازہ دیکھ کر اُن کا مخالف کے لبوں پر بھی سجا تعریف کا نغمہ مرے تاج الشریعہ کا شریعت اور طریقت...

بہن آج مجھ سے جدا ہو رہی ہے | Bahan Aaj Mujh Se Juda Ho Rahi Hai Lyrics in Urdu

بہن آج مجھ سے جدا ہو رہی ہے لبوں سے یہی بس سدا آ رہی ہے بڑے ناز سے تجھ کو پالا گیا تھا تجھے گود لے کے اُچھالا گیا تھا تجھے اپنی آنکھوں کا سرما بنا کر محبّت کے سانچے میں ڈھالا گیا تھا مگر آج قسمت یہ کیا کہہ رہی ہے بہن آج مجھ سے جدا ہو رہی ہے بہن آج مجھ سے جدا ہو رہی ہے لبوں سے یہی بس سدا آ رہی ہے اگر آج موجود دادا بھی ہوتے گلے سے لگا کر تجھے چوم لیتے تیرے سر پہ ہاتھوں کو شفقت سے رکھ کر جگر تھام کر کے یہی آج کہتے میری پیاری پوتی کہاں جا رہی ہے بہن آج مجھ سے جدا ہو رہی ہے بہن آج مجھ سے جدا ہو رہی ہے لبوں سے یہی بس سدا آ رہی ہے تیرے دم سے گھر میں میرے روشنی تھی میری پیاری امّی کے دل کی کلی تھی ضعیفی میں ماں کا سہارا بھی تم تھی تیرے دم سے اُن کے لبوں پر خوشی تھی مگر آج خوشیاں مٹی جا رہی ہے بہن آج مجھ سے جدا ہو رہی ہے بہن آج مجھ سے جدا ہو رہی ہے لبوں سے یہی بس سدا آ رہی ہے بڑے ناز سے تجھ کو پالا تھا جس نے تجھے گود لے کے اچھالا تھا جس نے کسی کے لیے اب ترستی ہیں آنکھیں کہ ہر ہر قدم پر سنبھالا تھا جس نے مجھے یاد اُس کی بہت آ رہی ہے بہن آج مجھ سے جدا ہو رہی ہے بہ...