لقب صدیق بن جائے صداقت ہو تو ایسی ہو | Laqab Siddiq Ban Jaye Sadaqat Ho To Aisi Ho Lyrics in Urdu
لقب صِدّیق بن جائے، صداقت ہو تو ایسی ہو
مزار و غار کے ساتھی، رفاقت ہو تو ایسی ہو
میرے سرکار کا روضہ جو جنّت سے بھی اعلیٰ ہے
تیری بیٹی کا گھر ہے وہ، کرامت ہو تو ایسی ہو
اُٹھایا اپنے کاندھوں پر ہے سردارِ دو عالم کو
خدا کی اِس امانت کی حِفاظت ہو تو ایسی ہو
دلبر و دِلدار ہیں صِدّیقِ اکبر
صحابہ کے سردار ہیں صِدّیقِ اکبر
اور حیدر کے یار ہیں صِدّیقِ اکبر
ہر سُنّی کا پیار ہیں صِدّیقِ اکبر
تیری پاکیزہ بیٹی پر غلط تُہمت لگی جِس دم
خُدا نے خود صفائی دی، بَرَأت ہو تو ایسی ہو
خُدا کی راہ میں قُربان کر ڈالا ہے تن من دھن
بدن پر ٹاٹ اوڑھا ہے، سخاوت ہو تو ایسی ہو
شبِ ہجرت تیرے در پر میرے آقا نے دستک دی
کِسی کے صِدْقِ ایماں پر شہادت ہو تو ایسی ہو
بتا منظر، اے غارِ ثور! دِیوانے کی نظروں کا
کہ تھے محبوب جھولی میں، زیارت ہو تو ایسی ہو
رسُول اللہ تیرے گھر میں دولہا بن کے آئے تھے
گھرانے ہوں تو ایسے ہوں، قرابت ہو تو ایسی ہو
دلبر و دِلدار ہیں صِدّیقِ اکبر
صحابہ کے سردار ہیں صِدّیقِ اکبر
اور حیدر کے یار ہیں صِدّیقِ اکبر
ہر سُنّی کا پیار ہیں صِدّیقِ اکبر
نبی کے بعد سب اصحاب نے قائد تمہیں مانا
عمر بیعت، علی بیعت، خلافت ہو تو ایسی ہو
عبّاسی ! تُو غُلامی کر نبی کے سب صحابہ کی
اِسی رہ میں کٹے گردن، سعادت ہو تو ایسی ہو
شاعر:
مولانا جمیل الرحمٰن اجمل عباسی
نعت خواں:
حافظ طاہر قادری
حافظ احسن قادری
مزار و غار کے ساتھی، رفاقت ہو تو ایسی ہو
میرے سرکار کا روضہ جو جنّت سے بھی اعلیٰ ہے
تیری بیٹی کا گھر ہے وہ، کرامت ہو تو ایسی ہو
اُٹھایا اپنے کاندھوں پر ہے سردارِ دو عالم کو
خدا کی اِس امانت کی حِفاظت ہو تو ایسی ہو
دلبر و دِلدار ہیں صِدّیقِ اکبر
صحابہ کے سردار ہیں صِدّیقِ اکبر
اور حیدر کے یار ہیں صِدّیقِ اکبر
ہر سُنّی کا پیار ہیں صِدّیقِ اکبر
تیری پاکیزہ بیٹی پر غلط تُہمت لگی جِس دم
خُدا نے خود صفائی دی، بَرَأت ہو تو ایسی ہو
خُدا کی راہ میں قُربان کر ڈالا ہے تن من دھن
بدن پر ٹاٹ اوڑھا ہے، سخاوت ہو تو ایسی ہو
شبِ ہجرت تیرے در پر میرے آقا نے دستک دی
کِسی کے صِدْقِ ایماں پر شہادت ہو تو ایسی ہو
بتا منظر، اے غارِ ثور! دِیوانے کی نظروں کا
کہ تھے محبوب جھولی میں، زیارت ہو تو ایسی ہو
رسُول اللہ تیرے گھر میں دولہا بن کے آئے تھے
گھرانے ہوں تو ایسے ہوں، قرابت ہو تو ایسی ہو
دلبر و دِلدار ہیں صِدّیقِ اکبر
صحابہ کے سردار ہیں صِدّیقِ اکبر
اور حیدر کے یار ہیں صِدّیقِ اکبر
ہر سُنّی کا پیار ہیں صِدّیقِ اکبر
نبی کے بعد سب اصحاب نے قائد تمہیں مانا
عمر بیعت، علی بیعت، خلافت ہو تو ایسی ہو
عبّاسی ! تُو غُلامی کر نبی کے سب صحابہ کی
اِسی رہ میں کٹے گردن، سعادت ہو تو ایسی ہو
شاعر:
مولانا جمیل الرحمٰن اجمل عباسی
نعت خواں:
حافظ طاہر قادری
حافظ احسن قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں