اشاعتیں

Ghain لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

غلاموں کو آقا مدینہ دکھا دو | Ghulamon Ko Aaqa Madina Dikha Do Lyrics in Urdu

غُلاموں کو، آقا ! مدینہ دِکھا دو تمہیں یاد کر کے بہت رو رہے ہیں بڑی حسرتیں لے کے بیٹھے ہیں دل میں کسی دن بھی، آقا ! مدینہ دِکھا دو کوئی مجھ سے پُوچھے تیرے دل میں کیا ہے میرے دل میں، لوگو ! مدینہ بسا ہے جسے دیکھنے کی تمنّا میں روئے اُسی در کو، آقا! بُلا کر دِکھاؤ غُلاموں کے دل میں مدینہ بسا ہے ہر اِک دل میں آقا یہ صدمہ لگا ہے غموں کے سمندر میں ہم رو رہے ہیں کہ پل بھر میں، آقا ! مدینہ دِکھا دو بڑی متلبی دنیا ہنستی ہے مجھ پر کہ کب جا رہے ہو تم آقا کے در پر اِسی کشمکش میں یہ دل رو رہا ہے کسی دن بھی، آقا ! مدینہ دِکھا دو وہ سب سے ہیں اعلیٰ، ارے دنیا والو ! وہ نبیوں کے سُلطان ہیں، دنیا والو ! میرے دل کی دھڑکن پہ ہیں وہ بسے تو میری دھڑکنوں کو مدینہ دِکھا دو مدینے سے آ کر بتاتے ہیں حاجی بڑا خوش نُما ہے مدینہ مدینہ میرا دل یہ سُن کر بہت رو رہا ہے کہ آقا مجھے بھی مدینہ دِکھا دو بہت قافلے میں نے دیکھے ہیں جاتے ہر اِک لب پہ مُسکان طیبہ سجا ہے میں طیبہ کی گلیوں میں کھو جاؤں جا کر میرے آقا ! طیبہ کا منظر دِکھا دو سبھی جانے والے یہ کیوں رو رہے ہیں خوشی کے یہ آنسو لیے رو ...

غمزدہ ہے دل مرا اے رب کے مہماں الوداع | Ghamzada Hai Dil Mera Aye Rab Ke Mehman Al Wada Lyrics in Urdu

غمزدہ ہے دل مِرا، اے رب کے مہماں ! اَلوَداع آہ ! اب تُو چل دیا ، اے ماہِ رمضاں ! اَلوَدا ع الْفِراقُ وَالْفِراق، اے ماہِ غُفْراں ! اَلوَداع اَلوَداعُ وَالْوَداع ، اے ماہِ سُبحاں ! اَلوَداع تیری آمد کی خوشی میں ہو گئے دل باغ باغ تیری رُخصت کے سبب ہیں سب پریشاں، اَلوَداع تیرے آنے سے جہاں میں آ گئی تھیں رونقیں سب سماں سُونا ہے اب ، مَوْلیٰ کے مہماں ! اَلوَداع مجرموں کو تیرے دامن میں اَماں مِلتی رہی فَضلِ رب سے مغفِرت تھی تجھ میں آساں، اَلوَداع وقتِ افطار و سَحَر کی رونقیں جاتی رہیں کیا برستے تھے کرم کے اَبرِ باراں، اَلوَداع چھوڑ کر روتا ہوا تُو غمزدوں کو چل دیا تیری فُرقت میں تڑپتے ہیں مسلماں، اَلوَداع چار جانب ہِجرِ رمضاں میں اُداسی چھا گئی کہہ رہے ہیں خوب رو رو کر مسلماں، اَلوَدا ع ماہِ رمضاں ! جا رہا ہے ہائے ہم کو چھوڑ کر چار دن کا رہ گیا ہے آہ ! مہماں، اَلوَداع ماہِ رمضاں ! تیرے شیدائی سبھی تجھ پر فِدا تجھ پہ صدقے، تجھ پہ واری، تجھ پہ قُرباں، اَلوَداع پیشِ حق کرنا شفاعت تُو ہماری حَشر میں ماہِ رمضاں ! ہو کرم ہم پر ہو اِحساں، اَلوَداع سالِ آئندہ بھی پھر، عطّار ...

غمزدوں کو ہنسانے کفر و ظلمت مٹانے میرے شمس الضحیٰ آ گئے | Ghamzadon Ko Hansane Kufr-o-Zulmat Mitane Mere Shamsudduha Aa Gaye Lyrics in Urdu

غمزدوں کو ہنسانے کفر و ظلمت مِٹانے میرے شَمْسُ الضُّحیٰ آ گئے لوگ گُمراہ تھے، کُفر کا دَور تھا ہر طرف ظالِموں کا بڑا زور تھا بیٹیاں دفن ہوتی تھیں زندہ آدمی بن گیا تھا درندہ جگ میں رحمت لُٹانے بیٹیوں کو بچانے دیکھیے مصطفیٰ آ گئے کیا بیاں میں کروں مرتبہ غوث کا خُطبہ پڑھتے ہیں سب اولیا غوث کا دینِ حق کا وہ سچّا محافظ جو شکم میں ہوا ماں کے حافظ وہ ہیں پیروں کے پیر بن کے روشن ضمیر میرے غوث الوریٰ آ گئے اسمِ سرور ہوا خواجۂ خواجگاں دینِ حق کے لیے آئے ہندوستاں بھولے بھٹکے کو رَسْتَہ دِکھانے کافروں کو مسلماں بنانے مچ گئی کھلبلی بن کے ہند الولی میرے خواجہ پیا آ گئے شرک و بدعت کا جالا بِچھایا گیا بھولے بھالوں کو اس میں پھنسایا گیا علم و عرفاں کا دریا بہا کر رب نے بھیجا رضا کو بنا کر نجدِیَت کو مِٹانے سُنِّیَت کو بچانے میرے احمد رضا آ گئے نعت خواں: رضا حسین کلکتوی हिन्दी ENG اردو

غوث پیا کے پیارے قدم کا رتبہ ہی کچھ ایسا ہے | Ghaus Piya Ke Pyare Qadam Ka Rutba Hi Kuchh Aisa Hai Lyrics in Urdu

غوث پِیا کے پیارے قدم کا رُتبہ ہی کچھ ایسا ہے سارے ولی گردن پہ اٹھائیں، تلوا ہی کچھ ایسا ہے آنکھ کو روشن کرنے والا روضہ ہی کچھ ایسا ہے فرش پہ ہو فِردوس کا نقشہ لگتا ہی کچھ ایسا ہے نورِ علی زہرا کی طہارت، حَسن وحُسین کے لختِ جگر میرے نبی کا عبد القادر بیٹا ہی کچھ ایسا ہے قدمِ نبی پر سیرِ ولایت دیکھ کے دِل دھک دھک بولے رنگ نبی کا اُن کی ادا میں دِکھتا ہی کچھ ایسا ہے غوث و قُطُب، ابدال جہاں کے جُھولی پسارے آتے ہیں اُن کی سخاوت کا ولیوں میں چرچہ ہی کچھ ایسا ہے چور بنے ابدال یہاں سے، مُردے ہوئے پل میں زندہ اُن کی کرامت کا، اے لوگو ! درجہ ہی کچھ ایسا ہے روز کِچھوچھہ کی دھرتی پر فیض کا دریا بہتا ہے اُن کے کرم کا اِس نگری سے رِشتہ ہی کچھ ایسا ہے اُن کی وفا کا دم بھر بھر کے نُور کی سانسیں چلتی ہیں غوث کے در کے کُتّوں میں یہ کُتّا ہی کچھ ایسا ہے شاعر: سید محمد نورانی اشرف الجیلانی نعت خواں: سید محمد نورانی اشرف الجیلانی हिन्दी ENG اردو

پیروں کے بھی پیر ہیں کیا شان ہے | غوث الوریٰ میری تو جان ہیں | Ghaus-ul-wara Meri To Jaan Hain Lyrics in Urdu

یا غوثِ اعظم پیرانِ پیر ! یا غوثِ اعظم پیرانِ پیر ! میں ہوں قادری دِوانہ غوثِ پاک کا میں ہوں قادری دِوانہ غوثِ پاک کا پیروں کے پیر ہیں ! وَاللّٰہ ! روشن ضمیر ہیں ! وَاللّٰہ ! بغداد والے میراں بڑے دستگیر ہیں پیروں کے بھی پیر ہیں، کیا شان ہے غوث الوریٰ میری تو جان ہیں فاطمہ زہرا کے وہ نُورِ نظر حیدرِ کرّار کے لختِ جِگر مِلتا ہے اِن کا نسب حَسنین سے اور نانا جن کے ہیں خیر البشر اللہ اللہ کِس قَدر ذیشان ہیں غوث الوریٰ میری تو جان ہیں پیروں کے بھی پیر ہیں، کیا شان ہے غوث الوریٰ میری تو جان ہیں سُلطانِ ولایت ! غوثِ پاک ! ولیوں پہ حکومت ! غوثِ پاک ! شہبازِ خطابت ! غوثِ پاک ! فانوسِ ہدایت ! غوثِ پاک ! سرتاجِ شریعت ! غوثِ پاک ! مومن کی چاہت ! غوثِ پاک ! ہے رب کی نعمت ! غوثِ پاک ! اللہ کی رحمت ! غوثِ پاک ! غوثِ پاک ! غوثِ پاک ! غوثِ پاک ! غوثِ پاک ! جوڑا ہم کو غوث کے دربار سے اور بچایا نجدیوں کے وار سے غوث کی تعریف کیا کوئی کرے جو رضا نے کی بیاں اشعار سے اعلیٰ حضرت کے بڑے احسان ہیں غوث الوریٰ میری تو جان ہیں پیروں کے بھی پیر ہیں، کیا شان ہے غوث الوریٰ میری تو ج...