اک روز ہوگا جانا سرکار کی گلی میں | Ek Roz Hoga Jana Sarkar Ki Gali Mein Lyrics in Urdu

اک روز ہوگا جانا سرکار کی گلی میں
ہوگا کبھی ٹھکانا سرکار کی گلی میں

آنکھیں تو دیکھنے کو پہلے ہی مضطرب تھیں
دل بھی ہوا روانہ سرکار کی گلی میں

گو پاس کچھ نہیں ہے لیکن یہ دیکھ لے گا
اک دن مجھے زمانہ سرکار کی گلی میں

کبھی ہو حَسیں تَصَوُّر، کبھی خود میں جاؤں چل کر
رہے یونہی آنا جانا سرکار کی گلی میں

ہیں کہیں خزاں کے پہرے، کہیں دو گھڑی بہاریں
موسم سدا سہانا سرکار کی گلی میں !

دل میں نبی کی یادیں، لب پر نبی کی نعتیں
جانا تو ایسے جانا سرکار کی گلی میں

یہی رسمِ عاشقی ہے، یہی جانِ بندگی ہے
سر رکھ کے نہ اُٹھانا سرکار کی گلی میں

سمجھیں گے ہم، نیازی ! اُن کی کرم نوازی
جس دن ہوئے روانہ سرکار کی گلی میں


شاعر:
عبدالستار نیازی

نعت خواں:
اویس رضا قادری
زین سعیدی

تبصرے