زمیں سے فلک تک یہی اک صدا ہے | میرے مصطفیٰ ہیں | Mere Mustafa Hain Lyrics in Urdu
زمیں سے فلک تک یہی اِک صدا ہے
میرے مصطفیٰ ہیں، میرے مصطفیٰ ہیں
سر اُن کے شفاعت کا سہرا سجا ہے
میرے مصطفیٰ ہیں، میرے مصطفیٰ ہیں
جو نبیوں رسُولوں کے بھی مُقْتَدیٰ ہیں
جو مولا علی کے بھی مشکل کُشا ہیں
اُنہیں سے زمانہ یہ روشن ہُوا ہے
میرے مصطفیٰ ہیں، میرے مصطفیٰ ہیں
جو اُنگلی سے کر دیتے ہیں چاند ٹُکڑے
جو چاہیں تو ڈوبا ہُوا شمس پلٹے
یہ اعجاز اُن کو خُدا نے دِیا ہے
میرے مصطفیٰ ہیں، میرے مصطفیٰ ہیں
زمیں، عرش، دریا ہے صدقہ نبی کا
ثمر، باغ و صحرا ہے صدقہ نبی کا
اُنہیں کے ہی صدقے میں سب کچھ بنا ہے
میرے مصطفیٰ ہیں، میرے مصطفیٰ ہیں
جِدھر دیکھیے روشنی روشنی ہے
شہِ انبیا کی ولادت ہوئی ہے
ذرا دیکھیے کعبہ بھی جُھومتا ہے
میرے مصطفیٰ ہیں، میرے مصطفیٰ ہیں
جو عاشق ہے اُن کا وہ ڈرتا نہیں ہے
اور ایمان کا سودا کرتا نہیں ہے
وہ چڑھ کر کے سُولی پہ بھی بولتا ہے
میرے مصطفیٰ ہیں، میرے مصطفیٰ ہیں
صحابہ شہِ دیں کے روشن سِتارے
اور آلِ نبی ڈوبتوں کے سہارے
وہ حق پر ہے اُن دونوں پر جو فِدا ہے
میرے مصطفیٰ ہیں، میرے مصطفیٰ ہیں
بِلال ! آپ کو کِس قدر ہے ستایا
سُلگتی ہوئی ریت پر بھی لِٹایا
وہ لفظ آپ کا آج بھی گونجتا ہے
میرے مصطفیٰ ہیں، میرے مصطفیٰ ہیں
قیام ! آؤ چلتے ہیں شہرِ مدینہ
جہاں بٹتا ہے رحمتوں کا خزینہ
وہاں ہر کوئی بس یہ کہتا مِلا ہے
میرے مصطفیٰ ہیں، میرے مصطفیٰ ہیں
نعت خواں:
زہیب اشرفی
میرے مصطفیٰ ہیں، میرے مصطفیٰ ہیں
سر اُن کے شفاعت کا سہرا سجا ہے
میرے مصطفیٰ ہیں، میرے مصطفیٰ ہیں
جو نبیوں رسُولوں کے بھی مُقْتَدیٰ ہیں
جو مولا علی کے بھی مشکل کُشا ہیں
اُنہیں سے زمانہ یہ روشن ہُوا ہے
میرے مصطفیٰ ہیں، میرے مصطفیٰ ہیں
جو اُنگلی سے کر دیتے ہیں چاند ٹُکڑے
جو چاہیں تو ڈوبا ہُوا شمس پلٹے
یہ اعجاز اُن کو خُدا نے دِیا ہے
میرے مصطفیٰ ہیں، میرے مصطفیٰ ہیں
زمیں، عرش، دریا ہے صدقہ نبی کا
ثمر، باغ و صحرا ہے صدقہ نبی کا
اُنہیں کے ہی صدقے میں سب کچھ بنا ہے
میرے مصطفیٰ ہیں، میرے مصطفیٰ ہیں
جِدھر دیکھیے روشنی روشنی ہے
شہِ انبیا کی ولادت ہوئی ہے
ذرا دیکھیے کعبہ بھی جُھومتا ہے
میرے مصطفیٰ ہیں، میرے مصطفیٰ ہیں
جو عاشق ہے اُن کا وہ ڈرتا نہیں ہے
اور ایمان کا سودا کرتا نہیں ہے
وہ چڑھ کر کے سُولی پہ بھی بولتا ہے
میرے مصطفیٰ ہیں، میرے مصطفیٰ ہیں
صحابہ شہِ دیں کے روشن سِتارے
اور آلِ نبی ڈوبتوں کے سہارے
وہ حق پر ہے اُن دونوں پر جو فِدا ہے
میرے مصطفیٰ ہیں، میرے مصطفیٰ ہیں
بِلال ! آپ کو کِس قدر ہے ستایا
سُلگتی ہوئی ریت پر بھی لِٹایا
وہ لفظ آپ کا آج بھی گونجتا ہے
میرے مصطفیٰ ہیں، میرے مصطفیٰ ہیں
قیام ! آؤ چلتے ہیں شہرِ مدینہ
جہاں بٹتا ہے رحمتوں کا خزینہ
وہاں ہر کوئی بس یہ کہتا مِلا ہے
میرے مصطفیٰ ہیں، میرے مصطفیٰ ہیں
نعت خواں:
زہیب اشرفی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں