اشاعتیں

Jeem لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

جشن نبی کریں گے بڑی دھوم دھام سے | اعلیٰ حضرت کے دیوانے | Ala Hazrat Ke Deewane Lyrics in Urdu

جشنِ نبی کریں گے بڑی دُھوم دھام سے مطلب نہیں ہے ہم کو یزیدی نِظام سے تکلیف جس کو ہوگی دُرُود و سلام سے تکلیف اُس کو دیں گے رضا کے کلام سے اعلیٰ حضرت کے دیوانے اعلیٰ حضرت کے دیوانے سُن کر رضا کا ذِکر طلبگار ہو گئے جو سو رہے تھے نیند سے بیدار ہو گئے جب بات آ گئی ہے نبی کے وقار پر یہ جان لُٹانے کو بھی تیّار ہو گئے اعلیٰ حضرت کے دیوانے اعلیٰ حضرت کے دیوانے مرکز مِرا بریلی ہے میری وفا کے ساتھ بیمار چل رہے ہیں مُکَمّل شِفا کے ساتھ گُستاخ دیکھ لیں گے یہ میدانِ حشر میں ہیں قادری فقیر، رہیں گے رضا کے ساتھ اعلیٰ حضرت کے دیوانے اعلیٰ حضرت کے دیوانے چاروں طرف سے کُفْر کے شُعْلے اُبَل پڑے کرنے لگے حضور پہ حملے بڑے بڑے کوئی کہے حضور کو اپنی طرح بشر ذِکرِ نبی کو کوئی کہے غیر مُعتبر کوئی نبی کے عِلم پہ طعنہ زنی کرے کلمہ پڑھے اُنہیں کا، اُنہیں کو بُرا کہے توہین کر رہی تھیں یہ باطل جماعتیں مغموم ہو رہی تھیں دِلوں کی سماعتیں عاشِق نبی کے رو کے یہ کہتے تھے بار بار کب آئے گا ہمارے عقیدوں کا پہرے دار نامُوسِ مصطفیٰ کی حِفاظت کرے گا کون ؟ نجدی وہابیوں سے مُکَمّل لڑے گا کون ؟ ال...

جاہ و جلال دو نہ ہی مال و منال دو | Jaah-o-Jalal Do Na Hi Maal-o-Manal Do Lyrics in Urdu

جاہ و جلال دو نہ ہی مال و مَنال دو سوزِ بلال بس مِری جھولی میں ڈال دو دُنیا کے سارے غم مِرے دل سے نکال دو غم اپنا، یا حبیب ! برائے بِلال دو ہِجْر و فِراق تو مِلا، دو اِضْطِراب بھی بے تاب قَلْب از پئے سوزِ بلال دو بہتی رہے جو ہر گھڑی بس یاد میں، شہا ! وہ چشمِ اَشْکبار پئے ذُوالجلال دو سینہ مدینہ ہو مِرا، دل بھی مدینہ ہو فِکرِ مدینہ دو مجھے مدنی خیال دو ہر آن بس تَصَوُّرِ طیبہ میں گُم رہوں ایسا بُلند، شاہِ مدینہ ! خیال دو دو دَرد سُنَّتوں کا پئے شاہِ کربلا اُمّت کے دل سے لَذّتِ عصیاں نکال دو خُلقِ عظیم سے مجھے حِصّہ عطا کرو بے جا ہنسی کی خصلتِ بد کو نکال دو ذِکْر و دُرُود ہر گھڑی وِردِ زباں رہے میری فُضُول گوئی کی عادت نکال دو دونوں جہاں کی آفتیں، مولا ! مُصیبتیں صدقے میں میرے غوث کے، سرکار ! ٹال دو عطّار کو بُلا کے مدینے میں دو بقیع دو پھولوں کے طُفَیْل ہوں پُورے سُوال دو شاعر: محمد الیاس عطار قادری نعت خواں: اویس رضا قادری حاجی مشتاق عطاری हिन्दी ENG اردو

جو نہ ہوتا تیرا جمال ہی | صلّو علیہ وآلہٖ | Jo Na Hota Tera Jamal Hi Lyrics in Urdu

جو نہ ہوتا تیرا جمال ہی صَلُّو عَلَیْہِ وَآلِہٖ جو نہ ہوتا تیرا جمال ہی تو جہاں تھا خواب و خیال ہی صَلُّو عَلَیْہِ وَآلِہٖ مہ و مہر میں تیری روشنی ہُوئی ختم تجھ پہ پیمبری نہیں تجھ سا تیرے سِوا کوئی کرے کون تیری برابری یہ نہیں کسی کی مجال ہی صَلُّو عَلَیْہِ وَآلِہٖ نہ فصیل ہے، نہ محل سرا تیرا فرش ہے وہی بوریا تیرے جسمِ پاک پہ اِک قبا وہ بھی تار تار ہے جا بجا تیری سادگی ہے کمال ہی صَلُّو عَلَیْہِ وَآلِہٖ تُو خلیل ہے، تُو کلیم ہے تُو رَؤُف ہے، تُو رحیم ہے تُو حبیبِ ربِّ کریم ہے تیری شان سب سے عظیم ہے نہیں کوئی تیری مثال ہی صَلُّو عَلَیْہِ وَآلِہٖ تُو کلیم ہے، تُو کریم ہے تُُو رَؤُف ہے، تو رحیم ہے تو حبیبِ ربِّ کریم ہے تیری شان سب سے عظیم ہے نہیں کوئی تیری مثال ہی صَلُّو عَلَیْہِ وَآلِہٖ شاعر: تنویر نقوی نعت خواں: زبیدہ خانم یشفین اجمل شیخ سیدہ اریبہ فاطمہ हिन्दी ENG اردو

جب مدینے جائیں گے ہم مسکراتے جائیں گے | Jab Madine Jayenge Hum Muskurate Jayenge Lyrics in Urdu

جب مدینے جائیں گے، ہم مُسکُراتے جائیں گے جب وہاں سے آئیں گے، آنسو بہاتے آئیں گے جھولیاں بھر لیں گے اُن کی رحمتوں سے ہم وہاں پھول جتنے بھی کِھلیں گے، ہم اُٹھاتے جائیں گے صرف آنسو ہیں ہمارے پاس اور کچھ بھی نہیں حال اپنا اپنی آنکھوں سے سُناتے جائیں گے شہرِ طیبہ تیرا منظر کوئی بھی دُھندلا نہ ہو اپنے آنسو اپنی آنکھوں میں چُھپاتے جائیں گے لوٹ آئیں گے وہاں سے ہم بظاہر، سعدیہ ! دل میں یادوں کے ہزاروں گھر بناتے جائیں گے نعت خواں: حافظ مظہر قادری اشرفی हिन्दी ENG اردو

جو ہے خدا کا اک ولی | وہ میرا پیر ازہری | Wo Mera Peer Azhari Lyrics in Urdu

جو ہے خدا کا اِک ولی، ہے سچّا عاشقِ نبی عطا ہے غوثِ پاک کی، وہ میرا پیر ازہری وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری دُعائے مصطفیٰ رضا، رضائے مصطفیٰ رضا صدائے مصطفیٰ رضا، عطائے مصطفیٰ رضا ہے اُس پہ ہر جگہ صدا نگاہِ مصطفیٰ رضا ہے ایسی شان کا دَھنی، وہ میرا پیر ازہری وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری بُزُرگوں کی دُعائیں لے کے ہند سے وہ جب چلا پہنچ کے مصر دیکھتے ہی دیکھتے وہ چھا گیا یہ اُس کا عِلمی مرتبہ، تھا دنگ سارا جامعہ بنا جو فخرِ ازہری، وہ میرا پیر ازہری وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری مچا کے علم و فن کی دُھوم مصر سے وہ آ گئے یہ اُن کی شان تھی کہ لینے مصطفیٰ رضا گئے تھا اِتنا آپ پر یقیں، بنایا اپنا جانشیں اُنہیں کو کہتے ہیں سبھی، وہ میرا پیر ازہری وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری غرورِ دُشمنِ نبی کو توڑتا چلا گیا سبھی کو مسلکِ رضا سے جوڑتا چلا گیا ہر ایک صُلْحِ کُلّی کا جو پردہ فاش کر گیا تھا کون بول د...

جس کو کہتے ہیں سلطان پیغمبراں | وہ پیغمبر مدینے میں موجود ہے | Wo Paigambar Madine Mein Maujood Hai Lyrics in Urdu

جس کو کہتے ہیں سُلطانِ پیغمبراں وہ پیغمبر مدینے میں موجود ہے رہبروں کی جسے سَربَراہی مِلی ایسا رہبر مدینے میں موجود ہے اہلِ دنیا کے سردار ہیں انبیاء رب نے اُونچا کِیا سب کا ہے مرتبہ انبیاء جس کو سردار اپنا کہیں ہاں وہ اَفْسَر مدینے میں موجود ہے جس کو کہتے ہیں سُلطانِ پیغمبراں وہ پیغمبر مدینے میں موجود ہے روز آتے ہیں رب کے فرشتے جہاں مصطفیٰ نے کہا جس کو باغِ جناں جس کی عظمت پہ نازاں ہے عرشِ بریں ایسا اِک گھر مدینے میں موجود ہے جس کو کہتے ہیں سُلطانِ پیغمبراں وہ پیغمبر مدینے میں موجود ہے کس قدر اُس کے دل میں تھا عشقِ نبی سانپ نے ڈس لِیا اور اُف تک نہ کی اَصْدَقُ الصّادِقِیں رَاحَۃُ العَاشِقِیں یارِ سرور مدینے میں موجود ہے جس کو کہتے ہیں سُلطانِ پیغمبراں وہ پیغمبر مدینے میں موجود ہے جو فِراقِ مدینہ میں رنجُور ہے کون کہتا ہے طیبہ سے وہ دُور ہے ظاہِراً ہو کہیں ہاں مگر فِکر میں وہ گداگر مدینے میں موجود ہے جس کو کہتے ہیں سُلطانِ پیغمبراں وہ پیغمبر مدینے میں موجود ہے میں ہُوں، شوقِ فریدی ! غُلامِ نبی مجھ کو اُن سے جُدا مت سمجھنا کبھی دُور ہُوں میں مدینے سے تو کیا...

جگمگایا عید سے ہر اک مکاں | Jagmagaya Eid Se Har Ik Makan Lyrics in Urdu

جگمگایا عید سے ہر اِک مکاں ہو مبارک آپ کو، اہلِ ایماں ! چاند نے بڑھ کر مُبارک باد دی شُکر کرتے ہیں سبھی اہلِ جہاں ہو مبارک آپ کو، اہلِ ایماں ! جگمگایا عید سے ہر اِک مکاں ہو مبارک آپ کو، اہلِ ایماں ! چار سُو پُر کیف ہے مسحُور کُن ہر طرف پھیلا ہے اُلفت کا نِشاں ہو مبارک آپ کو، اہلِ ایماں ! جگمگایا عید سے ہر اِک مکاں ہو مبارک آپ کو، اہلِ ایماں ! فاقہ مستی میں بھی ہیں خوشیاں بسی مُسکرایا مُفلِسی کا آشِیاں ہو مبارک آپ کو، اہلِ ایماں ! جگمگایا عید سے ہر اِک مکاں ہو مبارک آپ کو، اہلِ ایماں ! بُھول کر رنجش مِٹاؤ سب گُماں جوڑ لیں ٹُوٹے دِلوں کو یک زباں ہو مبارک آپ کو، اہلِ ایماں ! جگمگایا عید سے ہر اِک مکاں ہو مبارک آپ کو، اہلِ ایماں ! روز و شب کی بندگی لائی ثمر چھا گیا، فانی ! سُکُوں کا سائِباں ہو مبارک آپ کو، اہلِ ایماں ! جگمگایا عید سے ہر اِک مکاں ہو مبارک آپ کو، اہلِ ایماں ! شاعر: حسان فانی نشید خواں: حافظ احمد مجتبی हिन्दी ENG اردو

جان آدم جان عیسیٰ آپ ہیں | Jaan-e-Aadam Jaan-e-Isa Aap Hain Lyrics in Urdu

جانِ آدم جانِ عیسیٰ آپ ہیں رب ہی جانے اور کیا کیا آپ ہیں سارا عالم آپ کی خاطر دُلہن اور آقا اِس کے دُولہا آپ ہیں مال و دولت کی مجھے خواہش نہیں میری چاندی میرا سونا آپ ہیں اعلیٰ حضرت نے ہمیں بتلا دِیا سب سے اولیٰ سب سے اعلیٰ آپ ہیں کعبَۂ اطہر ہے قبلہ دہر کا کعبَۂ اطہر کا قبلہ آپ ہیں ناز کیجے، اے اسد اقبال جی ! بُلبُلِ باغِ مدینہ آپ ہیں شاعر: اسد اقبال کلکتوی نعت خواں: اسد اقبال کلکتوی हिन्दी ENG اردو

جدائی کا کوئی بیتا ہوا لمحہ رلاتا ہے | تو کعبہ یاد آتا ہے بڑا ہی یاد آتا ہے | Judai Ka Koi Beeta Hua Lamha Rulata Hai Lyrics in Urdu

گر تو نہ سنے گا تو میری کون سنے گا گر تو نہ کرے گا تو کرم کون کرے گا جُدائی کا کوئی بیتا ہُوا لمحہ رُلاتا ہے کوئی آنسو میری بھیگی ہوئی پلکیں سجاتا ہے تو کعبہ یاد آتا ہے، بڑا ہی یاد آتا ہے تو کعبہ یاد آتا ہے، بڑا ہی یاد آتا ہے بڑے ہی خاص تھے لمحے جو کعبے میں گُزار آئے بڑی اُمّید ہے دِل میں وہ لمحے بار بار آئیں یہاں کوئی دِوَانہ جو مجھے زمزم پِلاتا ہے تو کعبہ یاد آتا ہے، بڑا ہی یاد آتا ہے غلافِ خانَۂ کعبہ پکڑ کر اپنے ہاتھوں میں کبھی دِن کے اُجالوں میں، کبھی پُرنُور راتوں میں وہاں کی داستاں کوئی ہمیں آ کر سُناتا ہے تو کعبہ یاد آتا ہے، بڑا ہی یاد آتا ہے مچلتے ہیں کئی ارمان اُس پَل میرے اِس دِل میں تڑپ کے اُمّتی کوئی میرے آقا کی محفل میں دُعا کے واسطے رو کر جو ہاتھوں کو اُٹھاتا ہے تو کعبہ یاد آتا ہے، بڑا ہی یاد آتا ہے وہاں رحمت برستی ہے، یہاں آنکھیں برستی ہیں برستی یہ میری آنکھیں زیارت کو ترستی ہیں جنیدِ قاسمی کوئی جو سینے سے لگاتا ہے تو کعبہ یاد آتا ہے، بڑا ہی یاد آتا ہے شاعر: جنید قاسمی نعت خواں: سید حسان اللہ حسینی हिन्दी ENG اردو

جاتے ہیں بڑی شان سے معراج کے دولہا | Jaate Hain Badi Shaan Se Meraj Ke Dulha Lyrics in Urdu

معراج والے دولہا ! معراج والے دولہا ! معراج والے دولہا ! معراج والے دولہا ! اسرا میں گُزرے جس دم بیڑے پہ قُدسِیوں کے ہونے لگی سلامی، پرچم جُھکا دیے ہیں جاتے ہیں بڑی شان سے معراج کے دولہا اللہ نے محبوب کو ہے پاس بُلایا جاتے ہیں بڑی شان سے معراج کے دولہا پیغام لیے آئے ہیں جبریل زمیں پر اے سرورِ کونین ! چلیں عرشِ بریں پر طالب ہے خدا آج کی شب آپ کا، سرور ! دیدارِ خُدا کر لیں، شہا ! قُرب میں جا کر اللہ نے محبوب کو ہے پاس بُلایا جاتے ہیں بڑی شان سے معراج کے دولہا جبریلِ امیں کہنے لگے چُوم کے تلوے بُرّاق ہے تیّار کھڑی آئیے چلیے بے تاب ہیں عرشی اُنہیں دِکھلائیے جلوے سب حُور و ملک دید کے مُشتاق ہیں کب سے اللہ نے محبوب کو ہے پاس بُلایا جاتے ہیں بڑی شان سے معراج کے دولہا مُشتاق تھی اقصیٰ میں رسُولوں کی جماعت سرکار نے کی سارے رسُولوں کی اِمامت اقصیٰ سے چلے قُربِ خُدا کے لیے حضرت سب شانِ نبی دیکھتے کرتے رہے حیرت اللہ نے محبوب کو ہے پاس بُلایا جاتے ہیں بڑی شان سے معراج کے دولہا مرتبہ میرے نبی کا کیا عظیمُ الشّان ہے رب تعالیٰ نے کِیا کیسا اُنہیں ذیشان ہے واقِعہ معراج کا ہے...

جشن کا منظر تھا ماحول سہانا تھا | عرش نہ کیوں سجتا سرکار نے آنا تھا | Jashn Ka Manzar Tha Mahaul Suhana Tha Lyrics in Urdu

جشن کا منظر تھا، ماحول سُہانا تھا عرش نہ کیوں سجتا، سرکار نے آنا تھا فرش پہ نغمے تھے آقا کی رسالت کے عرش پہ چرچے تھے حکومت کی عظمت کے حُوروں کے لب پہ خوشیوں کا ترانہ تھا عرش نہ کیوں سجتا، سرکار نے آنا تھا جشن کا منظر تھا، ماحول سُہانا تھا عرش نہ کیوں سجتا، سرکار نے آنا تھا رُت بدل جائے اور رات سنور جائے حُکم خُدا کا ہُوا کہ وقت ٹھہر جائے رُک گیا فوراً جو گردش میں زمانہ تھا عرش نہ کیوں سجتا، سرکار نے آنا تھا جشن کا منظر تھا، ماحول سُہانا تھا عرش نہ کیوں سجتا، سرکار نے آنا تھا مسجدِ اقصیٰ میں کیا منظر تھے پیارے پیچھے قطاروں میں حاضر تھے نبی سارے آگے مُصَلّے پر سُلطانِ زمانہ تھا عرش نہ کیوں سجتا، سرکار نے آنا تھا جشن کا منظر تھا، ماحول سُہانا تھا عرش نہ کیوں سجتا، سرکار نے آنا تھا منزلِ سدرہ پر جبریل نے عرض کِیا شاہِ دو عالم ! میں آگے نہیں چل سکتا یہ ہی حد میری، یہی میرا ٹِھکانا تھا عرش نہ کیوں سجتا، سرکار نے آنا تھا جشن کا منظر تھا، ماحول سُہانا تھا عرش نہ کیوں سجتا، سرکار نے آنا تھا ایک وسیلہ ہے رب سے مُلاقاتوں کا آپ کو حق نے دِیا تحفہ جو نمازوں کا اصل میں ا...

جس کے ہاتھوں میں ہے ذوالفقار نبی | نعرۂ حیدری یا علی یا علی | Jis Ke Hathon Mein Hai Zulfiqar-e-Nabi Lyrics in Urdu

جِس کے ہاتھوں میں ہے ذوالفقارِ نبی جِس کے پہلو میں ہے راہوارِ نبی دُخترِ مصطفیٰ جِس کی دُلہن بنی جس کے بیٹوں سے نسلِ نبی ہے چلی ہاں وہی، ہاں وہی، وہ علِیُّ ولی نعرۂ حیدری یا علی یا علی جِس کے بارے میں فرمائیں پیارے نبی جِس کا مولیٰ ہوں میں، اُس کا مولیٰ علی جِس کی تلوار کی جگ میں شہرت ہوئی جِس کے کُنبے سے رسمِ شُجاعت چلی ہاں وہی، ہاں وہی، وہ علِیُّ ولی نعرۂ حیدری یا علی یا علی جس کو شاہِ ولایت کا درجہ مِلا جیتے جی جِس کو جنّت کا مژدہ مِلا سیّدِ دوجہاں جِس کو رُتبہ ملا سِلسِلے سارے جِس پر ہوئے مُنتہی ہاں وہی، ہاں وہی، وہ علِیُّ ولی نعرۂ حیدری یا علی یا علی جو علی کا ہُوا، وہ نبی کا ہُوا یا علی کہہ دیا، سارا غم ٹل گیا وہ ہیں خیبر شِکن اور شیرِ خُدا نام سے اُن کے ہر رنج و کُلفت ٹلی ہاں وہی، ہاں وہی، وہ علِیُّ ولی نعرۂ حیدری یا علی یا علی سیّدوں کے وہی جدِّ اعلیٰ بھی ہیں میرے نانا بھی ہیں، میرے دادا بھی ہیں میرے آقا بھی ہیں، میرے مولیٰ بھی ہیں نظمی ! وہ ہی صفی وہ نجی وہ رضی ہاں وہی، ہاں وہی، وہ علِیُّ ولی نعرۂ حیدری یا علی یا علی شاعر: نظمی مارہروی نعت خو...

جانشین نبی میرے صدیق ہیں | Janasheen-e-Nabi Mere Siddiq Hain Lyrics in Urdu

صحابہ کے افسر ابُو بکر پیارے ہمارے ہیں رہبر ابُو بکر پیارے جانشینِ نبی میرے صِدّیق ہیں حق کے ہیں جو ولی, میرے صِدّیق ہیں میرے آقا کی اُمّت میں, یارو ! سُنو رحم دل اُمّتی میرے صِدّیق ہیں دی بشارت نبی نے جسے خُلد کی جنّتی جنّتی میرے صِدّیق ہیں جانشینِ نبی میرے صِدّیق ہیں حق کے ہیں جو ولی, میرے صِدّیق ہیں صحابہ کے افسر ابُو بکر پیارے ہمارے ہیں رہبر ابُو بکر پیارے ہیں عُمر اور عُثمان پیارے علی جس کے سب مُقتدی, میرے صِدّیق ہیں وہ خلیفہ بِلا فصل بعدِ نبی سیّدی مُرشِدی میرے صِدّیق ہیں جانشینِ نبی میرے صِدّیق ہیں حق کے ہیں جو ولی, میرے صِدّیق ہیں بعد از انبیاء ہیں وہی مُحترم شان جِن کی بڑی, میرے صِدّیق ہیں آپ کے سب مناقِب یہ فائض لِکھے پھر پڑھے ہر گھڑی, میرے صِدّیق ہیں جانشینِ نبی میرے صِدّیق ہیں حق کے ہیں جو ولی, میرے صِدّیق ہیں صحابہ کے افسر ابُو بکر پیارے ہمارے ہیں رہبر ابُو بکر پیارے صداقت, خِلافت, اِمامت میں پہلے ہیں مردِ قلندر ابُو بکر پیارے حبیبِ خُدا کا تِری گود میں سر وہ کیسا تھا منظر, ابُو بکر پیارے ! صحابہ کے افسر ابُو بکر پیارے ہمارے ہیں رہبر ابُو ب...

جو عشق نبی کے جلووں کو سِینوں میں بسایا کرتے ہیں | Jo Ishq-e-Nabi Ke Jalwon Ko Seenon Mein Basaya Karte Hain Lyrics in Urdu

جو عشقِ نبی کے جلووں کو سِینوں میں بسایا کرتے ہیں اللہ کی رحمت کے بادل اُن لوگوں پہ سایہ کرتے ہیں جب اپنے غُلاموں کی آقا تقدیر جگایا کرتے ہیں جنّت کی سند دینے کے لیے روضے پہ بلایا کرتے ہیں مخلوق کی بِگڑی بنتی ہے، خالق کو بھی پیار آ جاتا ہے جب بہرِ دُعا محبوبِ خدا ہاتھوں کو اُٹھایا کرتے ہیں اے دولتِ عرفاں کے منگتو! اُس در پہ چلو جِس در پہ سدا دِن رات خزانے رحمت کے سرکار لُٹایا کرتے ہیں گردابِ بلا میں پھنس کے کوئی طیبہ کی طرف جب تکتا ہے سُلطانِ مدینہ خود آ کر کشتی کو تِرایا کرتے ہیں وہ نزع کی سختی ہو، اے دل! یا قبر کی مُشکل منزل ہو وہ اپنے غُلاموں کی اکثر امداد کو آیا کرتے ہیں ہے شُغل ہمارا شام و سحر اور ناز، سِکَندر ! قسمت پر محفل میں رسولِ اکرم کی ہم نعت سُنایا کرتے ہیں شاعر: سکندر لکھنوی نعت خواں: اویس رضا قادری हिन्दी ENG اردو

جو گزری ہے وہ کس کس کو بتائیں یا رسول اللہ | Jo Guzri Hai Wo Kis Kis Ko Batayen Ya Rasoolallah Lyrics in Urdu

جو گزری ہے وہ کس کس کو بتائیں، یا رسول اللہ ! کسے حالِ دلِ مضطر سنائیں، یا رسول اللہ ! یہ حسرت ہے کہ تصویرِ ادب بن کر مواجہ میں چراغِ دیدۂ پُر نم جلائیں، یا رسول اللہ ! پڑا ہوں رکھ کے زنجیرِ غُلامی آپ کے در پر سجائی ہیں لبوں پر التجائیں، یا رسول اللہ ! بدن پر اَنْ گِنَتْ زخموں کے اب تک ہیں نِشاں باقی اِنہیں دامانِ رحمت میں چُھپائیں، یا رسول اللہ ! مِرے آنسو بھی لے جائیں، مِری آنکھیں بھی لے جائیں مدینے کی طرف جاتی ہوائیں، یا رسول اللہ ! مدینے میں کھڑا ہے ایک مجرم ہتھکڑی پہنے اِسے بھی عمر بھر کی ہوں سزائیں، یا رسول اللہ ! نکل کر قبرِ انور سے دِلاسہ دیں غُلاموں کو سجی ہیں ہر قدم پر کربلائیں، یا رسول اللہ ! ادب کی اوڑھنی لے کر درِ اقدس پہ آ جائیں کہاں جنگل میں بھٹکیں گی صدائیں، یا رسول اللہ ! سوئے افلاک اُڑنے سے ذرا پہلے مواجہ پر دُرودِ پاک پڑھتی ہیں دعائیں، یا رسول اللہ ! نہیں پانی کا قطرہ آب خوروں میں کوئی باقی کرم کی بھیج دیں کالی گھٹائیں، یا رسول اللہ ! کھڑی رہتی ہیں اپنے گھر کے دروازے میں پہروں تک کدھر جائیں جواں بیٹوں کی مائیں، یا رسول اللہ ! تَصَوُّر میں جوارِ...

جان جنان و رونق گلزار آ گئے | Jaan-e-Jinan-o-Raunaq-e-Gulzar Aa Gaye Lyrics in Urdu

لجپال آ گئے ! لجپال آ گئے ! اے پندرہ سوواں نے جشنِ ولادت تھاں تھاں دُھمّاں پے گیّاں اے پندرہ سوواں نے جشنِ ولادت تھاں تھاں دُھمّاں پے گیّاں آیا سوہنا جگ تے ! مرحبا ! من موہنا جگ تے ! مرحبا ! اُمّت دا والی ! مرحبا ! جے دی شان نرالی ! مرحبا ! پندرہ صدیاں توں ! مرحبا ! جیھدا جشن اے جاری ! مرحبا ! مرحبا مرحبا مرحبا مرحبا ! جانِ جِنان و رونقِ گُلزار آ گئے آج آمِنہ کے گھر شَہِ ابرار آ گئے ظاہر ہوا وہ جَلْوَۂٴ صُورت جناب کا قُدسی بھی لینے صَدْقَۂ رُخسار آ گئے اے پندرہ سوواں نے جشنِ ولادت تھاں تھاں دُھمّاں پے گیّاں اے پندرہ سوواں نے جشنِ ولادت تھاں تھاں دُھمّاں پے گیّاں اَرض و سما، زمان و مکاں یک زباں ہیں آج خَلّاقِ کائِنات کے شہکار آ گئے جانِ جِنان و رونقِ گُلزار آ گئے آج آمِنہ کے گھر شَہِ ابرار آ گئے مہرِ سما، سِتارے، قمر اور کہکشاں خیرات لینے نُور سے انوار آ گئے آیا سوہنا جگ تے ! مرحبا ! من موہنا جگ تے ! مرحبا ! اُمّت دا والی ! مرحبا ! جے دی شان نرالی ! مرحبا ! پندرہ صدیاں توں ! مرحبا ! جیھدا جشن اے جاری ! مرحبا ! مرحبا مرحبا مرحبا مرحبا ! یہ رسمِ عاشِقی ہے اَد...

جہاں سارا سخن آرا امام احمد رضا خاں کا | Jahan Sara Sukhan-aara Imam Ahmad Raza Khan Ka Lyrics in Urdu

جہاں سارا سُخَن آرا امام احمد رضا خاں کا کرے چرچا بہت سارا امام احمد رضا خاں کا کَٹِھن ہو مسئلہ کتنا اُسے ہل کر ہی دیتا ہے قلم کو ہاتھ میں لینا امام احمد رضا خاں کا اگر تم کو پرکھنا ہو یہ اپنا ہے پرایا ہے تو چرچا بیچ میں لانا امام احمد رضا خاں کا جسے ہو گفتگو میں نغمگی ہم قافِیوں کا شَوق وہ دیکھے لفظوں کا چُننا امام احمد رضا خاں کا محمّد لفظ سی صورت وہ جب سوتے تو بنتی تھی کہ یادِ یار تھا سونا امام احمد رضا خاں کا سبھی اردو تراجِم سے الگ ہے مُنفَرِد ہے وہ کبھی تم ترجَمَہ پڑھنا امام احمد رضا خاں کا کمالِ قادری مجھ کو بڑا بھاتا ہے جمتا ہے جو کرتا ہے سدا چرچا امام احمد رضا خاں کا نعت خواں: مدنی رضا عطاری हिन्दी ENG اردو

جھکی ہوئی ہے جبین دل بھی لبوں پہ آقا کا نام آیا | Jhuki Hui Hai Jabeen-e-Dil Bhi Labon Pe Aaqa Ka Naam Aaya Lyrics in Urdu

جھکی ہوئی ہے جبینِ دل بھی لبوں پہ آقا کا نام آیا قلم بھی لگتا ہے سر بہ سجدہ ادب کا ایسا مقام آیا حضورِ والا کی ذات پر جب سلام بھیجا تو پھر نہ پوچھو خدا کی جانب سے میری جانب خدا کے گھر سے سلام آیا ہوا یہ محسوس جامِ کوثر چھلک رہا ہے میری نظر میں جو میرے آقا کے ذکرِ انور کا میرے ہونٹوں پہ جام آیا وہیں وہیں پر پروں کو اپنے بچھا دیا ہے ملائکہ نے جہاں جہاں بھی رسولِ عربی خدا کا دینے پیام آیا معراج کی شب رسولوں نبیوں نے دیکھا جب تو پکار اٹّھے اٹھو اور اٹھ کر صفیں بناؤ، ہے آج ہمارا امام آیا نبی کے دیں پہ لٹا کے سب کچھ حسین ابن علی تھے بولے ہمیں وہ ہیں جن کے حصّے میں بس شہادتوں کا ہے جام آیا اعمال تو نہ تھے میرے اچھے بہ روزِ محشر ہوئی ہے بخشش قبر حشر میں ہے سیّدا کا ادب ہی بس میرے کام آیا شہاب ! دل کی یہ آرزو ہے رسول اکرم کے در پہ جا کے سدا لگاؤں نواز دیجے، حضور ! در پر غلام آیا شاعر: محمد شہاب الدین سیفی نعت خواں: عمیر منیر قادری हिन्दी ENG اردو

جس در پہ غلاموں کے حالات بدلتے ہیں | Jis Dar Pe Ghulamon Ke Halaat Badalte Hain Lyrics in Urdu

جس در پہ غلاموں کے حالات بدلتے ہیں آؤ اُسی آقا کے دربار میں چلتے ہیں یہ اپنا عقیدہ ہے، جائینگے وہ جنّت میں سرکار کی سیرت کے سانچے میں جو ڈھلتے ہیں جس در پہ غلاموں کے حالات بدلتے ہیں آؤ اُسی آقا کے دربار میں چلتے ہیں لِلّٰہ بلا لیجئے دکھ درد کے ماروں کو طیبہ کی زیارت کو ارمان مچلتے ہیں جس در پہ غلاموں کے حالات بدلتے ہیں آؤ اُسی آقا کے دربار میں چلتے ہیں ہوتا ہے کرم جن پہ سُلطانِ مدینہ کا طوفان کی موجوں سے بے خوف نکلتے ہیں جس در پہ غلاموں کے حالات بدلتے ہیں آؤ اُسی آقا کے دربار میں چلتے ہیں تو ادنیٰ گدا بن جا سرکار کی چوکھٹ کا سب شاہ وگدا جن کی خیرات پہ پلتے ہیں جس در پہ غلاموں کے حالات بدلتے ہیں آؤ اُسی آقا کے دربار میں چلتے ہیں کہتا ہوں، معین ! اُس دم میں نعت شہِ والا جذبات میرے جس دم اشعار میں ڈھلتے ہیں جس در پہ غلاموں کے حالات بدلتے ہیں آؤ اُسی آقا کے دربار میں چلتے ہیں نعت خواں: سیّد حسّان الله حسینی

جان عالم بے مثال جان جاناں بے مثال | Jane Alam Bemisal Jane Janan Bemisal Lyrics in Urdu

جان عالم بے مثال، جان جاناں بے مثال عرش اعظم کا وہ دولہا بے مثال ہے ان کی باتیں بے مثال، ان کا لہجہ بے مثال میرے آقا کا سراپا بے مثال ہے جس سے ضیا پاتے ہیں ستارے، جس سے چمکتے ہیں یہ نظارے جس کا شیدائی سنسار، ترسے کرنے کو دیدار میرے آقا کا وہ چہرہ بے مثال ہے شبیری جذبات الگ ہے، ابن علی کی بات الگ ہے اپنا لٹوا کے گھربار، مذہب کر ڈالا گلزار شاۂ طیبہ کا نواسا بے مثال ہے حکم ہوا جب خواجہ پیا کا، کوزے میں ساگر ہے سمایا دنیا ہوتی ہے حیران، رب سے پائی ہے وہ شان میرے خواجہ کا کٹورا بے مثال ہے کعبے کا مہمان ہوا وہ، پیروں میں ذیشان ہوا وہ جس کی سیرت بے مثال، جس کا چہرہ بے مثال اَعْلیٰ حضرت کا نواسا بے مثال ہے بھوکی رہ کر بھی مسکائے، بچّوں کو جی بھر کے کھلائے ماں کی، عظمت ! اَعْلیٰ شان، اس کا شاہد ہے قرآن سر پے والدہ کا سایا بے مثال ہے شاعِر: عظمت رضا بھاگلپوری نعت خواں: عظمت رضا بھاگلپوری حسن رضا نوشاہی