علی کی یاد آئے نجف کی یاد آئے | Ali Ki Yaad Aaye Najaf Ki Yaad Aaye Lyrics in Urdu
خوشا زمينِ مُعَلّیٰ، زہے فضائے نجف
رياضِ خُلد بھی ہے شائقِ ہوائے نجف
مِلی انگُوٹھی بھی ویسی ہی تھا نگیں جیسا
نجف برائےعلی تھا، علی برائے نجف
مريضِ عشقِ ولا ہُوں کہ صبح و شام مجھے
علی کی یاد آئے، نجف کی یاد آئے
اُسی سے رکھتا ہُوں رِشتہ ہر ایک آن جسے
علی کی یاد آئے، نجف کی یاد آئے
مريضِ عشقِ ولا ہُوں کہ صبح و شام مجھے
علی کی یاد آئے، نجف کی یاد آئے
یا علی ! علی یا علی ! علی یا علی ! علی یا علی !
اضافہ ہوتا ہے میرے مرض کی شِدّت میں
تڑپ رہا ہوں میں ہر دم نجف کی فُرقت میں
یہ دھڑکنوں کی صدا آئے گام گام مجھے
علی کی یاد آئے، نجف کی یاد آئے
مريضِ عشقِ ولا ہُوں کہ صبح و شام مجھے
علی کی یاد آئے، نجف کی یاد آئے
بِنا علی کے مِرا زندگی میں جی نہ لگے
خوشی مِلے بھی کوئی تو مجھے خوشی نہ لگے
مِلا ہے سانسوں کی صورت علی کا نام مجھے
علی کی یاد آئے، نجف کی یاد آئے
مريضِ عشقِ ولا ہُوں کہ صبح و شام مجھے
علی کی یاد آئے، نجف کی یاد آئے
یا علی ! علی یا علی ! علی یا علی ! علی یا علی !
زمیں پہ خُلد کا منظر مجھے دِکھا دیجے
تڑپ رہا ہُوں، نجف میں مجھے بُلا لیجے
وگرنہ جینا نہیں ہے میرے اِمام ! مجھے
علی کی یاد آئے، نجف کی یاد آئے
مريضِ عشقِ ولا ہُوں کہ صبح و شام مجھے
علی کی یاد آئے، نجف کی یاد آئے
یہ آرزو ہے تمنّا ہے شمس کی، مولا !
قصیدہ لِکھتا رہُوں ساری زندگی، مولا !
پکارے سارا زمانہ تِرا غُلام مجھے
علی کی یاد آئے، نجف کی یاد آئے
مريضِ عشقِ ولا ہُوں کہ صبح و شام مجھے
علی کی یاد آئے، نجف کی یاد آئے
یا علی ! علی یا علی ! علی یا علی ! علی یا علی !
شاعر:
شمس جعفری
نشید خواں:
سید جان علی شاہ رضوی
رياضِ خُلد بھی ہے شائقِ ہوائے نجف
مِلی انگُوٹھی بھی ویسی ہی تھا نگیں جیسا
نجف برائےعلی تھا، علی برائے نجف
مريضِ عشقِ ولا ہُوں کہ صبح و شام مجھے
علی کی یاد آئے، نجف کی یاد آئے
اُسی سے رکھتا ہُوں رِشتہ ہر ایک آن جسے
علی کی یاد آئے، نجف کی یاد آئے
مريضِ عشقِ ولا ہُوں کہ صبح و شام مجھے
علی کی یاد آئے، نجف کی یاد آئے
یا علی ! علی یا علی ! علی یا علی ! علی یا علی !
اضافہ ہوتا ہے میرے مرض کی شِدّت میں
تڑپ رہا ہوں میں ہر دم نجف کی فُرقت میں
یہ دھڑکنوں کی صدا آئے گام گام مجھے
علی کی یاد آئے، نجف کی یاد آئے
مريضِ عشقِ ولا ہُوں کہ صبح و شام مجھے
علی کی یاد آئے، نجف کی یاد آئے
بِنا علی کے مِرا زندگی میں جی نہ لگے
خوشی مِلے بھی کوئی تو مجھے خوشی نہ لگے
مِلا ہے سانسوں کی صورت علی کا نام مجھے
علی کی یاد آئے، نجف کی یاد آئے
مريضِ عشقِ ولا ہُوں کہ صبح و شام مجھے
علی کی یاد آئے، نجف کی یاد آئے
یا علی ! علی یا علی ! علی یا علی ! علی یا علی !
زمیں پہ خُلد کا منظر مجھے دِکھا دیجے
تڑپ رہا ہُوں، نجف میں مجھے بُلا لیجے
وگرنہ جینا نہیں ہے میرے اِمام ! مجھے
علی کی یاد آئے، نجف کی یاد آئے
مريضِ عشقِ ولا ہُوں کہ صبح و شام مجھے
علی کی یاد آئے، نجف کی یاد آئے
یہ آرزو ہے تمنّا ہے شمس کی، مولا !
قصیدہ لِکھتا رہُوں ساری زندگی، مولا !
پکارے سارا زمانہ تِرا غُلام مجھے
علی کی یاد آئے، نجف کی یاد آئے
مريضِ عشقِ ولا ہُوں کہ صبح و شام مجھے
علی کی یاد آئے، نجف کی یاد آئے
یا علی ! علی یا علی ! علی یا علی ! علی یا علی !
شاعر:
شمس جعفری
نشید خواں:
سید جان علی شاہ رضوی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں