اے زہرا کے بابا سنیں التجا مدینہ بلا لیجئے | Aye Zahra Ke Baba Sunen Iltija Madina Bula Lijiye Lyrics in Urdu
اے زہرا کے بابا ! سُنیں التجا
مدینہ بُلا لیجئے
کہیں مر نہ جائے غُلام آپ کا
مدینہ بُلا لیجئے
ستاتی ہے مجھ کو، رُلاتی ہے مجھ کو
یہ دنیا بہت آزماتی ہے مجھ کو
ہُوں دنیا کی باتوں سے ٹُوٹا ہوا
مدینہ بُلا لیجئے
بڑی بے کسی ہے، بڑی بے قراری
نہ کٹ جائے، آقا ! یونہی عُمْر ساری
کہاں زندگانی کا ہے کچھ پتہ
مدینہ بُلا لیجئے
یہ احساس ہے مجھ کو، میں ہُوں کمینہ
حضور ! آپ چاہیں تو آؤں مدینہ
گُناہوں کے دلدل میں میں ہُوں پھنسا
مدینہ بُلا لیجئے
میں دیکھوں وہ روضہ، میں دیکھوں وہ جالی
بُلا لیجے مجھ کو بھی، سرکارِ عالی !
کہاں جائے، آقا ! یہ منگتا بھلا
مدینہ بُلا لیجئے
وہ رمضان تیرا، وہ دالان تیرا
وہ عجوہ، وہ زمزم، یہ مہمان تیرا
تیرے در پہ افطار کا وہ مَزہ
مدینہ بُلا لیجئے
جہاں کے سبھی ذرّے شمس و قمر ہیں
جہاں پہ ابو بکر و عُثماں، عُمَر ہیں
جہاں جلوہ فرما ہیں حمزہ چچا
مدینہ بُلا لیجئے
نہ اتنا میں ماں اور بابا کو چاہُوں
تمہیں جتنا چاہُوں، کسی کو نہ چاہُوں
میرے بال بچّے ہُوں تم پر فِدا
مدینہ بُلا لیجئے
ہُوا ہے جہاں سے جہاں یہ مُنَوّر
جہاں آئے جبریل قرآن لے کر
مجھے دیکھنا ہے وہ غارِ حرا
مدینہ بُلا لیجئے
جسے سب ہیں کہتے نقی خاں کا بیٹا
وہ احمد رضا ہے بریلی میں لیٹا
اُسی اعلیٰ حضرت کا ہے واسطہ
مدینہ بُلا لیجئے
عطا ہو بقیع میں یہ زہرا کا صدقہ
مجھے موت آئے وہیں کاش، آقا !
پڑھا دیں وہیں پر جنازہ میرا
مدینہ بُلا لیجئے
کرم کر دِیا ہے یہ خواجہ پیا نے
جو مصرعے لکھے ہیں شباہت میاں نے
کریں درگزر جو ہوئی ہو خطا
مدینہ بُلا لیجئے
شاعر:
سید شباہت حسین
نعت خواں:
محمد علی فیضی
محمد نبیل برکاتی
مدینہ بُلا لیجئے
کہیں مر نہ جائے غُلام آپ کا
مدینہ بُلا لیجئے
ستاتی ہے مجھ کو، رُلاتی ہے مجھ کو
یہ دنیا بہت آزماتی ہے مجھ کو
ہُوں دنیا کی باتوں سے ٹُوٹا ہوا
مدینہ بُلا لیجئے
بڑی بے کسی ہے، بڑی بے قراری
نہ کٹ جائے، آقا ! یونہی عُمْر ساری
کہاں زندگانی کا ہے کچھ پتہ
مدینہ بُلا لیجئے
یہ احساس ہے مجھ کو، میں ہُوں کمینہ
حضور ! آپ چاہیں تو آؤں مدینہ
گُناہوں کے دلدل میں میں ہُوں پھنسا
مدینہ بُلا لیجئے
میں دیکھوں وہ روضہ، میں دیکھوں وہ جالی
بُلا لیجے مجھ کو بھی، سرکارِ عالی !
کہاں جائے، آقا ! یہ منگتا بھلا
مدینہ بُلا لیجئے
وہ رمضان تیرا، وہ دالان تیرا
وہ عجوہ، وہ زمزم، یہ مہمان تیرا
تیرے در پہ افطار کا وہ مَزہ
مدینہ بُلا لیجئے
جہاں کے سبھی ذرّے شمس و قمر ہیں
جہاں پہ ابو بکر و عُثماں، عُمَر ہیں
جہاں جلوہ فرما ہیں حمزہ چچا
مدینہ بُلا لیجئے
نہ اتنا میں ماں اور بابا کو چاہُوں
تمہیں جتنا چاہُوں، کسی کو نہ چاہُوں
میرے بال بچّے ہُوں تم پر فِدا
مدینہ بُلا لیجئے
ہُوا ہے جہاں سے جہاں یہ مُنَوّر
جہاں آئے جبریل قرآن لے کر
مجھے دیکھنا ہے وہ غارِ حرا
مدینہ بُلا لیجئے
جسے سب ہیں کہتے نقی خاں کا بیٹا
وہ احمد رضا ہے بریلی میں لیٹا
اُسی اعلیٰ حضرت کا ہے واسطہ
مدینہ بُلا لیجئے
عطا ہو بقیع میں یہ زہرا کا صدقہ
مجھے موت آئے وہیں کاش، آقا !
پڑھا دیں وہیں پر جنازہ میرا
مدینہ بُلا لیجئے
کرم کر دِیا ہے یہ خواجہ پیا نے
جو مصرعے لکھے ہیں شباہت میاں نے
کریں درگزر جو ہوئی ہو خطا
مدینہ بُلا لیجئے
شاعر:
سید شباہت حسین
نعت خواں:
محمد علی فیضی
محمد نبیل برکاتی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں