یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے | Ye Naaz Ye Andaz Hamare Nahin Hote Lyrics in Urdu

یہ ناز یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
جھولی میں اگر ٹکڑے تمہارے نہیں ہوتے

جب تک کہ مدینے سے اشارے نہیں ہوتے
روشن کبھی قسمت کے ستارے نہیں ہوتے

دامانِ شفاعت میں ہمیں کون چھپاتا
سرکار ! اگر آپ ہمارے نہیں ہوتے

ملتی نہ اگر بھیک، حضور ! آپ کے در سے
اس ٹھاٹ سے منگتوں کے گزارے نہیں ہوتے

بے دام ہی بک جائیے بازارِ نبی میں
اِس شان کے سودے میں خسارے نہیں ہوتے

یہ نسبتِ سرکار کا اِعجاز ہے ورنہ
طوفاں سے نمودار کِنارے نہیں ہوتے

ہم جیسے نِکمّوں کو گلے کون لگاتا
سرکار ! اگر آپ ہمارے نہیں ہوتے

وہ چاہیں بلا لیں جسے یہ اُن کا کرم ہے
بے اِذن مدینے کے نظارے نہیں ہوتے

خالد ! یہ تصدُّق ہے فقط نعت کا ورنہ
محشر میں تیرے وارے نِیارے نہیں ہوتے


شاعر:
خالد محمود نقش بندی

نعت خواں:
اویس رضا قادری
زوہیب اشرفی

تبصرے