نوری محفل پہ چادر تنی نور کی نور پھیلا ہوا آج کی رات ہے | Noori Mehfil Pe Chadar Tani Noor Ki Lyrics in Urdu
نوری محفل پہ چادر تنی نور کی
نور پھیلا ہوا آج کی رات ہے
چاندنی میں ہیں ڈوبے ہوئے دو جہاں
کون جلوہ نما آج کی رات ہے
عرش پر دُھوم ہے، فرش پر دُھوم ہے
کم نصیبی ہے اُس کی جو محروم ہے
پھر مِلے گی یہ شب کِس کو معلوم ہے
ہم پہ لُطفِ خُدا آج کی رات ہے
مومنو ! آج گنجِ سخا لُوٹ لو
لُوٹ لو، اے مریضو ! شِفا لُوٹ لو
عاصیو ! رحمتِ مصطفیٰ لُوٹ لو
بابِ رحمت کُھلا آج کی رات ہے
اَبرِ رحمت ہیں محفل پہ چھائے ہوئے
آسماں سے ملائک ہیں آئے ہوئے
خود محمّد ہیں تشریف لائے ہوئے
کِس قدر جاں فِزا آج کی رات ہے
مانگ لو مانگ لو چشمِ تر مانگ لو
دردِ دل اور حُسنِ نظر مانگ لو
سبز گُنبد کے سائے میں گھر مانگ لو
مانگنے کا مزا آج کی رات ہے
اِس طرف نور ہے، اُس طرف نور ہے
سارا عالم مسرّت سے معمور ہے
جس کو دیکھو وہی آج مسرُور ہے
مہک اُٹّھی فضا آج کی رات ہے
وقت لائے خُدا سب مدینے چلیں
لُوٹنے رحمتوں کے خزینے چلیں
سَب کے منزل کی جانب سفینے چلیں
میری، صائم ! دُعا آج کی رات ہے
شاعر:
علامہ صائم چشتی
نعت خواں:
الحاج محمد صدیق اسماعیل
اویس رضا قادری
نور پھیلا ہوا آج کی رات ہے
چاندنی میں ہیں ڈوبے ہوئے دو جہاں
کون جلوہ نما آج کی رات ہے
عرش پر دُھوم ہے، فرش پر دُھوم ہے
کم نصیبی ہے اُس کی جو محروم ہے
پھر مِلے گی یہ شب کِس کو معلوم ہے
ہم پہ لُطفِ خُدا آج کی رات ہے
مومنو ! آج گنجِ سخا لُوٹ لو
لُوٹ لو، اے مریضو ! شِفا لُوٹ لو
عاصیو ! رحمتِ مصطفیٰ لُوٹ لو
بابِ رحمت کُھلا آج کی رات ہے
اَبرِ رحمت ہیں محفل پہ چھائے ہوئے
آسماں سے ملائک ہیں آئے ہوئے
خود محمّد ہیں تشریف لائے ہوئے
کِس قدر جاں فِزا آج کی رات ہے
مانگ لو مانگ لو چشمِ تر مانگ لو
دردِ دل اور حُسنِ نظر مانگ لو
سبز گُنبد کے سائے میں گھر مانگ لو
مانگنے کا مزا آج کی رات ہے
اِس طرف نور ہے، اُس طرف نور ہے
سارا عالم مسرّت سے معمور ہے
جس کو دیکھو وہی آج مسرُور ہے
مہک اُٹّھی فضا آج کی رات ہے
وقت لائے خُدا سب مدینے چلیں
لُوٹنے رحمتوں کے خزینے چلیں
سَب کے منزل کی جانب سفینے چلیں
میری، صائم ! دُعا آج کی رات ہے
شاعر:
علامہ صائم چشتی
نعت خواں:
الحاج محمد صدیق اسماعیل
اویس رضا قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں