کاش اک روز گھر میرے غوث الوریٰ آپ تشریف لائیں تو کیا پوچھنا | Kash Ek Roz Ghar Mere Ghausul Wara Lyrics in Urdu
کاش ! اِک روز گھر میرے، غوث الوریٰ
!
آپ تشریف لائیں تو کیا پُوچھنا
اپنے نُورانی قدموں سے گھر کو میرے
آ کے جنّت بنائیں تو کیا پُوچھنا
غوثِ اعظم نے مجھ پہ کرم یہ کِیا
مجھ سے عاصی کو روضے پہ بُلوا لیا
اب اِنہیں جالیوں میں مجھے ایک دن
اپنا جلوا دکھائیں تو کیا پُوچھنا
ایک دن جب سجے محفلِ مصطفیٰ
غوثِ اعظم ہوں اور ہوں سبھی اولیا
میں پڑھوں جُھوم کے نعتِ سرکار کی
سُن کے وہ مُسکُرائیں تو کیا پُوچھنا
یہ جگر ہو یا سر ہو یا ہو چشمِ نم
آپ نے تو کِئے ہیں سبھی پہ کرم
اب ذرا میرے دل پہ بھی رکھ دیں قدم
دل میرا جگمگائے تو کیا پُوچھنا
جام عرفان کا بحرِ عرفان سے
قُطْب و ابدال آتے ہیں پینے جسے
کاش گُلزار ! مجھ کو بھی اِک دن وہی
جام بھر کر پلائیں تو کیا پُوچھنا
شاعر:
سید شاہ گلزار اسماعیل واسطی قادری
نعت خواں:
سید عبد الوصی قادری رضوی
آپ تشریف لائیں تو کیا پُوچھنا
اپنے نُورانی قدموں سے گھر کو میرے
آ کے جنّت بنائیں تو کیا پُوچھنا
غوثِ اعظم نے مجھ پہ کرم یہ کِیا
مجھ سے عاصی کو روضے پہ بُلوا لیا
اب اِنہیں جالیوں میں مجھے ایک دن
اپنا جلوا دکھائیں تو کیا پُوچھنا
ایک دن جب سجے محفلِ مصطفیٰ
غوثِ اعظم ہوں اور ہوں سبھی اولیا
میں پڑھوں جُھوم کے نعتِ سرکار کی
سُن کے وہ مُسکُرائیں تو کیا پُوچھنا
یہ جگر ہو یا سر ہو یا ہو چشمِ نم
آپ نے تو کِئے ہیں سبھی پہ کرم
اب ذرا میرے دل پہ بھی رکھ دیں قدم
دل میرا جگمگائے تو کیا پُوچھنا
جام عرفان کا بحرِ عرفان سے
قُطْب و ابدال آتے ہیں پینے جسے
کاش گُلزار ! مجھ کو بھی اِک دن وہی
جام بھر کر پلائیں تو کیا پُوچھنا
شاعر:
سید شاہ گلزار اسماعیل واسطی قادری
نعت خواں:
سید عبد الوصی قادری رضوی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں