غلاموں کو آقا مدینہ دکھا دو | Ghulamon Ko Aaqa Madina Dikha Do Lyrics in Urdu
غُلاموں کو، آقا ! مدینہ دِکھا دو
تمہیں یاد کر کے بہت رو رہے ہیں
بڑی حسرتیں لے کے بیٹھے ہیں دل میں
کسی دن بھی، آقا ! مدینہ دِکھا دو
کوئی مجھ سے پُوچھے تیرے دل میں کیا ہے
میرے دل میں، لوگو ! مدینہ بسا ہے
جسے دیکھنے کی تمنّا میں روئے
اُسی در کو، آقا! بُلا کر دِکھاؤ
غُلاموں کے دل میں مدینہ بسا ہے
ہر اِک دل میں آقا یہ صدمہ لگا ہے
غموں کے سمندر میں ہم رو رہے ہیں
کہ پل بھر میں، آقا ! مدینہ دِکھا دو
بڑی متلبی دنیا ہنستی ہے مجھ پر
کہ کب جا رہے ہو تم آقا کے در پر
اِسی کشمکش میں یہ دل رو رہا ہے
کسی دن بھی، آقا ! مدینہ دِکھا دو
وہ سب سے ہیں اعلیٰ، ارے دنیا والو !
وہ نبیوں کے سُلطان ہیں، دنیا والو !
میرے دل کی دھڑکن پہ ہیں وہ بسے تو
میری دھڑکنوں کو مدینہ دِکھا دو
مدینے سے آ کر بتاتے ہیں حاجی
بڑا خوش نُما ہے مدینہ مدینہ
میرا دل یہ سُن کر بہت رو رہا ہے
کہ آقا مجھے بھی مدینہ دِکھا دو
بہت قافلے میں نے دیکھے ہیں جاتے
ہر اِک لب پہ مُسکان طیبہ سجا ہے
میں طیبہ کی گلیوں میں کھو جاؤں جا کر
میرے آقا ! طیبہ کا منظر دِکھا دو
سبھی جانے والے یہ کیوں رو رہے ہیں
خوشی کے یہ آنسو لیے رو رہے ہیں
بہت رو رہا ہے یہ شمشاد، آقا !
اِسے بھی بُلا کر مدینہ دِکھا دو
نعت خواں:
جاوید رضا
تمہیں یاد کر کے بہت رو رہے ہیں
بڑی حسرتیں لے کے بیٹھے ہیں دل میں
کسی دن بھی، آقا ! مدینہ دِکھا دو
کوئی مجھ سے پُوچھے تیرے دل میں کیا ہے
میرے دل میں، لوگو ! مدینہ بسا ہے
جسے دیکھنے کی تمنّا میں روئے
اُسی در کو، آقا! بُلا کر دِکھاؤ
غُلاموں کے دل میں مدینہ بسا ہے
ہر اِک دل میں آقا یہ صدمہ لگا ہے
غموں کے سمندر میں ہم رو رہے ہیں
کہ پل بھر میں، آقا ! مدینہ دِکھا دو
بڑی متلبی دنیا ہنستی ہے مجھ پر
کہ کب جا رہے ہو تم آقا کے در پر
اِسی کشمکش میں یہ دل رو رہا ہے
کسی دن بھی، آقا ! مدینہ دِکھا دو
وہ سب سے ہیں اعلیٰ، ارے دنیا والو !
وہ نبیوں کے سُلطان ہیں، دنیا والو !
میرے دل کی دھڑکن پہ ہیں وہ بسے تو
میری دھڑکنوں کو مدینہ دِکھا دو
مدینے سے آ کر بتاتے ہیں حاجی
بڑا خوش نُما ہے مدینہ مدینہ
میرا دل یہ سُن کر بہت رو رہا ہے
کہ آقا مجھے بھی مدینہ دِکھا دو
بہت قافلے میں نے دیکھے ہیں جاتے
ہر اِک لب پہ مُسکان طیبہ سجا ہے
میں طیبہ کی گلیوں میں کھو جاؤں جا کر
میرے آقا ! طیبہ کا منظر دِکھا دو
سبھی جانے والے یہ کیوں رو رہے ہیں
خوشی کے یہ آنسو لیے رو رہے ہیں
بہت رو رہا ہے یہ شمشاد، آقا !
اِسے بھی بُلا کر مدینہ دِکھا دو
نعت خواں:
جاوید رضا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں