مصطفیٰ کے صحابہ میں یارو کوئی فاروق جیسا نہیں ہے | Mustafa Ke Sahaba Mein Yaaro Koi Farooq Jaisa Nahin Hai Lyrics in Urdu
مصطفیٰ کا یار ! عمر !
سچ کی ہے للکار ! عمر !
باطل پہ وار ! عمر !
حق کی ہے تلوار ! عمر !
عاصف و سالار ! عمر !
میرا دلدار ! عمر !
پیار ہے بس پیار ! عمر !
مصطفیٰ کے صحابہ میں، یارو ! کوئی فاروق جیسا نہیں ہے
جو نہیں مانتا ہے عمر کو، وہ تو سچّا مسلماں نہیں ہے
مصطفیٰ کے صحابہ میں، یارو ! کوئی فاروق جیسا نہیں ہے
جن کے اسلام سے بابِ کعبہ کُھلا
جن کی اک ضرب سے تھم گیا زلزلہ
جن کا خط پا کے دریا رواں ہو گیا
وہ خلیفہ عمر ہیں نبی کی دعا
مصطفیٰ کے صحابہ میں، یارو ! کوئی فاروق جیسا نہیں ہے
مصطفیٰ جانِ رحمت کے ہیں جو وزیر
قطب و ابدال ہیں جن کے در کے فقیر
اہلِ ایمان کرتے ہیں جن کی ثنا
وہ خلیفہ عمر ہیں نبی کی دعا
مصطفیٰ کے صحابہ میں، یارو ! کوئی فاروق جیسا نہیں ہے
جو نہ مانے شۂ دین کا فیصلہ
اُس کا سر تن سے کرتے ہیں فوراً جدا
جن کی ہر اک ادا میں ہے رب کی رضا
وہ خلیفہ عمر ہیں نبی کی دعا
مصطفیٰ کے صحابہ میں، یارو ! کوئی فاروق جیسا نہیں ہے
میرا ایمان عمر !
ہے میری جان عمر !
میری پہچان عمر !
ہے میری شان عمر !
جن پہ آقا کی ہر دم عنایات ہیں
جن کی مرضی پہ بھی اتریں آیات ہیں
جن کو پہلو میں آقا نے دی ہے جگہ
وہ خلیفہ عمر ہیں نبی کی دعا
مصطفیٰ کے صحابہ میں، یارو ! کوئی فاروق جیسا نہیں ہے
نام سے جن کے کفّار تھرّا اُٹھے
جن کی ہیبت سے شیطان بھی ڈر گئے
آج بھی جن کا ہر سمت ہے دبدبہ
وہ خلیفہ عمر ہیں نبی کی دعا
مصطفیٰ کے صحابہ میں، یارو ! کوئی فاروق جیسا نہیں ہے
جن کو آلِ نبی سے بڑا پیار ہے
جان و دل سے فدا جن پہ سنسار ہے
سیف ! جو ہیں شۂ دین کا معجزہ
وہ خلیفہ عمر ہیں نبی کی دعا
مصطفیٰ کے صحابہ میں، یارو ! کوئی فاروق جیسا نہیں ہے
شاعر:
سیف قادری الہ آبادی
نعت خواں:
حافظ طاہر قادری
سچ کی ہے للکار ! عمر !
باطل پہ وار ! عمر !
حق کی ہے تلوار ! عمر !
عاصف و سالار ! عمر !
میرا دلدار ! عمر !
پیار ہے بس پیار ! عمر !
مصطفیٰ کے صحابہ میں، یارو ! کوئی فاروق جیسا نہیں ہے
جو نہیں مانتا ہے عمر کو، وہ تو سچّا مسلماں نہیں ہے
مصطفیٰ کے صحابہ میں، یارو ! کوئی فاروق جیسا نہیں ہے
جن کے اسلام سے بابِ کعبہ کُھلا
جن کی اک ضرب سے تھم گیا زلزلہ
جن کا خط پا کے دریا رواں ہو گیا
وہ خلیفہ عمر ہیں نبی کی دعا
مصطفیٰ کے صحابہ میں، یارو ! کوئی فاروق جیسا نہیں ہے
مصطفیٰ جانِ رحمت کے ہیں جو وزیر
قطب و ابدال ہیں جن کے در کے فقیر
اہلِ ایمان کرتے ہیں جن کی ثنا
وہ خلیفہ عمر ہیں نبی کی دعا
مصطفیٰ کے صحابہ میں، یارو ! کوئی فاروق جیسا نہیں ہے
جو نہ مانے شۂ دین کا فیصلہ
اُس کا سر تن سے کرتے ہیں فوراً جدا
جن کی ہر اک ادا میں ہے رب کی رضا
وہ خلیفہ عمر ہیں نبی کی دعا
مصطفیٰ کے صحابہ میں، یارو ! کوئی فاروق جیسا نہیں ہے
میرا ایمان عمر !
ہے میری جان عمر !
میری پہچان عمر !
ہے میری شان عمر !
جن پہ آقا کی ہر دم عنایات ہیں
جن کی مرضی پہ بھی اتریں آیات ہیں
جن کو پہلو میں آقا نے دی ہے جگہ
وہ خلیفہ عمر ہیں نبی کی دعا
مصطفیٰ کے صحابہ میں، یارو ! کوئی فاروق جیسا نہیں ہے
نام سے جن کے کفّار تھرّا اُٹھے
جن کی ہیبت سے شیطان بھی ڈر گئے
آج بھی جن کا ہر سمت ہے دبدبہ
وہ خلیفہ عمر ہیں نبی کی دعا
مصطفیٰ کے صحابہ میں، یارو ! کوئی فاروق جیسا نہیں ہے
جن کو آلِ نبی سے بڑا پیار ہے
جان و دل سے فدا جن پہ سنسار ہے
سیف ! جو ہیں شۂ دین کا معجزہ
وہ خلیفہ عمر ہیں نبی کی دعا
مصطفیٰ کے صحابہ میں، یارو ! کوئی فاروق جیسا نہیں ہے
شاعر:
سیف قادری الہ آبادی
نعت خواں:
حافظ طاہر قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں