مولا شب برات ہے توبہ قبول ہو | Maula Shab-e-Barat Hai Tauba Qubool Ho Lyrics in Urdu
تو کريم ہی جو ٹھہرا، تو کرم کے کيا ٹھکانے
تو نوازنے پہ آئے، تو نواز دے زمانے
مولا ! شبِ برات ہے، توبہ قبول ہو
ہم عاصيوں پہ عفو و کرم کا نزول ہو
يہ مغفرت کی رات ہے، غافل نہ ہوئيے
عيّاشيوں ميں آج نہ يہ شب گُزاريے
ہر جرم بخش دے گا خُدا آج باليقيں
کچھ قطرے آنسو خوفِ خُدا سے بہائیے
مولا ! شبِ برات ہے، توبہ قبول ہو
ہم عاصيوں پہ عفو و کرم کا نزول ہو
در پر خُدا کے آئيں کہ توبہ کی رات ہے
سجدے ميں سر جُھکائيں کہ توبہ کی رات ہے
رو رو کے، گڑگڑا کے معافی طلب کريں
بخشے گا رب خطائيں کہ توبہ کی رات ہے
مولا ! شبِ برات ہے، توبہ قبول ہو
ہم عاصيوں پہ عفو و کرم کا نزول ہو
مولا ! ميں شرمسار ہُوں اپنے گُناہ پر
مجھ کو شبِ برات کے صدقے معاف کر
مولا ! يہ مانتا ہوں گنہگار ہوں مگر
قربان جان و دل سے ہوں تيرے حبيب پر
مولا ! شبِ برات ہے، توبہ قبول ہو
ہم عاصيوں پہ عفو و کرم کا نزول ہو
ابرِ کرم ميں آج نہانے کی رات ہے
سويا ہُوا نصيب جگانے کی رات ہے
پڑھ کے نماز، کر کے گُناہوں سے توبہ آج
خَلّاقِ دو جہاں کو منانے کی رات ہے
مولا ! شبِ برات ہے، توبہ قبول ہو
ہم عاصيوں پہ عفو و کرم کا نزول ہو
اے سيف ! آج رب کی عنايت ہے جوش پر
کر دے گا تيری ساری خطائيں وہ درگزر
بھر دے گا تيرا دامنِ امّيد آج شب
جو چاہيے خدائے جہاں سے سوال کر
مولا ! شبِ برات ہے، توبہ قبول ہو
ہم عاصيوں پہ عفو و کرم کا نزول ہو
شاعر:
سيف قادری الہ آبادی
نعت خواں:
حافظ طاہر قادری
تو نوازنے پہ آئے، تو نواز دے زمانے
مولا ! شبِ برات ہے، توبہ قبول ہو
ہم عاصيوں پہ عفو و کرم کا نزول ہو
يہ مغفرت کی رات ہے، غافل نہ ہوئيے
عيّاشيوں ميں آج نہ يہ شب گُزاريے
ہر جرم بخش دے گا خُدا آج باليقيں
کچھ قطرے آنسو خوفِ خُدا سے بہائیے
مولا ! شبِ برات ہے، توبہ قبول ہو
ہم عاصيوں پہ عفو و کرم کا نزول ہو
در پر خُدا کے آئيں کہ توبہ کی رات ہے
سجدے ميں سر جُھکائيں کہ توبہ کی رات ہے
رو رو کے، گڑگڑا کے معافی طلب کريں
بخشے گا رب خطائيں کہ توبہ کی رات ہے
مولا ! شبِ برات ہے، توبہ قبول ہو
ہم عاصيوں پہ عفو و کرم کا نزول ہو
مولا ! ميں شرمسار ہُوں اپنے گُناہ پر
مجھ کو شبِ برات کے صدقے معاف کر
مولا ! يہ مانتا ہوں گنہگار ہوں مگر
قربان جان و دل سے ہوں تيرے حبيب پر
مولا ! شبِ برات ہے، توبہ قبول ہو
ہم عاصيوں پہ عفو و کرم کا نزول ہو
ابرِ کرم ميں آج نہانے کی رات ہے
سويا ہُوا نصيب جگانے کی رات ہے
پڑھ کے نماز، کر کے گُناہوں سے توبہ آج
خَلّاقِ دو جہاں کو منانے کی رات ہے
مولا ! شبِ برات ہے، توبہ قبول ہو
ہم عاصيوں پہ عفو و کرم کا نزول ہو
اے سيف ! آج رب کی عنايت ہے جوش پر
کر دے گا تيری ساری خطائيں وہ درگزر
بھر دے گا تيرا دامنِ امّيد آج شب
جو چاہيے خدائے جہاں سے سوال کر
مولا ! شبِ برات ہے، توبہ قبول ہو
ہم عاصيوں پہ عفو و کرم کا نزول ہو
شاعر:
سيف قادری الہ آبادی
نعت خواں:
حافظ طاہر قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں