جس کے ہاتھوں میں ہے ذوالفقار نبی | نعرۂ حیدری یا علی یا علی | Jis Ke Hathon Mein Hai Zulfiqar-e-Nabi Lyrics in Urdu
جِس کے ہاتھوں میں ہے ذوالفقارِ نبی
جِس کے پہلو میں ہے راہوارِ نبی
دُخترِ مصطفیٰ جِس کی دُلہن بنی
جس کے بیٹوں سے نسلِ نبی ہے چلی
ہاں وہی، ہاں وہی، وہ علِیُّ ولی
نعرۂ حیدری یا علی یا علی
جِس کے بارے میں فرمائیں پیارے نبی
جِس کا مولیٰ ہوں میں، اُس کا مولیٰ علی
جِس کی تلوار کی جگ میں شہرت ہوئی
جِس کے کُنبے سے رسمِ شُجاعت چلی
ہاں وہی، ہاں وہی، وہ علِیُّ ولی
نعرۂ حیدری یا علی یا علی
جس کو شاہِ ولایت کا درجہ مِلا
جیتے جی جِس کو جنّت کا مژدہ مِلا
سیّدِ دوجہاں جِس کو رُتبہ ملا
سِلسِلے سارے جِس پر ہوئے مُنتہی
ہاں وہی، ہاں وہی، وہ علِیُّ ولی
نعرۂ حیدری یا علی یا علی
جو علی کا ہُوا، وہ نبی کا ہُوا
یا علی کہہ دیا، سارا غم ٹل گیا
وہ ہیں خیبر شِکن اور شیرِ خُدا
نام سے اُن کے ہر رنج و کُلفت ٹلی
ہاں وہی، ہاں وہی، وہ علِیُّ ولی
نعرۂ حیدری یا علی یا علی
سیّدوں کے وہی جدِّ اعلیٰ بھی ہیں
میرے نانا بھی ہیں، میرے دادا بھی ہیں
میرے آقا بھی ہیں، میرے مولیٰ بھی ہیں
نظمی ! وہ ہی صفی وہ نجی وہ رضی
ہاں وہی، ہاں وہی، وہ علِیُّ ولی
نعرۂ حیدری یا علی یا علی
شاعر:
نظمی مارہروی
نعت خواں:
مناظر حسین بدایونی
سید کیفی علی رضوی
جِس کے پہلو میں ہے راہوارِ نبی
دُخترِ مصطفیٰ جِس کی دُلہن بنی
جس کے بیٹوں سے نسلِ نبی ہے چلی
ہاں وہی، ہاں وہی، وہ علِیُّ ولی
نعرۂ حیدری یا علی یا علی
جِس کے بارے میں فرمائیں پیارے نبی
جِس کا مولیٰ ہوں میں، اُس کا مولیٰ علی
جِس کی تلوار کی جگ میں شہرت ہوئی
جِس کے کُنبے سے رسمِ شُجاعت چلی
ہاں وہی، ہاں وہی، وہ علِیُّ ولی
نعرۂ حیدری یا علی یا علی
جس کو شاہِ ولایت کا درجہ مِلا
جیتے جی جِس کو جنّت کا مژدہ مِلا
سیّدِ دوجہاں جِس کو رُتبہ ملا
سِلسِلے سارے جِس پر ہوئے مُنتہی
ہاں وہی، ہاں وہی، وہ علِیُّ ولی
نعرۂ حیدری یا علی یا علی
جو علی کا ہُوا، وہ نبی کا ہُوا
یا علی کہہ دیا، سارا غم ٹل گیا
وہ ہیں خیبر شِکن اور شیرِ خُدا
نام سے اُن کے ہر رنج و کُلفت ٹلی
ہاں وہی، ہاں وہی، وہ علِیُّ ولی
نعرۂ حیدری یا علی یا علی
سیّدوں کے وہی جدِّ اعلیٰ بھی ہیں
میرے نانا بھی ہیں، میرے دادا بھی ہیں
میرے آقا بھی ہیں، میرے مولیٰ بھی ہیں
نظمی ! وہ ہی صفی وہ نجی وہ رضی
ہاں وہی، ہاں وہی، وہ علِیُّ ولی
نعرۂ حیدری یا علی یا علی
شاعر:
نظمی مارہروی
نعت خواں:
مناظر حسین بدایونی
سید کیفی علی رضوی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں