منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے | Manzar Fiza-e-Dahar Mein Sara Ali Ka Hai Lyrics in Urdu
منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے
جس سمت دیکھتا ہُوں نظارہ علی کا ہے
دنیائے آشتی کی پھبن مُجتبیٰ حَسن
لختِ جگر نبی کا تو پیارا علی کا ہے
ہستی کی آب و تاب حُسین آسماں جناب
زہرا کا لال، راج دُلارا علی کا ہے
مرحب دو نیم ہے سرِ مقتل پڑا ہُوا
اُٹھنے کا اب نہیں کہ یہ مارا علی کا ہے
کُل کا جمال جُزو کے چہرے سے ہے عیاں
گھوڑے پہ ہیں حسین، نظارہ علی کا ہے
اے ارضِ پاک ! تجھ کو مبارک کہ تیرے پاس
پرچم نبی کا، چاند سِتارہ علی کا ہے
تم دخل دے رہے ہو عقیدت کے باب میں
دیکھو معاملہ یہ ہمارا علی کا ہے
ہم فقرِ مست، چاہنے والے علی کے ہیں
دِل پر ہمارے صرف اِجارہ علی کا ہے
دنیا میں اور کون ہے اپنا بجُز علی
ہم بے کسوں کو ہے تو سہارا علی کا ہے
تو کیا ہے اور کیا ہے تیرے علم کی بِساط
تجھ پر کرم، نصیر ! یہ سارا علی کا ہے
شاعر:
پیر نصیر الدین نصیر
نعت خواں:
سید فصیح الدین سہروردی
جس سمت دیکھتا ہُوں نظارہ علی کا ہے
دنیائے آشتی کی پھبن مُجتبیٰ حَسن
لختِ جگر نبی کا تو پیارا علی کا ہے
ہستی کی آب و تاب حُسین آسماں جناب
زہرا کا لال، راج دُلارا علی کا ہے
مرحب دو نیم ہے سرِ مقتل پڑا ہُوا
اُٹھنے کا اب نہیں کہ یہ مارا علی کا ہے
کُل کا جمال جُزو کے چہرے سے ہے عیاں
گھوڑے پہ ہیں حسین، نظارہ علی کا ہے
اے ارضِ پاک ! تجھ کو مبارک کہ تیرے پاس
پرچم نبی کا، چاند سِتارہ علی کا ہے
تم دخل دے رہے ہو عقیدت کے باب میں
دیکھو معاملہ یہ ہمارا علی کا ہے
ہم فقرِ مست، چاہنے والے علی کے ہیں
دِل پر ہمارے صرف اِجارہ علی کا ہے
دنیا میں اور کون ہے اپنا بجُز علی
ہم بے کسوں کو ہے تو سہارا علی کا ہے
تو کیا ہے اور کیا ہے تیرے علم کی بِساط
تجھ پر کرم، نصیر ! یہ سارا علی کا ہے
شاعر:
پیر نصیر الدین نصیر
نعت خواں:
سید فصیح الدین سہروردی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں