جو عشق نبی کے جلووں کو سِینوں میں بسایا کرتے ہیں | Jo Ishq-e-Nabi Ke Jalwon Ko Seenon Mein Basaya Karte Hain Lyrics in Urdu
جو عشقِ نبی کے جلووں کو سِینوں میں بسایا کرتے ہیں
اللہ کی رحمت کے بادل اُن لوگوں پہ سایہ کرتے ہیں
جب اپنے غُلاموں کی آقا تقدیر جگایا کرتے ہیں
جنّت کی سند دینے کے لیے روضے پہ بلایا کرتے ہیں
مخلوق کی بِگڑی بنتی ہے، خالق کو بھی پیار آ جاتا ہے
جب بہرِ دُعا محبوبِ خدا ہاتھوں کو اُٹھایا کرتے ہیں
اے دولتِ عرفاں کے منگتو! اُس در پہ چلو جِس در پہ سدا
دِن رات خزانے رحمت کے سرکار لُٹایا کرتے ہیں
گردابِ بلا میں پھنس کے کوئی طیبہ کی طرف جب تکتا ہے
سُلطانِ مدینہ خود آ کر کشتی کو تِرایا کرتے ہیں
وہ نزع کی سختی ہو، اے دل! یا قبر کی مُشکل منزل ہو
وہ اپنے غُلاموں کی اکثر امداد کو آیا کرتے ہیں
ہے شُغل ہمارا شام و سحر اور ناز، سِکَندر! قسمت پر
محفل میں رسولِ اکرم کی ہم نعت سُنایا کرتے ہیں
شاعر:
سکندر لکھنوی
نعت خواں:
اویس رضا قادری
اللہ کی رحمت کے بادل اُن لوگوں پہ سایہ کرتے ہیں
جب اپنے غُلاموں کی آقا تقدیر جگایا کرتے ہیں
جنّت کی سند دینے کے لیے روضے پہ بلایا کرتے ہیں
مخلوق کی بِگڑی بنتی ہے، خالق کو بھی پیار آ جاتا ہے
جب بہرِ دُعا محبوبِ خدا ہاتھوں کو اُٹھایا کرتے ہیں
اے دولتِ عرفاں کے منگتو! اُس در پہ چلو جِس در پہ سدا
دِن رات خزانے رحمت کے سرکار لُٹایا کرتے ہیں
گردابِ بلا میں پھنس کے کوئی طیبہ کی طرف جب تکتا ہے
سُلطانِ مدینہ خود آ کر کشتی کو تِرایا کرتے ہیں
وہ نزع کی سختی ہو، اے دل! یا قبر کی مُشکل منزل ہو
وہ اپنے غُلاموں کی اکثر امداد کو آیا کرتے ہیں
ہے شُغل ہمارا شام و سحر اور ناز، سِکَندر! قسمت پر
محفل میں رسولِ اکرم کی ہم نعت سُنایا کرتے ہیں
شاعر:
سکندر لکھنوی
نعت خواں:
اویس رضا قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں