اشاعتیں

Seen لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

سارا جہاں فدا ہے میلاد مصطفیٰ ہے | Sara Jahan Fida Hai Milad-e-Mustafa Hai Lyrics in Urdu

سارا جہاں فِدا ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے ہر کوئی کہہ رہا ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے میلادِ مصطفیٰ ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے صدیوں سے مُنتظر تھا جس نُور کا زمانہ وہ نُور آ رہا ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے میلادِ مصطفیٰ ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے بارہ ربیع الاوّل تجھ پر نِثار جاؤں کیسا شرف مِلا ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے میلادِ مصطفیٰ ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے سرکار کی آمد ! مَرحَبا ! دلدار کی آمد ! مَرحَبا ! آقا کی آمد ! مَرحَبا ! مولا کی آمد ! مَرحَبا ! سب جُھوم کے بولو ! مَرحَبا ! لب چُوم کے بولو ! مَرحَبا ! لَلکار کے بولو ! مَرحَبا ! میلادِ مصطفیٰ ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے سِدرہ سے لے کے اُترے جبریل تین جھنڈے پیغام دے دِیا ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے میلادِ مصطفیٰ ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے رونق لگی ہوئی ہے گھر آمِنہ کے آؤ مکّے میں غُل اُٹھا ہے، میلادِ مصطفیٰ ہے رونق لگی ہوئی ہے گھر آمِنہ کے آؤ گھر آمِنہ کے آؤ، گھر آمِنہ کے آؤ بھر لو کرم نال جھولیاں، آ جاؤ منگتیو ! صبحِ صادق ہے، فقیرو ! آمِنہ کے گھر چلو کاسہ لے کر، بے سہارو ! آمِنہ کے گھر چلو خوب صدقہ بٹ رہا ہے، آمِنہ کے لعل کا تاجدارو مالدارو ! آمِنہ کے گھر چلو ...

سحر کی فضا میں جو اک روشنی ہے | وہ میرے نبی کی ہی جلوہ گری ہے | Wo Mere Nabi Ki Hi Jalwagari Hai Lyrics in Urdu

سحر کی فضا میں جو اِک روشنی ہے وہ میرے نبی کی ہی جلوہ گری ہے نبی کی محبّت ہے ایماں کا محور یہی بندگی ہے، یہی زِندگی ہے ملک ہوں بشر ہوں، فلک ہوں زمیں ہو سبھی پر، حضور ! آپ کی سروری ہے ترستی ہے خوشبو بھی چُھونے کو دامن وہ خوشبو جو زُلفِ نبی سے چلی ہے ہے سجّاد کے لب پہ نامِ محمّد یہی نام ایمان کی تازگی ہے نعت خواں: سید حسان اللہ حسینی हिन्दी ENG اردو

سر جھکاتا ہوں میں خدا کے لئے | Sar Jhukata Hun Main Khuda Ke Liye Lyrics in Urdu

سر جُھکاتا ہُوں میں خدا کے لئے جان حاضِر ہے مصطفیٰ کے لئے ہاتھ اُٹھے بھی نہ تھے دُعا کے لئے مصطفیٰ آ گئے عطا کے لئے ساتھ زینب سکینہ صُغرٰی کے نِکلے اصغر بھی کربلا کے لئے حادثہ سر سے ٹل ہی جائے گا میری ماں ہے ابھی دُعا کے لئے ہے مُجاہد کھڑا مُصَلّے پر رُک گئی ریل اِقتِدا کے لئے میں ہر اِک نیک کام کرتا ہُوں اپنے اللہ کی رضا کے لئے جُھوم کر تم پڑھو، ندیم رضا ! نعت ہے رُوح کی غِذا کے لئے شاعر: ندیم رضا فیضی نعت خواں: ندیم رضا فیضی हिन्दी ENG اردو

سلطان کربلا کو ہمارا سلام ہو | Sultan-e-Karbala Ko Hamara Salam Ho Lyrics in Urdu

سُلطانِ کربلا کو ہمارا سلام ہو جانانِ مصطفیٰ کو ہمارا سلام ہو عبّاس نامدار ہیں زخموں سے چُور چُور اُس پیکرِ رضا کو ہمارا سلام ہو اکبر سے نوجوان بھی رن میں ہُوئے شہید ہم شکلِ مصطفیٰ کو ہمارا سلام ہو بھائی، بھتیجے، بھانجے سب ہو گئے نِثار ہر لعلِ بے بہا کو ہمارا سلام ہو اصغر کی ننھی جان پہ لاکھوں درود ہوں مظلوم و بے خطا کو ہمارا سلام ہو ہو کر شہید قوم کی کشتی تِرا گئے اُمّت کے نا خُدا کو ہمارا سلام ہو ناصِر وِلائے شاہ میں کہتا ہے بار بار مہمانِ کربلا کو ہمارا سلام ہو نعت خواں: محمد اویس رضا قادری اسد رضا عطاری سید حسان اللہ حسینی حافظ طاہر قادری سیدہ اریبہ فاطمہ हिन्दी ENG اردو

سید نے کربلا میں وعدے نبھا دیے ہیں | Syed Ne Karbala Mein Wade Nibha Diye Hain Lyrics in Urdu

سیّد نے کربلا میں وعدے نِبھا دیے ہیں دینِ محمّدی کے گُلشن کِھلا دیے ہیں بولے حُسین، مولا ! تیری رضا کی خاطر اِک ایک کر کے میں نے ہیرے لُٹا دیے ہیں دینِ نبی پہ واری اکبر نے بھی جوانی عبّاس نے بھی اپنے بازُو کٹا دیے ہیں زینب کے باغ میں بھی دو پُھول تھے مہکتے زینب نے وہ بھی دونوں راہِ خُدا دیے ہیں زہرا کے ناز پالے، پُھولوں پہ سونے والے کربل کی خاک پر وہ ہیرے لُٹا دیے ہیں سرکار ہوں گے راضی اُس سے بھی سُن لو، حافظ ! دو چار آنسُو رو کر جس نے بہا دیے ہیں نعت خوان: پروفیسر عبدالرؤف روفی اسد رضا عطاری حافظ احسن قادری हिन्दी ENG اردو

سرکار کا دربار نہیں دیکھ رہے کیا | Sarkar Ka Darbar Nahi Dekh Rahe Kya Lyrics in Urdu

سرکار کا دربار نہیں دیکھ رہے کیا ؟ دربار میں دو یار نہیں دیکھ رہے کیا ؟ تم دنیا کے مِعیار تو سب دیکھ رہے ہو اللہ کا مِعیار نہیں دیکھ رہے کیا ؟ کہتے ہو کہ قرآن میں بُوبَکْر کہاں ہے ؟ تم آیتِ فِی الْغَار نہیں دیکھ رہے کیا ؟ دُولہا بنے آئے ہیں ابُوبَکْر کے گھر میں کونین کے سردار نہیں دیکھ رہے کیا ؟ صدّیق امامت پہ ہے اور مُقْتدیوں میں تم حیدرِ کرّار نہیں دیکھ رہے کیا ؟ ہر گھر نہیں اللہ کا گھر ہوتا، میرے دوست ! تم مسجدِ ضرّار نہیں دیکھ رہے کیا ؟ تحسین ! ابھی حق کے طرف دار بہت ہیں یہ مجمعِ بییدار نہیں دیکھ رہے کیا ؟ شاعر: یونس تحسین نعت خواں: وقار عمر ڈنگراج हिन्दी ENG اردو

کونین کے دولہا کے صدقے میں خدائی ہے | سنتے ہیں کہ محشر میں تضمین کے ساتھ | Kaunain Ke Dulha Ke Sadqe Mein Khudai Hai Lyrics in Urdu

کونین کے دولہا کے صدقے میں خُدائی ہے محبوبِ کریما نے ہاں شان وہ پائی ہے مولا نے فَتَرۡضٰی خوشخبری سُنائی ہے سُنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رَسائی ہے گر اُن کی رَسائی ہے لو جب تو بن آئی ہے رحمت نے سرِ محشر کیا رنگ جمائی ہے سوغاتِ کرم دیکھو لَا تَقۡنَطُوۡا لائی ہے آقا کی شفاعت نے کیا دُھوم مچائی ہے مچلا ہے کہ رحمت نے اُمّید بندھائی ہے کیا بات تِری، مجرم ! کیا بات بَنائی ہے اعمالِ سیہ نے جب پِھٹکار دِیا ہم کو ہم کیا کہیں اپنوں نے کیا پیار دِیا ہم کو ماں باپ نے بھی، آقا ! دُھتکار دِیا ہم کو سب نے صفِ محشر میں لَلکار دِیا ہم کو اے بے کسوں کے آقا ! اب تیری دُہائی ہے سرکار کی عظمت کا جب ذکرِ جلی چھیڑو بازارِ محبّت میں پھر ہوش و خِرَد بھیجو گلدستۂ تَن مَن دَھن ہر چیز ہی، اے لوگو! یُوں تو سب اُنہیں کا ہے، پَر دِل کی اگر پُوچھو یہ ٹوٹے ہوئے دِل ہی خاص اُن کی کمائی ہے یوں بزمِ محبّت سے ہرگز نہ تُو خالی اُٹھ محبوب کی چوکھٹ سے لے کر کے، سوالی ! اُٹھ سرکارِ مدینہ کے اے قلبِ فدائی ! اُٹھ اے دِل ! یہ سُلگنا کیا، جلنا ہے تو جل بھی اُٹھ دَم گُھٹنے لگا، ظالِم ! کیا دُھونی رَما...

سنتے ہیں کہ محشر میں صرف ان کی رسائی ہے | Sunte Hain Ke Mehshar Mein Sirf Un Ki Rasai Hai Lyrics in Urdu

سُنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رَسائی ہے گر اُن کی رَسائی ہے لو جب تو بن آئی ہے مچلا ہے کہ رحمت نے اُمّید بندھائی ہے کیا بات تِری، مجرم ! کیا بات بَنائی ہے سب نے صفِ محشر میں لَلکار دِیا ہم کو اے بے کسوں کے آقا ! اب تیری دُہائی ہے یُوں تو سب اُنہیں کا ہے، پَر دِل کی اگر پُوچھو یہ ٹوٹے ہوئے دِل ہی خاص اُن کی کمائی ہے زائر گئے بھی کب کے، دِن ڈَھلنے پہ ہے، پیارے ! اُٹھ میرے اَکیلے چل، کیا دیر لگائی ہے بازارِ عمل میں تو سودا نہ بنا اپنا سرکار کرم تجھ میں عیبی کی سَمائی ہے گِرتے ہووں کو مژدہ سجدے میں گِرے مولیٰ رو رو کے شفاعت کی تمہید اُٹھائی ہے اے دِل ! یہ سُلگنا کیا، جلنا ہے تو جل بھی اُٹھ دَم گُھٹنے لگا، ظالِم ! کیا دُھونی رَمائی ہے مجرم کو نہ شرماؤ، احباب ! کفن ڈَھک دو مُنھ دیکھ کے کیا ہوگا، پردے میں بھلائی ہے اب آپ ہی سنبھالیں تو کام اپنے سنبھل جائیں ہم نے تو کمائی سب کھیلوں میں گنوائی ہے اے عشق ! تِرے صَدقے جلنے سے چُھٹے سَستے جو آگ بُجھا دے گی، وہ آگ لگائی ہے حرص و ہوسِ بد سے، دِل ! تُو بھی سِتَم کر لے تُو ہی نہیں بے گانہ، دُنیا ہی پَرائی ہے ہم دِل جلے ہیں ...

کام آپ کا بندوں کو سدا رب سے ملانا | سرکار مدینہ | Kaam Aap Ka Bandon Ko Sada Rab Se Milana Lyrics in Urdu

کام آپ کا بندوں کو سدا رب سے مِلانا سرکارِ مدینہ ! سرکارِ مدینہ ! کیوں آپ پہ قربان نہ ہو سارا زمانہ سرکارِ مدینہ ! سرکارِ مدینہ ! آپ آئے تو آنے لگیں راحت کی ہَوائیں آپ آئے تو چھانے لگیں رحمت کی گھٹائیں ہر ایک کو حاصِل ہُوا خوشیوں کا خزانا سرکارِ مدینہ ! سرکارِ مدینہ ! سر پر ہے سجا ختمِ نَبُوّت کا حسیں تاج اللہ نے بخشی ہے فقط آپ کو معراج قرآن میں ہے آپ کی عظمت کا ترانا سرکارِ مدینہ ! سرکارِ مدینہ ! ہم بُھول نہیں سکتے ہیں طائِف کا وہ منظر مارے گئے پتّھر پہ جہاں آپ کو پتّھر روکے سے نہیں رُک گیا وہ اشک بہانا سرکارِ مدینہ ! سرکارِ مدینہ ! کی آپ نے اقصیٰ میں رسُولوں کی اِمامت صف باندھے کھڑی پیچھے تھی نبیوں کی جماعت بُرّاق پہ پھر آپ ہوئے عرش روانہ سرکارِ مدینہ ! سرکارِ مدینہ ! عُشّاق کی دن رات یہی رب سے گُزارش خواہش ہے اگر کوئی تو وہ آپ کی خواہش ہو آپ کی نگری میں ہمارا بھی ٹِھکانا سرکارِ مدینہ ! سرکارِ مدینہ ! کیونکر وہ کِسی اور کے رستے پہ چلے گا کیونکر وہ کسی اور کی سیرت میں ڈھلے گا ہے دل سے عزیز آپ کا ہی ایک دِوانہ سرکارِ مدینہ ! سرکارِ مدینہ ! شاعر: عبدالعزیز...

سکون دل و جاں مدینہ مدینہ | Sukoon-e-Dil-o-Jaan Madina Madina Lyrics in Urdu

اپنی آنکھوں سے مدینے کا سماں دیکھتے ہیں کتنے خوش بخت ہیں جو اُن کا جہاں دیکھتے ہیں مجھ کو معلوم ہے اِک دن وہ بُلائیں گے ضرور اعلیٰ ادنیٰ میرے آقا جی کہاں دیکھتے ہیں سُکُونِ دل و جاں مدینہ مدینہ دُکھی دل کا درماں مدینہ مدینہ تُو قُرباں ہُوا سرورِ دو جہاں پر سو میں تیرے قُربان مدینہ مدینہ مقامِ نمود و نمائش نہیں یہ ہے یہ، قلبِ ناداں ! مدینہ مدینہ قدم با ادب اور آواز دِھیمی ہُوں جب پیش مِژگاں مدینہ مدینہ چمکتا دمکتا خَلا سے نظارہ فرو زاں درخشاں مدینہ مدینہ جو کعبے کو جائے، مدینے بھی آئے نبی کا ہے فرماں مدینہ مدینہ وطن سے بھی بڑھ کر وطن کوئی، عابِد ! تو کہہ دُوں گا ہاں ہاں مدینہ مدینہ شاعر: عابد رشید نعت خواں: جویریہ سلیم हिन्दी ENG اردو

سنہری جالیاں گنب سہانا یاد آتا ہے | Sunehri Jaliyan Gumbad Suhana Yaad Aata Hai Lyrics in Urdu

سُنہری جالیاں، گُنبد سُہانا یاد آتا ہے مجھے رہ رہ کے آقا کا مدینہ یاد آتا ہے چھما چھم نُور کی برسات تھی اور سامنے خضرا رسُولِ پاک کو نعتیں سُنانا یاد آتا ہے حُدُودِ مسجدِ نبوی میں چلنا، بیٹھنا، اُٹھنا کبوتر کو وہاں دانا کِھلانا یاد آتا ہے وہ چھتری ایسے کُھلتی ہے کہ جیسے پر فرِشتوں کے پھر اُس کے سائے میں اِفطار کرنا یاد آتا ہے وہ جس خوشبُو سے آقا کو صحابہ ڈھونڈ لیتے تھے وہ خوشبُو یاد آتی ہے، پسینہ یاد آتا ہے طوافِ قبرِ حمزہ کر کے کہتی ہے ہوا اب بھی تمھارا بدر کے میداں میں آنا یاد آتا ہے بقیعِ پاک سے جب گُنبد خضرا نظر آتا کلامِ اعلیٰ حضرت گُنگُنانا یاد آتا ہے بقیعِ پاک کا منظر، صحابہ کی حسیں قبریں وہاں سے گُنبدِ خضرا کو تکنا یاد آتا ہے اُٹھے اُنگلی قمر ٹُکڑے ہو، سُورج بھی پلٹ آئے پہاڑوں کو اِشارے سے بُلانا یاد آتا ہے یہ احمد تھا نہیں لائق کہ جاتا یہ مدینے میں مگر سرکار کا پھر بھی بُلانا یاد آتا ہے شاعر: احمد الفتاح نعت خواں: احمد الفتاح हिन्दी ENG اردو

سب کو اداس کر کے رمضان جا رہا ہے | Sab Ko Udas Kar Ke Ramzan Ja Raha Hai Lyrics in Urdu

سب کو اُداس کر کے رمضان جا رہا ہے سب پے لُٹا کے اپنا فیضان جا رہا ہے آیا تھا گھر ہمارے، قسمت ہماری بن کے بھیجا تھا جو خُدا نے، وہ مہمان جا رہا ہے قسمت سے مِل گیا تھا رمضان کا مہینہ دل رو پڑا ہے جب یہ رمضان جا رہا ہے بخشش کا زریعہ بن کے رمضان آ گیا تھا بخشش لُٹا کے سب پہ رمضان جا رہا ہے نشید خواں: ناظم رضا مظہری یاسمین خان हिन्दी ENG اردو

سیر گلشن کون دیکھے دشت طیبہ چھوڑ کر | Sair-e-Gulshan Kaun Dekhe Dasht-e-Tayba Chhod Kar Lyrics in Urdu

سیرِ گُلشن کون دیکھے دشتِ طیبہ چھوڑ کر سُوئے جنّت کون جائے دَر تمہارا چھوڑ کر سرگزشتِ غم کہوں کس سے تِرے ہوتے ہوئے کس کے در پر جاؤں تیرا آستانہ چھوڑ کر بے لِقائے یار اُن کو چین آ جاتا اگر بار بار آتے نہ یوں جبریل سِدرہ چھوڑ کر کون کہتا ہے دلِ بے مُدّعا ہے خوب چیز میں تو کوڑی کو نہ لُوں ان کی تمنّا چھوڑ کر مر ہی جاؤں میں اگر اس دَر سے جاؤں دو قدم کیا بچے بیمارِ غم قربِ مسیحا چھوڑ کر کس تمنّا پر جِئیں، یا رب ! اَسیرانِ قفس آ چُکی بادِ صبا باغِ مدینہ چھوڑ کر بخشوانا مجھ سے عاصی کا رَوا ہوگا کسے کس کے دامن میں چُھپُوں دامن تمہارا چھوڑ کر خُلد کیسا ؟ نفسِ سرکش ! جاؤں گا طیبہ کو میں بدچلن ہٹ کر کھڑا ہو مجھ سے رَستہ چھوڑ کر ایسے جلوے پر کرُوں میں لاکھ حُوروں کو نِثار کیا غرض کیوں جاؤں جنّت کو مدینہ چھوڑ کر حشر میں ایک ایک کا مُونھ تکتے پھرتے ہیں عدو آفتوں میں پھنس گئے اُن کا سہارا چھوڑ کر مر کے جیتے ہیں جو اُن کے در پہ جاتے ہیں، حسن ! جی کے مرتے ہیں جو آتے ہیں مدینہ چھوڑ کر شاعر: مولانا حسن رضا خان بریلوی نعت خواں: اویس رضا قادری صابر رضا ازہری سورت اسد رضا عطاری...

سارے مسلمانوں کو رمضان مبارک | Sare Musalmano Ko Ramzan Mubarak Lyrics in Urdu

رجب مبارک، شعبان مبارک سارے مسلمانوں کو رمضان مبارک پیارے مسلمانوں کو رمضان مبارک رہے سلامت ایمان مبارک سارے مسلمانوں کو رمضان مبارک پیارے مسلمانوں کو رمضان مبارک رحمتوں کے دروازے کُھل گئے ہیں ہم پہ نعمتوں کی برساتیں ہونے لگی عالم پہ خُدا کا ہو یہ احسان مبارک سارے مسلمانوں کو رمضان مبارک پیارے مسلمانوں کو رمضان مبارک نیکیوں کے کتنے سامان ہو رہے ہیں کام سارے دیکھو آسان ہو رہے ہیں افطاری کرنا، سب کو کرانا سحری میں چُھوٹے بڑوں کو جگانا نیکی کی راہوں میں چلنا چلانا تقویٰ کیا ہوتا ہے سب کو بتانا رمضان میں بندگی کا سلیقہ خود سیکھنا اور سب کو سکھانا ہو گیا ہے کتنا آسان مبارک سارے مسلمانوں کو رمضان مبارک پیارے مسلمانوں کو رمضان مبارک رہے سلامت ایمان مبارک سارے مسلمانوں کو رمضان مبارک پیارے مسلمانوں کو رمضان مبارک شاعر: بابو فراز نشید خواں: نول خان हिन्दी ENG اردو

سویا ہوا نصیب جگانے کی رات ہے | اپنے خدا کو آج منانے کی رات ہے | Apne Khuda Ko Aaj Manane Ki Raat Hai Lyrics in Urdu

سویا ہُوا نصیب جگانے کی رات ہے اپنے خُدا کو آج منانے کی رات ہے ہر سُو برس رہی ہے عطاؤں کی بارِشیں دستِ دُعا کو آج اُٹھانے کی رات ہے دونوں جہاں کی رفعتیں اِس کے طُفیل ہیں اپنا سرِ نیاز جُھکانے کی رات ہے تیرہ دِلوں میں اِس سے ہی آئے گی روشنی ذکرِ خُدا کی شمع جلانے کی رات ہے دِل کی زمیں کو اشکوں سے سیراب کیجیے دستِ عمل میں پھول کِھلانے کی رات ہے اُترے گا اِس کے دم سے سبھی معصیت کا زنگ آنسو ندامتوں کے بہانے کی رات ہے سرور ! بسا کے اپنے دِلوں میں خُدا کا خوف ہر ایک رنج و غم کو مِٹانے کی رات ہے شاعر: سرور حسین نقشبندی نعت خواں: سرور حسین نقشبندی हिन्दी ENG اردو

سارے نبیوں کے عہدے بڑے ہیں لیکن آقا کا منصب جدا ہے | Sare Nabiyon Ke Ohde Bade Hain Lekin Aaqa Ka Mansab Juda Hai Lyrics in Urdu

سارے نبیوں کے عہدے بڑے ہیں لیکن آقا کا منصب جُدا ہے وہ امامِ صفِ انبیاء ہیں اُن کا رُتبہ بڑوں سے بڑا ہے کوئی لفظوں میں کیسے بتا دے، اُن کے رُتبے کی حد ہے تو کیا ہے ہم نے اپنے بڑوں سے سُنا ہے، صرف اللہ اُن سے بڑا ہے نام جنّت کا تم نے سُنا ہے، میں نے اس کا نظارہ کِیا ہے میں یہاں سے تمہیں کیا بتا دُوں، اُن کی نگری کی گلیوں میں کیا ہے کتنا پیارا ہے موسم وہاں کا، کتنی پُرکیف ساری فضا ہے تم میرے ساتھ خود چل کے دیکھو گردِ طیبہ بھی خاکِ شفا ہے وہ جو اِک شہرِ نورالہدیٰ ہے، جلوه گاہوں کا اِک سِلسِلہ ہے جس کی ہر صبح شمس الضحی ہے، جس کی ہر شام بدرالدجیٰ ہے مستقل اُن کی چوکھٹ عطا ہو، میرے معبود ! یہ التجا ہے کوئی پوچھے تو یہ کہہ سکوں میں، بابِ جبریل میرا پتہ ہے شاعر: پروفیسر سید اقبال عظیم نعت خواں: سید حسان اللہ حسینی ثقلین رشید हिन्दी ENG اردو

سارے عالم میں محبت کی گھٹا چھائی ہے | Sare Aalam Mein Mohabbat Ki Ghata Chhai Hai Lyrics in Urdu

سارے عالم میں محبّت کی گھٹا چھائی ہے آپ آئے تو زمانے میں بہار آئی ہے روح جب وادیٔ پُردرد میں گھبرائی ہے اُمّتی اُمّتی آقا کی صدا آئی ہے بن کے خوشبو جو میرے دِل میں اُتر آئی ہے وہ تیری یاد ہے اب روح سمجھ پائی ہے آنکھ کے تِل میں ہے محفوظ جمالِ خضرا جیسے جنّت مِری نظروں میں سِمٹ آئی ہے ذاتِ سرکار ہے نورانی صحیفوں کی دلیل یعنی قرآن سے پہلے یہ کتاب آئی ہے ہر جگہ میرے لئے سب نے بِچھائیں آنکھیں ہر جگہ تیری ہی نسبت مِرے کام آئی ہے کوئی مُشکل ہو کوئی غم ہو کرو ذکرِ حبیب یہ دوا وہ ہے جو ہر دَور میں کام آئی ہے مرنے والے کی کُھلی آنکھ کُھلی رہنے دو وہ نظر جلوۂ آقا کی تمنّائی ہے جب طبیعت غمِ تنہائی سے گھبرائی ہے ہم تیرے ساتھ ہیں یہ اُن کی صدا آئی ہے ساری دُنیا کی نِگاہوں سے گِرا ہے بیدم تب کہیں جا کے تِرے دِل میں جگہ پائی ہے شاعر: بیدم شاہ وارثی نعت خواں: اسد اقبال کلکتوی हिन्दी ENG اردو

سالار صحابہ وہ پہلا خلیفہ | سرکار کا پیارا صدیق ہمارا | ہر سنی کا نعرہ صدیق ہمارا | Salar-e-Sahaba Wo Pehla Khalifa Lyrics in Urdu

انا مجنُون مجنُون مجنُون الصِدّیق انا مجنُون مجنُون مجنُون الصِدّیق پروانے کو چراغ تو بُلبُل کو پُھول بس صِدّیق کے لیے ہے خُدا کا رسُول بس سالارِ صحابہ وہ پہلا خلیفہ سرکار کا پیارا صِدّیق ہمارا ہر سُنّی کا نعرہ صِدّیق ہمارا مصطفیٰ کا ہم سفر ! ابُوبکر ابُوبکر ! گلی گلی نگر نگر ! ابُوبکر ابُوبکر ! لُٹایا جِس نے اپنا گھر ! ابُوبکر ابُوبکر ! نہیں ہے جِس کو کوئی ڈر ! ابُوبکر ابُوبکر ! ہے چرچے جِس کے عرش پر ! ابُوبکر ابُوبکر ! لگے گا نعرہ فرش پر ! ابُوبکر ابُوبکر ! دُنیائے صداقت میں تیرا نام رہے گا صِدّیق تیرے نام سے اسلام رہے گا سالارِ صحابہ وہ پہلا خلیفہ سرکار کا پیارا صِدّیق ہمارا ہر سُنّی کا نعرہ صِدّیق ہمارا ہر نسل تیرے کام کی تجدید کریگی جب تک رہے گی دُنیا تیرا نام رہے گا سالارِ صحابہ وہ پہلا خلیفہ سرکار کا پیارا صِدّیق ہمارا ہر سُنّی کا نعرہ صِدّیق ہمارا مصطفیٰ کا ہم سفر ! ابُوبکر ابُوبکر ! گلی گلی نگر نگر ! ابُوبکر ابُوبکر ! لُٹایا جِس نے اپنا گھر ! ابُوبکر ابُوبکر ! نہیں ہے جِس کو کوئی ڈر ! ابُوبکر ابُوبکر ! ہے چرچے جِس کے عرش پر ! ابُوبکر ابُوبکر ! لگے ...

سراپا خطا ہوں نگاہ کرم ہو | میں سب سے برا ہوں نگاہ کرم ہو | Main Sab Se Bura Hoon Nigah-e-Karam Ho Lyrics in Urdu

سراپا خطا ہوں، نگاہِ کرم ہو میں سب سے بُرا ہوں، نگاہِ کرم ہو مجھے مانگنے کا سلیقہ نہیں ہے مگر مانگتا ہوں، نگاہِ کرم ہو میں کیوں در بدر ٹھوکریں کھاؤں جا کر میں بے آسرا ہوں، نگاہِ کرم ہو کہاں در بدر ٹھوکریں کھاؤں جا کر تُمھارا گدا ہوں، نگاہِ کرم ہو حضور ! آپ سے آپ کو مانگتا ہوں فقیر آپ کا ہوں، نگاہِ کرم ہو کسی اور سے مجھ کو نسبت نہیں ہے میں صرف آپ کا ہوں، نگاہِ کرم ہو منیر آپ سے اور گُزارش کروں کیا یہی چاہتا ہوں، نگاہِ کرم ہو میری داستاں مختصر ہو رہی ہے میں بُجھتا دِیا ہوں، نگاہِ کرم ہو نگاہِ کرم، اے پناہِ دو عالم ! اماں چاہتا ہوں، نگاہِ کرم ہو یقیناً تیری رحمتوں نے سنبھالا میں جب بھی گِرا ہوں، نگاہِ کرم ہو تُمھاری ہی نسبت ہے سرمایہ میرا میں صرف آپ کا ہوں، نگاہِ کرم ہو مجھے اپنے قدموں میں بلوا لو، آقا! کرم، شاہِ والا! نگاہِ کرم ہو عطا کیجیے حاضری کا قرینہ مدینے چلا ہوں، نگاہِ کرم ہو مجھے خوابِ غفلت سے بیدار کر دو میں سویا پڑا ہوں، نگاہِ کرم ہو نعت خواں: مرغوب احمد ہمدانی حاجی مشتاق عطاری حوریہ فہیم قادری हिन्दी ENG اردو

سارے عالم کی مٹی میں جلوہ فگن جتنے ذرے ہیں اتنے درود آپ پر | Sare Aalam Ki Matti Mein Jalwa-figan Jitne Zarre Hain Utne Durood Aap Par Lyrics in Urdu

سارے عالم کی مٹّی میں جلوہ فگن جتنے ذرّے ہیں اُتنے درود آپ پر باغِ کونین کے سارے اشجار میں جتنے پتّے ہیں اُتنے درود آپ پر چشمِ انساں سے اشکوں کے ٹپکے ہوئے جتنے قترے ہیں اُتنے درود آپ پر آسماں کے دوشالے میں ٹانکے ہوئے جتنے تارے ہیں اُتنے درود آپ پر ساری تقریر و تحریرِ انسان میں، ربِّ کونین کے سارے قرآن میں جس قدر حرف ہیں اور ہر حرف کے جتنے نقطے ہیں اُتنے درود آپ پر ذرّہ و آفتاب و مہ و کہکشاں، رنگِ رُخسارِ گُل حُسنُ روئے بُتاں میرے کہنے کا مطلب ہے تخلیق کے جتنے جلوے ہیں اُتنے درود آپ پر اے علیم ! اب خدا سے یہ فریاد ہے، اُس کو معلوم عصیاں کی تعداد ہے میرے اعمال نامے کے صفحات پر جتنے دھبّے ہیں اُتنے درود آپ پر شاعر: ڈاکٹر علیم عثمانی نشید خواں: حافظ حسان انزر हिन्दी ENG اردو