اشاعتیں

Ghaus-e-Azam لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں
ADVERTISEMENT

آؤں تیرے در پر جیلانی | Aaun Tere Dar Par Jilani Lyrics in Urdu

غفلت میں کٹی موری سگری عُمَرِیا کرو مو پہ اپنی دَیا، غوثِ اعظم ! آؤں تیرے در پر، جیلانی ! آؤں تیرے در پر، جیلانی ! مجھ پر بھی کرم ہو، جیلانی ! آؤں تیرے در پر، جیلانی ! آؤں تیرے در پر، جیلانی ! زمانے میں نہیں سُنتا کوئی فریاد، جیلانی ! خُدا را آپ ہی کیجے مِری اِمداد، جیلانی ! آؤں تیرے در پر، جیلانی ! آؤں تیرے در پر، جیلانی ! کرو اِمداد، اے لختِ دلِ مُشکِل کُشا حیدر ! گِرا ہُوں گردشوں میں، ہُوں بڑا ناشاد، جیلانی ! آؤں تیرے در پر، جیلانی ! آؤں تیرے در پر، جیلانی ! فسانے غم کے تم سے نہ کہوں تو پھر کہوں کس سے؟ مِری سُن لو مِری سُن لو مِری رُوداد، جیلانی ! آؤں تیرے در پر، جیلانی ! آؤں تیرے در پر، جیلانی ! مِری شامِ خزاں صُبحِ بہاراں میں بدل جائے رُخِ پُرنُور دِکھلا کر کرو تم شاد، جیلانی ! آؤں تیرے در پر، جیلانی ! آؤں تیرے در پر، جیلانی ! سمندر میں غموں کے پائے گا یہ ساحلِ تسکیں اُجاگر دیکھ لے آ کر تیرا بغداد، جیلانی ! آؤں تیرے در پر، جیلانی ! آؤں تیرے در پر، جیلانی ! شاعر: علامہ نثار علی اجاگر نعت خواں: محمود عطاری

میری نسلوں کا نعرہ ہے میں غوث پاک کے صدقے | Meri Naslon Ka Nara Hai Main Ghaus-e-Pak Ke Sadqe Lyrics in Urdu

شاہبازِ لا مکانی! قِنْدِیلِ نُورانی ! میں غوث کا دیوانہ ہوں، میں غوث کا مستانہ ہوں میری نسلوں کا نعرہ ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے یہی میرا عقیدہ ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے میری نسلوں کا نعرہ ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے فضائیں بھی مہکتی ہیں جو چومیں غوث کا روضہ وہ گُنبد کیا مہکتا ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے میری نسلوں کا نعرہ ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے میں غوث کا دیوانہ ہوں، میں غوث کا مستانہ ہوں یہاں بھی غوثِ اعظم کا، وہاں بھی غوثِ اعظم کا فقط اُن سے ہی رِشتہ ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے میری نسلوں کا نعرہ ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے جو صدمہ غم کا لگتا ہے "کرم یا غوث" کہتا ہوں میری ماں نے سکھایا ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے میری نسلوں کا نعرہ ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے میں غوث کا دیوانہ ہوں، میں غوث کا مستانہ ہوں میری ہے دوستی اُن سے جو عاشق غوثِ اعظم کے زباں پہ جِن کے رہتا ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے میری نسلوں کا نعرہ ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے وسیلہ غوث کا مانگو، دُعائیں رد نہیں ہوتی خدا کو غوث پیارا ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے میری نسلوں کا نعرہ ہے، میں غوثِ پاک کے صدقے میں غوث کا د...

یا غوث ہو تم عبد القادر اتنا ہی سہارا کافی ہے | Ya Ghous Ho Tum Abdul Qadir Lyrics in Urdu

یا غوث ! ہو تم عبد القادر، اتنا ہی سہارا کافی ہے ہم قادریوں کو مشکل میں بس نام تمہارا کافی ہے بغداد کے گُلشن میں جا کر جنّت کی تمنّا کون کرے یا غوث ! تمہارے روضے کا عاشق کو نظارہ کافی ہے سُوکھی ہوئی کھیتی پھل جائے، آئی ہوئی آفت ٹل جائے رحمت بھری اُنگلی کا تیری بس ایک اِشارہ کافی ہے پیرِ پیراں میرِ میراں غوث الاعظم شاہِ جیلاں ! ہر وقت مُریدوں کو تیرے، تیرا ہی سہارا کافی ہے دنیا طلبی سے ہُوں میں جُدا، انداز فقیرانہ ہے ضِیا ! سرکار کی بِھیک پہ ہو جائے دنیا میں گُزارا، کافی ہے نعت خواں: حسین یوسف میمن

میں صدقے جاؤں غوث پاک | Main Sadqe Jaun Ghaus-e-Pak Lyrics in Urdu

مرحبا یا غوثِ اعظم ! مرحبا یا غوثِ اعظم ! میں صدقے جاؤں، غوثِ پاک ! میں صدقے جاؤں، غوثِ پاک ! میں واری جاؤں، غوثِ پاک ! میں صدقے جاؤں، غوثِ پاک ! تِرے در سے ہے منگتوں کا گُزارا، یا شہِ بغداد ! یہ سُن کر میں نے بھی دامن پَسارا، یا شہِ بغداد ! میں صدقے جاؤں، غوثِ پاک ! میں صدقے جاؤں، غوثِ پاک ! مِری قسمت کا چمکا دو سِتارہ، یا شہِ بغداد ! دِکھا دو اپنا چہرہ پیارا پیارا، یا شہِ بغداد ! میں صدقے جاؤں، غوثِ پاک ! میں صدقے جاؤں، غوثِ پاک ! اِجازت دو کہ میں بغداد حاضِر ہو کے پھر کر لوں تمہارے نیلے گُنبد کا نظارہ، یا شہِ بغداد ! میں صدقے جاؤں، غوثِ پاک ! میں صدقے جاؤں، غوثِ پاک ! کرم مِیراں ! مِرے اُجڑے گُلِستاں میں بہار آئے خِزاں کا رُخ پِھیرا دو اب خُدارا، یا شہِ بغداد ! میں صدقے جاؤں، غوثِ پاک ! میں صدقے جاؤں، غوثِ پاک ! اگرچِہ لاکھ پاپی ہے، مگر عطّار کس کا ہے ؟ تمہارا ہے تمہارا ہے تمہارا، یا شہِ بغداد ! میں صدقے جاؤں، غوثِ پاک ! میں صدقے جاؤں، غوثِ پاک ! شاعر: محمد الیاس عطار قادری نعت خواں: قاری خلیل عطاری

ذرا چھیڑ تو نغمۂ قادریت کہ ہر تار بولے گا تن تن تنا تن | Zara Chhed Tu Naghma-e-Qadriyyat Lyrics in Urdu

ذرا چھیڑ تو نغمۂ قادریّت، کہ ہر تار بولے گا تن تن تنا تن تیری روح ہرگز رہے گی نہ رقصاں، جو گردش میں رہتی ہے گن گن گنا گن ابوجہل ہاتھوں میں کنکریاں لایا، تو سرکار نے اُن کو کلمہ پڑھایا مگر پھر بھی ایماں وہ ناری نہ لایا، پلٹ کے وہ بھاگا تھا دن دن دنا دن چلے عرش کی سیر کو میرے آقا، تو جنّت سے بُرّاق خدمت میں آیا ہواؤں سے گزرے، فضاؤں سے گزرے، چلے جا رہے تھے وہ سن سن سنا سن بس اتنی سی ہے اِلتجا، میرے آقا ! کہ کل روزِ محشر ہو جس وقت برپا لبوں پر رہے وِرد صلِّ علیٰ کا، میں نعتیں پڑھے جاؤں من من منا من یہ ہے نوری ٹکسال نوری میاں کی، یہاں جنّتی سِکّے ڈھلتے رہے ہیں یہاں کھوٹے سِکّے کی جا ہی نہیں ہے، ہر اِک سِکّہ بجتا ہے کھن کھن کھنا کھن غُلامِ شہنشاہِ بغداد میں ہُوں، مِرا دوہرا رِشتہ ہے خواجہ پِیا سے گلے میں مِرے چشتی پٹّہ پڑا ہے، میں ہُوں قادری سُنّی ٹن ٹن ٹنا ٹن غُلامِ شہنشاہِ برکات میں ہُوں، مِرا دوہرا رشتہ ہے اچّھے میاں سے گلے میں مِرے نوری پٹّہ پڑا ہے، میں ہُوں قادری سُنّی ٹن ٹن ٹنا ٹن زباں پر مِری نام نوری کا آیا، تو نُورانِیَت نے گلے سے لگایا کمر میں بندھی تھی جو زنجیرِ ع...

مدینے کی انگوٹھی ہے نگینہ غوث اعظم کا | Madine Ki Angoothi Hai Nageena Ghaus-e-Azam Ka Lyrics in Urdu

مدینے کی انگوٹھی ہے، نگینہ غوثِ اعظم کا جہاں میں بٹتا ہے ہر سُو خزینہ غوثِ اعظم کا مُریدی لَا تَخَفْ کی دی تسلّی ہم غُلاموں کو ڈُبو سکتا نہیں طوفاں سفینہ غوثِ اعظم کا وسیله قُربِ رب کا ہیں محمّد مصطفیٰ بے شک محمّد تک پہنچنے کا ہے زینہ غوثِ اعظم کا نہ جانے کس بِنا پر مُشْک و عنبر فَخْر کرتے ہیں ذرا سُنگھواؤ ان سب کو پسینہ غوثِ اعظم کا ہر ایک سُنّی کے گھر میں گیارھویں کا جشن ہوتا ہے وہابی سوز ہے پیارا مہینہ غوثِ اعظم کا قدم میرا سبھی ولیوں کی گردن پر، یہ فرمایا قدم یہ ہے تو کیسا ہوگا سِینہ غوثِ اعظم کا ہماری زندگی بھی خدمتِ مخلوق میں گُزرے اِلٰہی ! کر عطا ہم کو قرینہ غوثِ اعظم کا سرِ محشر پُکارا جائے گا یوں نام نظمی کا یہ نظمی کون ہے ؟ ہاں ہاں وہی نہ غوثِ اعظم کا شاعر: نظمی میاں مارہروی نعت خواں: محمد شریف رضا پالی

رب نے بنایا ہے کچھ ایسا رتبہ غوث اعظم کا | Rab Ne Banaya Hai Kuchh Aisa Rutba Ghaus-e-Azam Ka Lyrics in Urdu

رب نے بنایا ہے کچھ ایسا رُتبہ غوثِ اعظم کا جِنّ و بشر کے لب پہ سجا ہے خُطبہ غوثِ اعظم کا جتنے ولی آئے ہیں جہاں میں، سب ہیں اہلِ شان مگر سب ولیوں کی گردن پر ہے تَلْوا غوثِ اعظم کا اُن کی جنّت، اُن کی حکومت، رب اُن کا تو سب اُن کا کھاتا ہے یہ سارا زمانہ صَدقہ غوثِ اعظم کا کرتے ہیں فریاد رسی اپنی تُربتِ انور سے دنیا کے جس کونے میں ہو شیدا غوثِ اعظم کا قَبْر میں گر پُوچھیں گے فرشتے، کیا ہے تیری پہچان بتا ؟ کہہ دُوں گا لایا ہُوں دیکھو شجرہ غوثِ اعظم کا نسبت ہو جس کو اُس در سے، کیوں وہ ڈرے گُلزار ! بھلا چیر کے رکھ دے شیرِ ببر کو کُتّا غوثِ اعظم کا شاعر:   سید شاہ گلزار اسماعیل واسطی قادری نعت خواں:   سید عبد الوصی قادری رضوی

شاہ جیلاں پیر پیراں میر میراں | Shah-e-Jeelan Peer-e-Peeran Meer-e-Meeran Lyrics in Urdu

شاہِ جِیلاں، پیرِ پیراں، میرِ میراں طلب کا مُنھ تو کس قابِل ہے، یا غوث ! مگر تیرا کرم کامِل ہے یا غوث شاہِ جِیلاں، پیرِ پیراں، میرِ میراں دوہائی یَا مُحِیُّ الدِّین دوہائی بَلا اسلام پر نازِل ہے، یا غوث ! شاہِ جِیلاں، پیرِ پیراں، میرِ میراں عَزُوْمًا قَاتِلًا عِنْدَ الْقِتَالٖ مدد کو آ دمِ بِسمِل ہے، یا غوث ! شاہِ جِیلاں، پیرِ پیراں، میرِ میراں خُدا را ناخُدا آ دے سہارا ہوا بگڑی بھَنْوَر حائِل ہے، یا غوث ! شاہِ جِیلاں، پیرِ پیراں، میرِ میراں تِرا وقت اور پڑے یوں دین پر وقت نہ تو عاجِز نہ تو غافِل ہے، یا غوث ! شاہِ جِیلاں، پیرِ پیراں، میرِ میراں رہی ہاں شامتِ اعمال یہ بھی جو تو چاہے ابھی زائِل ہے، یا غوث ! شاہِ جِیلاں، پیرِ پیراں، میرِ میراں غَیُورا ! اپنی غیرت کا تَصَدُّق وہی کر جو تِرے قابِل ہے، یا غوث ! شاہِ جِیلاں، پیرِ پیراں، میرِ میراں خُدا را مرہمِ خاکِ قدم دے جِگر زخمی ہے دِل گھائِل ہے، یا غوث ! شاہِ جِیلاں، پیرِ پیراں، میرِ میراں تِرے بابا کا پھر تیرا کرم ہے یہ مُنھ ورنہ کِسی قابِل ہے، یا غوث ! شاہِ جِیلاں، پیرِ پیراں، میرِ میراں بھَرَن والے تِرا جھ...

طلب کا منھ تو کس قابل ہے یا غوث | Talab Ka Munh To Kis Qabil Hai Ya Ghaus Lyrics in Urdu

طلب کا مُنھ تو کس قابِل ہے، یا غوث ! مگر تیرا کرم کامِل ہے یا غوث دوہائی یَا مُحِیُّ الدِّین دوہائی بَلا اسلام پر نازِل ہے، یا غوث ! وہ سنگیں بِدعَتیں وہ تیزیِ کُفْر کہ سر پر تِیغ دِل پر سِل ہے، یا غوث ! عَزُوْمًا قَاتِلًا عِنْدَ الْقِتَالٖ مدد کو آ دمِ بِسمِل ہے، یا غوث ! خُدا را ناخُدا آ دے سہارا ہوا بگڑی بھَنْوَر حائِل ہے، یا غوث ! جِلا دے دیں، جَلا دے کُفْر و اِلحاد کہ تو محیٖی ہے تو قاتل ہے، یا غوث ! تِرا وقت اور پڑے یوں دین پر وقت نہ تو عاجِز نہ تو غافِل ہے، یا غوث ! رہی ہاں شامتِ اعمال یہ بھی جو تو چاہے ابھی زائِل ہے، یا غوث ! غَیُورا! اپنی غیرت کا تَصَدُّق وہی کر جو تِرے قابِل ہے، یا غوث ! خُدا را مرہمِ خاکِ قدم دے جِگر زخمی ہے دِل گھائِل ہے، یا غوث ! نہ دیکھوں شکلِ مُشکل تیرے آگے کوئی مُشکل سی یہ مُشکل ہے، یا غوث ! وہ گھیرا رِشتۂ شرکِ خَفی نے پھنسا زُنّار میں یہ دِل ہے، یا غوث ! کیے تَرسا و گَبْر اَقطاب و اَبدال یہ محض اسلام کا سائِل ہے، یا غوث ! تو قُوَّت دے میں تنہا کام بِسیار بدن کمزور دِل کاہِل ہے، یا غوث ! عَدُو بد دین مذہب والے حاسِد تو ہی ...

پڑے مجھ پر نہ کچھ افتاد یا غوث | Pade Mujh Par Na Kuchh Uftad Ya Ghous Lyrics in Urdu

پڑے مجھ پر نہ کچھ اُفتاد، یا غوث ! مدد پر ہے تیری اِمداد، یا غوث ! اُڑے تیری طرف بعدِ فنا خاک نہ ہو مِٹِّی مِری برباد، یا غوث ! مِرے دل میں بسے جلوے تمہارے یہ ویرانہ بنے بغداد، یا غوث ! نہ بُھولوں بُھول کر بھی یاد تیری نہ یاد آئے کسی کی یاد، یا غوث ! مُریدی لَا تَخَفْ فرماتے آؤ بَلاؤں میں ہے یہ ناشاد، یا غوث ! گلے تک آ گیا سیلاب غم کا چلا میں آئیے فریاد، یا غوث ! نشیمن سے اُڑا کر بھی نہ چھوڑا ابھی ہے گھات میں صیّاد، یا غوث ! خمیدہ سر گرفتارِ قضا ہے کشیدہ خنجرِ جلّاد، یا غوث ! اندھیری رات، جنگل، میں اکیلا مدد کا وقت ہے فریاد، یا غوث ! کِھلا دو غنچۂ خاطر کہ تم ہو بہارِ گُلشنِ ایجاد، یا غوث ! مِرے غم کی کہانی آپ سُن لیں کہوں میں کس سے یہ رُوداد، یا غوث ! رہوں آزادِ قیدِ عشق کب تک کرو اِس قید سے آزاد، یا غوث ! کرو گے کب تک اچّھا مجھ بُرے کو مِرے حق میں ہے کیا اِرشاد، یا غوث ! غمِ دنیا غمِ قبر و غمِ حشر خدا را کر دو مجھ کو شاد، یا غوث ! حسن منگتا ہے دے دے بھیک داتا رہے یہ راج پاٹ آباد، یا غوث ! شاعر: مولانا حسن رضا خان بریلوی نعت خواں: اویس رضا قادری محم...

فاصلوں کو خدا را مٹا دو | جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں | Jaliyon Par Nigahen Jami Hain Lyrics in Urdu

فاصلوں کو خُدا را مٹا دو جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں اپنا جلوہ اسی میں دِکھا دو جالوں پر نگاہیں جمی ہیں فاصلوں کو خُدا را مٹا دو جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں رُخ سے پردہ اب اپنے ہٹا دو جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں فاصلوں کو خُدا را مٹا دو جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں غوث الاعظم ہو، غوث الوریٰ ہو نُور ہو نُورِ صلِّ علیٰ ہو کیا بیاں آپ کا مرتبہ ہو ! دستگیر اور مُشکِل کُشا ہو آج دیدار اپنا کرا دو جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں فاصلوں کو خُدا را مٹا دو جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں ایک مجرم سیاہ کار ہُوں میں ہر خطا کا سزاوار ہُوں میں میرے چاروں طرف ہے اندھیرا روشنی کا طلب گار ہُوں میں اِک دِیا ہی سمجھ کر جلا دو جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں فاصلوں کو خُدا را مٹا دو جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں وجد میں آئے گا سارا عالم ہم پُکاریں گے، یا غوثِ اعظم وہ نکل آئیں گے جالیوں سے اور قدموں میں گِر جائیں گے ہم پھر کہیں گے کہ بِگڑی بنا دو جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں فاصلوں کو خُدا را مٹا دو جالیوں پر نگاہیں جمی ہیں سُن رہے ہیں وہ فریاد میری خاک ہوگی نہ برباد میری میں کہیں بھی مرُوں، شاہِ جِیلاں ! رُوح...

نور کا آشیانہ سلامت رہے | غوث کا آستانہ سلامت رہے | Ghous Ka Aastana Salamat Rahe Lyrics in Urdu

نور کا آشِیانہ سلامت رہے غوث کا آستانہ سلامت رہے شاہِ بغداد ہیں سیّد الاولیاء رُتبہ یہ عالی شانہ سلامت رہے روضۂ غوث پر رحمتوں کی پُھوار یہ حسیں آشِیانہ سلامت رہے نام سے ان کے ٹلتی ہیں سب مُشکلیں ان کا لب پہ ترانہ سلامت رہے غوث کا در دِکھایا ہے جس نے ہمیں وہ رضا کا گھرانہ سلامت رہے پرچمِ غوث کا دنیا بھر میں یونہی یا خدا ! لہلہانا سلامت رہے فضلِ مولا سے، عاصِم ! میں ہُوں قادری یہ تَعَلُّق پُرانا سلامت رہے شاعر: محمد عاصم القادری مراد آبادی نعت خواں: حافظ طاہر قادری نجیب رضا برکاتی

موہے سپنا ما درشن دکھائے گیو رے مورے غوث الوریٰ | Mohe Sapna Ma Darshan Dikhaye Gayo Re More Lyrics in Urdu

موہے سپنا ما درشن دِکھائے گیو رے مورے غوثُ الوریٰ مورا سوتے میں بھاگ جگائے گیو رے مورے غوثُ الوریٰ چشمہ بغداد کا جب لگا آنکھ پر دیکھا طیبہ نگر جانبِ مکّہ جب بھی اُٹھی ہے نظر دیکھا طیبہ نگر مورے من ما مدینہ بسائے گیو رے مورے غوثُ الوریٰ غم کا طوفان تھا، میں پریشان تھا مجھ کو بخشا سُکُوں ٹوٹی پتوار تھی اور میں حیران تھا مجھ کو بخشا سُکُوں موری ڈوبتی نیّا تِرائے گیو رے مورے غوثُ الوریٰ غم کی ظُلمت ہٹی، رات کالی کٹی اور اُجالا ہوا راستے سے مصیبت کی ظُلمت چھٹی اور اُجالا ہوا موری آشا کا دیپ جلائے گیو رے مورے غوثُ الوریٰ لب پہ یا غوث یا غوث یا غوث ہے ہر نَفَسْ ہر قدم یہ عقیدت کی آواز بے لوث ہے ہر نَفَسْ ہر قدم اہلِ سُنّت کا نعرہ سِکھائے گیو رے مورے غوثُ الوریٰ چاندنی مجھ کو، اعجاز ! پھیکی لگے ایسے اچّھے ہیں وہ اور کِرن مجھ کو سُورج کی دُھندلی لگے ایسے اچّھے ہیں وہ کیسا نُوری مُکھڑوا دِکھائے گیو رے مورے غوثُ الوریٰ شاعر: علامہ سعید اعجاز کامٹوی نعت خواں: سید امین القادری معین الدین بلبلِ مستجاب محبوبِ مستجاب

میری زندگی کے رہبر بڑے پیر غوث اعظم | Meri Zindagi Ke Rahbar Bade Peer Ghaus-e-Azam Lyrics in Urdu

میری زندگی کے رہبر، بڑے پیر غوثِ اعظم ! نہیں تم سا کوئی بہتر، بڑے پیر غوثِ اعظم ! میرے دل کی آرزو ہے، تیرے آستاں پہ آ کر رہُوں بن کے تیرا نوکر، بڑے پیر غوثِ اعظم ! اب تو جگا دو قسمت، اپنی دِکھا دو صُورت اے اَولِیا کے سرور بڑے پیر غوثِ اعظم ! شیرِ ببر کو پھاڑا کُتّے نے ایک پل میں تیرا کرم تھا اُس پر، بڑے پیر غوثِ اعظم ! میں نے پُکارا جب بھی، فوراََ مدد کو آئے فضلِ خدا سے، اختر ! بڑے پیر غوثِ اعظم شاعر: اختر پرواز نعیمی نعت خواں: اختر پرواز نعیمی مفتی عارف رضا قریشی

غوث پیا کے پیارے قدم کا رتبہ ہی کچھ ایسا ہے | Ghaus Piya Ke Pyare Qadam Ka Rutba Hi Kuchh Aisa Hai Lyrics in Urdu

غوث پِیا کے پیارے قدم کا رُتبہ ہی کچھ ایسا ہے سارے ولی گردن پہ اٹھائیں، تلوا ہی کچھ ایسا ہے آنکھ کو روشن کرنے والا روضہ ہی کچھ ایسا ہے فرش پہ ہو فِردوس کا نقشہ لگتا ہی کچھ ایسا ہے نورِ علی زہرا کی طہارت، حَسن وحُسین کے لختِ جگر میرے نبی کا عبد القادر بیٹا ہی کچھ ایسا ہے قدمِ نبی پر سیرِ ولایت دیکھ کے دِل دھک دھک بولے رنگ نبی کا اُن کی ادا میں دِکھتا ہی کچھ ایسا ہے غوث و قُطُب، ابدال جہاں کے جُھولی پسارے آتے ہیں اُن کی سخاوت کا ولیوں میں چرچہ ہی کچھ ایسا ہے چور بنے ابدال یہاں سے، مُردے ہوئے پل میں زندہ اُن کی کرامت کا، اے لوگو ! درجہ ہی کچھ ایسا ہے روز کِچھوچھہ کی دھرتی پر فیض کا دریا بہتا ہے اُن کے کرم کا اِس نگری سے رِشتہ ہی کچھ ایسا ہے اُن کی وفا کا دم بھر بھر کے نُور کی سانسیں چلتی ہیں غوث کے در کے کُتّوں میں یہ کُتّا ہی کچھ ایسا ہے شاعر: سید محمد نورانی اشرف الجیلانی نعت خواں: سید محمد نورانی اشرف الجیلانی

پیروں کے بھی پیر ہیں کیا شان ہے | غوث الوریٰ میری تو جان ہیں | Ghaus-ul-wara Meri To Jaan Hain Lyrics in Urdu

یا غوثِ اعظم پیرانِ پیر ! یا غوثِ اعظم پیرانِ پیر ! میں ہوں قادری دِوانہ غوثِ پاک کا میں ہوں قادری دِوانہ غوثِ پاک کا پیروں کے پیر ہیں ! وَاللّٰہ ! روشن ضمیر ہیں ! وَاللّٰہ ! بغداد والے میراں بڑے دستگیر ہیں پیروں کے بھی پیر ہیں، کیا شان ہے غوث الوریٰ میری تو جان ہیں فاطمہ زہرا کے وہ نُورِ نظر حیدرِ کرّار کے لختِ جِگر مِلتا ہے اِن کا نسب حَسنین سے اور نانا جن کے ہیں خیر البشر اللہ اللہ کِس قَدر ذیشان ہیں غوث الوریٰ میری تو جان ہیں پیروں کے بھی پیر ہیں، کیا شان ہے غوث الوریٰ میری تو جان ہیں سُلطانِ ولایت ! غوثِ پاک ! ولیوں پہ حکومت ! غوثِ پاک ! شہبازِ خطابت ! غوثِ پاک ! فانوسِ ہدایت ! غوثِ پاک ! سرتاجِ شریعت ! غوثِ پاک ! مومن کی چاہت ! غوثِ پاک ! ہے رب کی نعمت ! غوثِ پاک ! اللہ کی رحمت ! غوثِ پاک ! غوثِ پاک ! غوثِ پاک ! غوثِ پاک ! غوثِ پاک ! جوڑا ہم کو غوث کے دربار سے اور بچایا نجدیوں کے وار سے غوث کی تعریف کیا کوئی کرے جو رضا نے کی بیاں اشعار سے اعلیٰ حضرت کے بڑے احسان ہیں غوث الوریٰ میری تو جان ہیں پیروں کے بھی پیر ہیں، کیا شان ہے غوث الوریٰ میری تو ج...

تری مدح خواں ہر زباں غوث اعظم | Teri Madh-Khwan Har Zabaan Ghaus-e-Azam Lyrics in Urdu

رونقِ کُل اولیا، یا غوثِ اعظم دستگیر ! پیشوائے اَصفیا، یا غوثِ اعظم دستگیر ! تِری مدح خواں ہر زباں، غوثِ اعظم ! تِرا نام مومن کی جاں، غوثِ اعظم ! یا محبوبِ سُبحانی ! تم ہو قُطبِ ربّانی یا محبوبِ سُبحانی ! تم ہو قُطبِ ربّانی پناہِ غریباں تِری ذاتِ والا تِرا گھر ہے دارُ الاماں، غوثِ اعظم ! تِری مدح خواں ہر زباں، غوثِ اعظم ! تِرا نام مومن کی جاں، غوثِ اعظم ! یا محبوبِ سُبحانی ! تم ہو قُطبِ ربّانی یا محبوبِ سُبحانی ! تم ہو قُطبِ ربّانی زمانا نہ کیونکر ہو مہماں کہ تم نے بِچھایا ہے رحمت کا خواں، غوثِ اعظم ! تِری مدح خواں ہر زباں، غوثِ اعظم ! تِرا نام مومن کی جاں، غوثِ اعظم ! یا محبوبِ سُبحانی ! تم ہو قُطبِ ربّانی یا محبوبِ سُبحانی ! تم ہو قُطبِ ربّانی جسے شک ہو وہ خضر سے پوچھ دیکھے تِری مجلسوں کا سماں، غوثِ اعظم ! تِری مدح خواں ہر زباں، غوثِ اعظم ! تِرا نام مومن کی جاں، غوثِ اعظم ! یا محبوبِ سُبحانی ! تم ہو قُطبِ ربّانی یا محبوبِ سُبحانی ! تم ہو قُطبِ ربّانی تیرے وَعظ میں آ کے شاہِ عرب نے بڑھائی تِری عز و شاں، غوثِ اعظم ! تِری مدح خواں ہر زباں، غوثِ اعظم ! تِرا نا...

تو رب کا ولی ہے تو حیدر کی شاں ہے | تو قطب جہاں ہے مرے غوث اعظم | Tu Rab Ka Wali Hai Tu Haidar Ki Shaan Hai Lyrics in Urdu

تو رب کا ولی ہے، تو حیدر کی شاں ہے تیرا رتبہ اعلیٰ، مِرے غوثِ اعظم ! تو قُطبِ جہاں ہے، تو سیّد کی زینت تِرا درجہ بالا، مِرے غوثِ اعظم ! تو رب کا ولی ہے، تو حیدر کی شاں ہے تیرا رتبہ اعلیٰ، مِرے غوثِ اعظم ! بفضلِ خدا مردہ زندہ کیا ہے جو بیکس تھے اُن کو سہارا دِیا ہے کرامت میں اعلیٰ، فضیلت میں اعلیٰ عنایت میں اعلیٰ، مِرے غوثِ اعظم ! تو رب کا ولی ہے، تو حیدر کی شاں ہے تیرا رتبہ اعلیٰ، مِرے غوثِ اعظم ! قلندر ہو ابدال یا اولیاء ہو زمانے کا کوئی بڑا رہنما ہو تِرا ہے قدم سب کی گردن پہ، شاہا ! 'عجب رتبہ تیرا، مِرے غوثِ اعظم ! تو رب کا ولی ہے، تو حیدر کی شاں ہے تیرا رتبہ اعلیٰ، مِرے غوثِ اعظم ! مِرے دل کی حسرت مِٹا دیجئے نا ذرا رخ سے پردا ہٹا دیجئے نا مِرے دل کو راحت عطا کیجئے نا دِکھا کر کے جلوہ، مِرے غوثِ اعظم ! تو رب کا ولی ہے، تو حیدر کی شاں ہے تیرا رتبہ اعلیٰ، مِرے غوثِ اعظم ! ستایا گیا ہوں، رُلایا گیا ہوں زمانے کے ظالم سے تنگ آ گیا ہوں ہُوں مجبور میں اب عطا کیجے مجھ کو شہِ دیں کا صدقہ، مِرے غوثِ اعظم ! تو رب کا ولی ہے، تو حیدر کی شاں ہے تیرا رتبہ اعلیٰ، مِ...

نظارہ ہو دربار کا غوث اعظم | Nazara Ho Darbar Ka Ghaus-e-Azam Lyrics in Urdu

نظارہ ہو دربار کا، غوثِ اعظم ! دِکھا نیلا گنبد دِکھا، غوثِ اعظم ! مجھے جامِ اُلفت پِلا، غوثِ اعظم ! رہوں مست و بےخود سدا، غوثِ اعظم ! کرم کیجئے پھر میں بغداد آؤں مِرے پیر کا واسِطہ، غوثِ اعظم ! مجھے اپنی چوکھٹ کا کُتّا بنا لو ہمیشہ رہوں باوفا، غوثِ اعظم ! تِرے آستاں کا ہوں منگتا، گُزارہ ہے ٹُکڑوں پہ تیرے مِرا، غوثِ اعظم ! گناہوں کا بار اپنے سر پر اُٹھا کر پھروں کب تلک جا بجا، غوثِ اعظم ! علاج آخِر اے مُرشِدی کب کریں گے ! گُناہوں کے بیمار کا، غوثِ اعظم ! گنہگار ہوں گر عذابوں نے گھیرا تو ہوگا مِرا ہائے کیا، غوثِ اعظم ! نظر، مُرشِدی ! تیری جانب لگی ہے عذابوں سے لینا بچا، غوثِ اعظم ! جہاں میں جِیُوں سُنّتوں کے مُطابق مدینے میں ہو خاتِمہ، غوثِ اعظم ! ہو عطّار کی بے سبب بخشِش، آقا ! یہ فرمائیں حق سے دُعا، غوثِ اعظم ! شاعر: محمد الیاس عطار قادری نعت خواں: عارف عطاری

میرے آنگن میں آؤ پیران پیر | Mere Aangan Mein Aao Peeran-e-Peer Lyrics in Urdu

قادِرا سرورا رہنما دستگیر غوثِ اعظم امامِ مبیں بے نظیر چوں محمّد درمیانِ انبیاء غوثِ اعظم درمیانِ اولیاء میرے آنگن میں آؤ، پیرانِ پیر ! میری بِگڑی بناؤ، پیرانِ پیر ! میرے آنگن میں آؤ، پیرانِ پیر ! آپ حَسنی حُسینی سرکار ہیں رنگ سب پہ چڑھاؤ، پیرانِ پیر ! میرے آنگن میں آؤ، پیرانِ پیر ! آپ محبوبِ رب کے محبوب ہو سب کی بِگڑی بناؤ، پیرانِ پیر ! میرے آنگن میں آؤ، پیرانِ پیر ! میری آنکھیں ترستی ہیں دیدار کو آج جلوا دکھاؤ، پیرانِ پیر ! میرے آنگن میں آؤ، پیرانِ پیر ! اِلتِجا ہے کہ آئیں بغداد میں سب کی حسرت مٹاؤ، پیرانِ پیر ! میرے آنگن میں آؤ، پیرانِ پیر ! میری کشتی بھنور کے ساگر میں ہے پار اِس کو لگاؤ، پیرانِ پیر ! میرے آنگن میں آؤ، پیرانِ پیر ! ہمیں مُشکل کُشا کا صدقہ مِلے مُشکلوں سے بچاؤ، پیرانِ پیر ! میرے آنگن میں آؤ، پیرانِ پیر ! ہے کرامت گئے کِتنے لوگوں کے گھر میرے گھر میں بھی آؤ، پیرانِ پیر ! میرے آنگن میں آؤ، پیرانِ پیر ! ڈُوبی کشتی کو پل میں پار کیا ڈُوبتوں کو بچاؤ، پیرانِ پیر ! میرے آنگن میں آؤ، پیرانِ پیر ! اِلتِجا ہے فہیمِ خطا‌وار کی کبھی سپنوں میں آؤ،...