اشاعتیں

Wao لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

واہ کیا جود و کرم ہے شہ بطحا تیرا | Wah Kya Jood-o-Karam Hai Shah-e-Batha Tera Lyrics in Urdu

واہ کیا جُود و کرم ہے، شہِ بَطْحا ! تیرا نہیں سُنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا دھارے چلتے ہیں عطا کے وہ ہے قطرہ تیرا تارے کِھلتے ہیں سخا کے وہ ہے ذَرّہ تیرا فیض ہے، یا شہِ تسنیم ! نِرالا تیرا آپ پیاسوں کے تَجَسُّس میں ہے دریا تیرا اَغنیا پلتے ہیں دَر سے وہ ہے باڑا تیرا اَصفیا چلتے ہیں سر سے وہ ہے رَستا تیرا فَرْش والے تیری شوکت کا عُلُو کیا جانیں خُسروا ! عرش پہ اُڑتا ہے پَھریرا تیرا آسماں خوان، زمیں خوان، زمانہ مہمان صاحبِ خانہ لقب کس کا ہے تیرا تیرا میں تو مالِک ہی کہوں گا کہ ہو مالِک کے حبیب یعنی محبوب و مُحِب میں نہیں میرا تیرا تیرے قدموں میں جو ہیں غیر کا منہ کیا دیکھیں کون نظروں پہ چڑھے دیکھ کے تلوا تیرا بحرِ سائل کا ہُوں سائل نہ کنوئیں کا پیاسا خود بُجھا جائے کلیجا مِرا چِھینٹا تیرا چور حاکم سے چُھپا کرتے ہیں یاں اِس کے خلاف تیرے دامن میں چُھپے چور انوکھا تیرا آنکھیں ٹھنڈی ہوں، جِگر تازے ہوں، جانیں سیراب سچّے سُورج وہ دِل آرا ہے اُجالا تیرا دل عبث خوف سے پتّا سا اُڑا جاتا ہے پلّہ ہلکا سہی بھاری ہے بھروسا تیرا ایک میں کیا میرے عِصیاں کی حقیقت کتنی مجھ سے س...

سحر کی فضا میں جو اک روشنی ہے | وہ میرے نبی کی ہی جلوہ گری ہے | Wo Mere Nabi Ki Hi Jalwagari Hai Lyrics in Urdu

سحر کی فضا میں جو اِک روشنی ہے وہ میرے نبی کی ہی جلوہ گری ہے نبی کی محبّت ہے ایماں کا محور یہی بندگی ہے، یہی زِندگی ہے ملک ہوں بشر ہوں، فلک ہوں زمیں ہو سبھی پر، حضور ! آپ کی سروری ہے ترستی ہے خوشبو بھی چُھونے کو دامن وہ خوشبو جو زُلفِ نبی سے چلی ہے ہے سجّاد کے لب پہ نامِ محمّد یہی نام ایمان کی تازگی ہے نعت خواں: سید حسان اللہ حسینی हिन्दी ENG اردو

وہی فاطمہ ہے وہی فاطمہ ہے | Wahi Fatima Hai Wahi Fatima Hai Lyrics in Urdu

نبی نے جسے دل کا ٹُکڑا کہا ہے وہی فاطمہ ہے، وہی فاطمہ ہے زمانہ کہاں اُس کا سمجھے گا رُتبہ کھڑے جس کی آمد پہ ہوتے تھے آقا لقب جس کو خاتُونِ جنّت مِلا ہے وہی فاطمہ ہے، وہی فاطمہ ہے اُسی سے سِیادت کے مہکے چمن ہیں اُسی کے تو بیٹے حُسین و حَسن ہیں کہ شوہر بھی جس کا وہ شیرِ خدا ہے وہی فاطمہ ہے، وہی فاطمہ ہے کِیا ذِکْر پردے کا جب فاطمہ نے تو خود رُوح اُس کی نِکالی خُدا نے اندھیرے میں جس کا جنازہ اُٹھا ہے وہی فاطمہ ہے، وہی فاطمہ ہے کسی سے شِکایت نہ ہونٹوں پہ شِکوے ہوئے جتنے فاقے، کیے اُتنے سجدے وہ جس نے فقیروں کو پھر بھی دِیا ہے وہی فاطمہ ہے، وہی فاطمہ ہے جو سردار ہے جنّتی عورتوں کی اُسی سے ہے عِزّت ہمارے گھروں کی ظفر بزمی ! ہر بیٹی جس پر فِدا ہے وہی فاطمہ ہے، وہی فاطمہ ہے شاعر: ظفر بزمی نعت خواں: اسلام برکاتی हिन्दी ENG اردو

وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہمہ تن کرم بنایا | Wohi Rab Hai Jis Ne Tujh Ko Hamatan Karam Banaya Lyrics in Urdu

وہی رب ہے جس نے تجھ کو ہَمہ تن کرم بنایا ہمیں بھیک مانگنے کو تِرا آستاں بتایا تجھے حمد ہے، خدایا ! تمہِیں حاکمِ برایا، تمہِیں قاسمِ عطایا تمہِیں دافعِ بلایا، تمہِیں شافعِ خطایا کوئی تم سا کون آیا وہ کنواری پاک مریم، وہ نَفَخْتُ فِیْہ کا دم ہے عجب نشانِ اعظم مگر آمِنہ کا جایا وہی سب سے افضل آیا یہی بولے سِدرہ والے، چمنِ جہاں کے تھالے سبھی میں نے چھان ڈالے تِرے پایہ کا نہ پایا تجھے یک نے یک بنایا فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ، یہ مِلا ہے تم کو مَنصَب جو گدا بنا چُکے اب اُٹھو وقتِ بخشِش آیا کرو قسمتِ عطایا وَ اِلَی الْاِلٰہِ فَارْغَبْ، کرو عرض سب کے مَطلب کہ تمہیں کو تکتے ہیں سب، کرو اُن پر اپنا سایا بنو شافعِ خطایا ارے، اے خدا کے بندو ! کوئی میرے دل کو ڈھونڈو مِرے پاس تھا ابھی تو، ابھی کیا ہُوا خدایا ! نہ کوئی گیا نہ آیا ہمیں، اے رضا ! تِرے دل کا پتا چلا بہ مشکل درِ روضہ کے مقابل وہ ہمیں نظر تو آیا یہ نہ پوچھ کیسا پایا کبھی خَندَہ زیرِ لب ہے، کبھی گِریہ ساری شب ہے کبھی غم کبھی طَرب ہے، نہ سبب سمجھ میں آیا نہ اُسی نے کچھ بتایا کبھی خاک پر پڑا ہے، سرِ چَرخ زیرِ پا...

وہ میرا غنی میرا غنی میرا غنی ہے | Wo Mera Ghani Mera Ghani Mera Ghani Hai Lyrics in Urdu

باوفا باحیا، اعلیٰ و عالی صفا میرا عثمان وہ جس کے وسیلے سے ہر اک بات بنی ہے وہ میرا غنی، میرا غنی، میرا غنی ہے وہ میرا غنی، میرا غنی، میرا غنی ہے میرا مُرشِد، میرا مولا، میرا سُلطان ہے عثمان میرا داتا، میرا آقا، میری پہچان ہے عثمان سخیوں کا سخی ہے، عثمانِ غنی ہے سخیوں کا سخی ہے، عثمانِ غنی ہے جو جامعِ قرآن ہے، ہے عاملِ سُنّت تا عُمْر دِیا جس نے ہمیں درسِ شریعت وہ جس سے کلی دین کے گُلشن کی کِھلی ہے وہ میرا غنی، میرا غنی، میرا غنی ہے جو فخرِ ابوبکر ہے، دامادِ نبی ہے لو جس سے عُمَر اور علی کی بھی لگی ہے اُس سا نہ زمانے میں کوئی آیا سخی ہے وہ میرا غنی، میرا غنی، میرا غنی ہے عثمان کا دُشمن تو نبی کا بھی ہے دُشمن دُشمن ہے خدا کا، وہ علی کا بھی ہے دُشمن دوزخ کا وہ حقدار ہے، حق بات یہی ہے وہ میرا غنی، میرا غنی، میرا غنی ہے ہو کیسے بیاں حضرتِ عثمان کی عظمت قرآن کو پڑھتے ہوئے پائی ہے شہادت وہ جس کی جبیں آگے نہ دُشمن کے جُھکی ہے وہ میرا غنی، میرا غنی، میرا غنی ہے ہم اہلِ سُنن ہیں، یہ عقیدہ ہے ہمارا جو اِس کو نہیں مانتا، اُس سے ہے کنارہ ہر ایک صحابیِ نبی رب کا ولی ہے وہ...

ولولۂ عشق و الفت آیا قربانی کا دن | Walwala-e-Ishq-o-Ulfat Aaya Qurbani Ka Din Lyrics in Urdu

قُربانی ہے رب کے لیے اور شُُکرانہ سب کے لیے ولولۂ عشق و اُلفت، آیا قُربانی کا دِن یہ ہے اِبراہیمی سُنّت، آیا قُربانی کا دِن قُربانی ہے رب کے لیے اور شُُکرانہ سب کے لیے آیا قُربانی کا دِن، آیا قُربانی کا دِن آیا قُربانی کا دِن، آیا قُربانی کا دِن جانور اور مال کا صدقہ ہیں یہ قُربانیاں ہوگی گھر بھر کی حفاظت، آیا قُربانی کا دِن قُربانی ہے رب کے لیے اور شُُکرانہ سب کے لیے آیا قُربانی کا دِن، آیا قُربانی کا دِن آیا قُربانی کا دِن، آیا قُربانی کا دِن ہے حدیثِ مصطفیٰ اور حِصّۂ قرآن ہے یہ ہے قُربانی عبادت، آیا قُربانی کا دِن قُربانی ہے رب کے لیے اور شُُکرانہ سب کے لیے آیا قُربانی کا دِن، آیا قُربانی کا دِن آیا قُربانی کا دِن، آیا قُربانی کا دِن اے اُجاگر ! خوش دِلی سے جانور قُربان کر مِلتی ہے اللہ کی قُربت، آیا قُربانی کا دن قُربانی ہے رب کے لیے اور شُُکرانہ سب کے لیے آیا قُربانی کا دِن، آیا قُربانی کا دِن آیا قُربانی کا دِن، آیا قُربانی کا دِن شاعر: علامہ نثار علی اجاگر نعت خواں: حافظ غلام مصطفیٰ قادری हिन्दी ENG اردو

وہ دن آئے گا اک بار میں مدینے جاؤں گا | Wo Din Aayega Ek Baar Main Madine Jaunga Lyrics in Urdu

وہ دن آئے گا اِک بار، میں مدینے جاؤں گا کرنے روضے کا دیدار، میں مدینے جاؤں گا وہ دن آئے گا اِک بار، میں مدینے جاؤں گا شاہِ مدینہ، رحمتِ عالم، نبیوں کے سردار دیکھیں، کب دِکھلائیں اپنا نُورانی دربار میں تو ہُوں کب سے تیّار، میں مدینے جاؤں گا وہ دن آئے گا اِک بار، میں مدینے جاؤں گا مجھ کو یقیں ہے، کرم کریں گے آمنہ بی کے لال اُن کو تو معلوم ہے، واللہ ! میرے دل کا حال کہتے ہیں یہ دِل کے تار، میں مدینے جاؤں گا وہ دن آئے گا اِک بار، میں مدینے جاؤں گا دیکھا نہیں اُن کا در اب تک، کیا ہو گا انجام ! میرے دِل کی دھڑکن مجھ کو دیتی ہے پیغام مرنے سے پہلے اِک بار میں مدینے جاؤں گا وہ دن آئے گا اِک بار، میں مدینے جاؤں گا دیکھ کے مجھ عاصی کو اُن کو آ جائے گا پیار نُورانی چادر میں چُھپا لیں گے اُس دم سرکار لے کر جب اشکوں کے ہار میں مدینے جاؤں گا وہ دن آئے گا اِک بار، میں مدینے جاؤں گا کیا غم ہے کہ جکڑے ہوئے ہے دُوری کی زنجیر مِل جائے گی مجھ کو میرے خوابوں کی تعبیر جس دن چاہیں گے سرکار، میں مدینے جاؤں گا وہ دن آئے گا اِک بار، میں مدینے جاؤں گا ہے آمنہ میں مِیم، حلیمہ میں مِیم ہے م...

جو ہے خدا کا اک ولی | وہ میرا پیر ازہری | Wo Mera Peer Azhari Lyrics in Urdu

جو ہے خدا کا اِک ولی، ہے سچّا عاشقِ نبی عطا ہے غوثِ پاک کی، وہ میرا پیر ازہری وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری دُعائے مصطفیٰ رضا، رضائے مصطفیٰ رضا صدائے مصطفیٰ رضا، عطائے مصطفیٰ رضا ہے اُس پہ ہر جگہ صدا نگاہِ مصطفیٰ رضا ہے ایسی شان کا دَھنی، وہ میرا پیر ازہری وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری بُزُرگوں کی دُعائیں لے کے ہند سے وہ جب چلا پہنچ کے مصر دیکھتے ہی دیکھتے وہ چھا گیا یہ اُس کا عِلمی مرتبہ، تھا دنگ سارا جامعہ بنا جو فخرِ ازہری، وہ میرا پیر ازہری وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری مچا کے علم و فن کی دُھوم مصر سے وہ آ گئے یہ اُن کی شان تھی کہ لینے مصطفیٰ رضا گئے تھا اِتنا آپ پر یقیں، بنایا اپنا جانشیں اُنہیں کو کہتے ہیں سبھی، وہ میرا پیر ازہری وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری وہ میرا پیر ازہری، وہ میرا پیر ازہری غرورِ دُشمنِ نبی کو توڑتا چلا گیا سبھی کو مسلکِ رضا سے جوڑتا چلا گیا ہر ایک صُلْحِ کُلّی کا جو پردہ فاش کر گیا تھا کون بول د...

جس کو کہتے ہیں سلطان پیغمبراں | وہ پیغمبر مدینے میں موجود ہے | Wo Paigambar Madine Mein Maujood Hai Lyrics in Urdu

جس کو کہتے ہیں سُلطانِ پیغمبراں وہ پیغمبر مدینے میں موجود ہے رہبروں کی جسے سَربَراہی مِلی ایسا رہبر مدینے میں موجود ہے اہلِ دنیا کے سردار ہیں انبیاء رب نے اُونچا کِیا سب کا ہے مرتبہ انبیاء جس کو سردار اپنا کہیں ہاں وہ اَفْسَر مدینے میں موجود ہے جس کو کہتے ہیں سُلطانِ پیغمبراں وہ پیغمبر مدینے میں موجود ہے روز آتے ہیں رب کے فرشتے جہاں مصطفیٰ نے کہا جس کو باغِ جناں جس کی عظمت پہ نازاں ہے عرشِ بریں ایسا اِک گھر مدینے میں موجود ہے جس کو کہتے ہیں سُلطانِ پیغمبراں وہ پیغمبر مدینے میں موجود ہے کس قدر اُس کے دل میں تھا عشقِ نبی سانپ نے ڈس لِیا اور اُف تک نہ کی اَصْدَقُ الصّادِقِیں رَاحَۃُ العَاشِقِیں یارِ سرور مدینے میں موجود ہے جس کو کہتے ہیں سُلطانِ پیغمبراں وہ پیغمبر مدینے میں موجود ہے جو فِراقِ مدینہ میں رنجُور ہے کون کہتا ہے طیبہ سے وہ دُور ہے ظاہِراً ہو کہیں ہاں مگر فِکر میں وہ گداگر مدینے میں موجود ہے جس کو کہتے ہیں سُلطانِ پیغمبراں وہ پیغمبر مدینے میں موجود ہے میں ہُوں، شوقِ فریدی ! غُلامِ نبی مجھ کو اُن سے جُدا مت سمجھنا کبھی دُور ہُوں میں مدینے سے تو کیا...

وہ نبیوں میں سب سے بڑی شان والے | ہمارا نبی سب سے پیارا نبی | Wo Nabiyon Mein Sab Se Badi Shan Wale Lyrics in Urdu

ہمارا نبی سب سے پیارا نبی ہمارا نبی سب سے پیارا نبی وہ نبیوں میں سب سے بڑی شان والے جہاں بھر میں اُن سے ہیں ہر سُو اُجالے مُزَمِّل، مُدَثِّر، وہ یٰسین و طٰہٰ ہیں بعد از خُدا کے وہ رُتبے میں اعلیٰ مِلیں گے تمہیں ہر ورق پر حوالے جہاں بھر میں اُن سے ہیں ہر سُو اُجالے یا نبی ! یا نبی ! یا نبی ! یا نبی ! محمّد ہمارے حسیں خُوب تَر ہیں وہ نبیوں میں افضل، وہ اعلیٰ بشر ہیں وہ اِک شب میں عرشِ بریں جانے والے جہاں بھر میں اُن سے ہیں ہر سُو اُجالے وہ نبیوں میں سب سے بڑی شان والے جہاں بھر میں اُن سے ہیں ہر سُو اُجالے وہ محشر میں اُمّت کا بن کر سہارا اُسی کے بِنا تو نہیں ہے گُزارا پِلائیں گے کوثر کے سب کو پِیالے جہاں بھر میں اُن سے ہیں ہر سُو اُجالے یا نبی ! یا نبی ! یا نبی ! یا نبی ! نبی کی اِہانت نہیں ہے گوارا محمّد سے اُلفت ہے ایماں ہمارا محمّد پہ دل سے فدا ہم جِیالے جہاں بھر میں اُن سے ہیں ہر سُو اُجالے وہ نبیوں میں سب سے بڑی شان والے جہاں بھر میں اُن سے ہیں ہر سُو اُجالے وہ آئے تو وحدت کا فرمان سمجھے وہ آئے تو انساں کو انسان سمجھے دلوں سے جہالت کے سب ٹُوٹے تالے جہاں...

وہ ماہ فروزاں وہ نیر تاباں | میرا مصطفیٰ ہے | Wo Mah-e-Farozan Wo Nayyar-e-Taaban Lyrics in Urdu

وہ ماہِ فروزاں وہ نیّرِ تاباں میرا مصطفیٰ ہے، میرا مصطفیٰ ہے وہ بارہ رَبِیعُ الْاَوَّل کو آیا جو اوّل بنا ہے، میرا مصطفیٰ ہے تو کیا تو نے دیکھا وہ آنا وہ جانا کہ حیرت میں ہے اب تلک یہ زمانہ وہ رب کا بُلانا، تو سب کو دِکھانا یہ جو آ رہا ہے، میرا مصطفیٰ ہے قُدْسی کھڑے ہیں حیران ہو کے کہ سِدرہ سے آگے بشر جا رہا ہے جاتا ہے دیکھو وہ بے خوف کیسے کہ سب جانتا ہے یہ راہیں وہ جیسے وہ یوں جا رہا ہے، جیسے کہ کوئی گھر والا اپنے ہی گھر جا رہا ہے وہ قِصّہ حلیمہ کے آنگن کا دیکھو جوانی سے پہلے تم بچپن کا پوچھو ابھی مصطفیٰ نے اُٹھائی ہے انگلی قمر سے تو پوچھو کدھر جا رہا ہے کہاں تو، اے شاکر ! کہاں اُن کی نعتیں کہاں اپنی ذاتیں، کہاں اُن کی باتیں یہ کیوں کہہ رہے ہو بشر جا رہا ہے حقیقت میں خیر البشر جا رہا ہے نعت خواں: قاری شاہد محمود قادری हिन्दी ENG اردو

وہ غوث الوریٰ آفتاب ولایت کی چوکھٹ پہ جانے کو جی چاہتا ہے | Wo Ghaus-ul-wara Aftab-e-Wilayat Ki Chaukhat Pe Jane Ko Ji Chahta Hai Lyrics in Urdu

وہ غوث الوریٰ آفتابِ ولایت کی چوکھٹ پہ جانے کو جی چاہتا ہے درِ غوثِ کونین پہ جا کے اپنا مُکدّر جگانے کو جی چاہتا ہے اِشارے پہ تیرے اُبھر آئی کشتی، جو بارہ برس قبل غرق ہوئی تھی تیری شان و شوکت کے آگے سرِ دل میرا اب جُھکانے کو جی چاہتا ہے میرے غوث کا ہر سُو ذکرِ جلی ہو، ہوا قادرِیَت کی ہر سُو چلی ہو مجھے غوثِ کونین کی گیارہویں میں یوں دُھومیں مچانے کو جی چاہتا ہے بڑا درد دیتے ہیں یہ دنیا والے، خدارا مجھے اپنے در پر بلا لے میرے غوث، ! اب حالِ دل اپنا رو رو کے تجھ کو سُنانے کو جی چاہتا ہے تیرے نام کا وِرد کیوں نہ کروں میں، تیری ذاتِ حق پر نہ کیونکر مروں میں تو ہے آئِنہ جلوۂ مصطفیٰ کا، تیرا فیض پانے کو جی چاہتا ہے یہی عرض کرتا ہے ایّوب بِالْکُل، بنا لو اِسے اپنے گُلشن کا بُلبُل اے غوث الوریٰ ! تیری مِدحت کا نغمہ یونہی گُنگُنانے کو جی چاہتا ہے شاعر: محمد ایوب رضا امجدی نعت خواں: عبدالمصطفیٰ رضوی ادونی हिन्दी ENG اردو

وہ بن میں قدم رکھ دیں تو بن جاتا ہے بن پھول | سر تا بقدم ہے تن سلطان زمن پھول تضمین کے ساتھ | Wo Ban Mein Qadam Rakh Den To Ban Jata Hai Ban Phool Lyrics in Urdu

وہ بن میں قدم رکھ دیں تو بن جاتا ہے بن پھول جس پھول کو وہ چھو لیں وہ ہو رشکِ چمن پھول میں کیوں کہوں کہ صرف ہے آقا کا دہن پھول سر تا بقدم ہے تنِ سُلطانِ زَمن پھول لب پھول دَہن پھول ذَقن پھول بدن پھول آرام گنہگار کو اک پل نہیں مِلتا سر سے میرے آلام کا سورج نہیں ڈھلتا میں کیا کروں، سرکار ! میرا بس نہیں چلتا تنکا بھی ہمارے تو ہلائے نہیں ہلتا تم چاہو تو ہو جائے ابھی کوہِ مِحن پھول اللہ نے سرکار کی وہ شان بنائی واللہ کوئی کر نہیں سکتا ہے بڑائی حیران ہوئی دیکھ کے یہ ساری خدائی دندان و لب و زُلف و رُخِ شہ کے فِدائی ہیں دُرِّ عدن، لعلِ یمن، مُشکِ ختن، پھول اے مالکِ کُل، رشکِ جہاں، شاہِ رسولاں محبوبِ خدا، نورِ خدا، رحمتِ یزداں ہے عرض کی احباب نہ ہوں مجھ سے پریشاں ہوں بارِ گنہ سے نہ خجل دوشِ عزیزاں لِلّٰہ مِری نعش کر، اے جانِ چمن پھول کہتا ہے بشر اپنی طرح وہ ہے کمینہ دکھلاؤ اُسے شہرِ بریلی کا قرینہ اُس عاشقِ صادق نے بڑی بات کہی نہ وَاللّٰہ جو مِل جائے مِرے گل کا پسینہ مانگے نہ کبھی عِطْر، نہ پھر چاہے دُلہن پھول اوقات، وصی ! تیری نہ ہی تیرے قلم کی مت پوچھ یہ کہ کیسے یہ ...

وہ شہر محبت جہاں مصطفیٰ ہیں | Wo Shehr-e-Mohabbat Jahan Mustafa Hain Lyrics in Urdu

وہ شہرِ محبّت جہاں مصطفیٰ ہیں وہیں گھر بنانے کو جی چاہتا ہے وہ سونے سے کنکر، وہ چاندی سی مٹی نظر میں بسانے کو جی چاہتا ہے وہ شہرِ محبّت جہاں مصطفیٰ ہیں وہیں گھر بنانے کو جی چاہتا ہے قدم جس زمیں پر رکھے ہیں نبی نے وہاں کھول رکّھے ہیں در روشنی نے وہ گلیاں جہاں چلتے تھے میرے آقا وہاں دل بچھانے کو جی چاہتا ہے وہ شہرِ محبّت جہاں مصطفیٰ ہیں وہیں گھر بنانے کو جی چاہتا ہے جو پوچھا نبی نے کہ کچھ گھر بھی چھوڑا تو صدیقِ اکبر کے ہونٹوں پہ آیا وہاں مال و دولت کی کیا ہے حقیقت جہاں دل لٹانے کو جی چاہتا ہے وہ شہرِ محبّت جہاں مصطفیٰ ہیں وہیں گھر بنانے کو جی چاہتا ہے جو دیکھا ہے روئے جمالِ رسالت تو بولے عمر ، مصطفیٰ جانِ رحمت ! بڑی آپ سے دشمنی تھی مگر اب غلامی میں آنے کو جی چاہتا ہے وہ شہرِ محبّت جہاں مصطفیٰ ہیں وہیں گھر بنانے کو جی چاہتا ہے جہادِ محبّت کی آواز گونجی کہا حنظلہ نے یہ دلہن سے اپنی اجازت اگر دو تو جامِ شہادت لبوں سے لگانے کو جی چاہتا ہے وہ شہرِ محبّت جہاں مصطفیٰ ہیں وہیں گھر بنانے کو جی چاہتا ہے اُدھر دیدِ آقا میں ہر دم تڑپتے اِدھر ہر گھڑی ماں کی خدمت میں رہ...