نہ کہیں سے دور ہیں منزلیں نہ کوئی قریب کی بات ہے | Na Kahin Se Door Hain Manzilein Na Koi Qareeb Ki Baat Hai Lyrics in Urdu
نہ کہیں سے دُور ہیں منزلیں، نہ کوئی قریب کی بات ہے
جسے چاہے اُس کو نواز دے، یہ درِ حبیب کی بات ہے
جسے چاہا در پہ بلا لیا، جسے چاہا اپنا بنا لیا
یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے، یہ بڑے نصیب کی بات ہے
وہ بھٹک کے راہ میں رہ گئی، یہ مچل کے در سے لپٹ گئی
وہ کسی امیر کی شان تھی، یہ کسی غریب کی بات ہے
مجھے جاں سے بڑھ کے عزیز دل، میرا درد دل سے عزیز تر
ہے جو درد سے بھی عزیز تر، وہ مِرے طبیب کی بات ہے
میں بُروں سے لاکھ بُرا سہی، مگر اُن سے ہے مِرا واسطہ
مِری لاج رکھ لے، میرے خدا ! یہ تِرے حبیب کی بات ہے
وہ خدا نہیں بخدا نہیں، وہ مگر خدا سے جدا نہیں
وہ ہیں کیا مگر وہ ہیں کیا نہیں، یہ مُحِب حبیب کی بات ہے
تِرے حسن سے تِری شان تک ہے نگاہ و عقل کا فاصلہ
یہ ذرا بعید کا ذکر ہے، وہ ذرا قریب کی بات ہے
تجھے اے مُنَوَّرِ بے نوا ! درِ شہ سے چاہیئے اور کیا
جو نصیب ہو کبھی سامنا تو بڑے نصیب کی بات ہے
شاعر:
منور بدایونی
نعت خواں:
قاری وحید ظفر قاسمی
جسے چاہے اُس کو نواز دے، یہ درِ حبیب کی بات ہے
جسے چاہا در پہ بلا لیا، جسے چاہا اپنا بنا لیا
یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے، یہ بڑے نصیب کی بات ہے
وہ بھٹک کے راہ میں رہ گئی، یہ مچل کے در سے لپٹ گئی
وہ کسی امیر کی شان تھی، یہ کسی غریب کی بات ہے
مجھے جاں سے بڑھ کے عزیز دل، میرا درد دل سے عزیز تر
ہے جو درد سے بھی عزیز تر، وہ مِرے طبیب کی بات ہے
میں بُروں سے لاکھ بُرا سہی، مگر اُن سے ہے مِرا واسطہ
مِری لاج رکھ لے، میرے خدا ! یہ تِرے حبیب کی بات ہے
وہ خدا نہیں بخدا نہیں، وہ مگر خدا سے جدا نہیں
وہ ہیں کیا مگر وہ ہیں کیا نہیں، یہ مُحِب حبیب کی بات ہے
تِرے حسن سے تِری شان تک ہے نگاہ و عقل کا فاصلہ
یہ ذرا بعید کا ذکر ہے، وہ ذرا قریب کی بات ہے
تجھے اے مُنَوَّرِ بے نوا ! درِ شہ سے چاہیئے اور کیا
جو نصیب ہو کبھی سامنا تو بڑے نصیب کی بات ہے
شاعر:
منور بدایونی
نعت خواں:
قاری وحید ظفر قاسمی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں