یہ وقار و شان یہ شوکت رسول اللہ کی | عرش حق ہے مسند رفعت رسول اللہ کی تضمین کے ساتھ | Ye Waqar-o-Shan Ye Shaukat Rasoolullah Ki Lyrics in Urdu
یہ وقار و شان یہ شوکت رسول اللہ کی
یہ حکومت اور یہ سطوت رسول اللہ کی
شانِ لَوْلاکَ لَما خِلعت رسول اللہ کی
عرشِ حق ہے مسندِ رفعت رسول اللہ کی
دیکھنی ہے حشر میں عِزّت رسول اللہ کی
کِس قدر پُر نُور ہے صُورت رسول اللہ کی
دیدِ حق ہے بالیقیں رُویت رسول اللہ کی
مرحبا یہ شان یہ عظمت رسول اللہ کی
عرشِ حق ہے مسندِ رفعت رسول اللہ کی
دیکھنی ہے حشر میں عِزّت رسول اللہ کی
پھوٹیں گے کنجِ لحد سے اپنی سَوْتے نُور کے
جِھلمِلائیں گے شبِ مرقد میں لمعے نُور کے
اِس قدر بھر جائیں گے برزخ میں جلوے نُور کے
قبر میں لہرائیں گے تا حشر چشمے نُور کے
جلوہ فرما ہوگی جب طلعت رسول اللہ کی
ہُوبَہُو قہرِ خدائے پاک تھی برقِ غضب
پُوچھ اُن کا کیا ہوا جِن پر پڑی برقِ غضب
اللہ اللہ خاک ہستی کر گئی برقِ غضب
کافِروں پر تیغِ والا سے گِری برقِ غضب
اَبر آسا چھا گئی ہیبت رسول اللہ کی
دیکھ لے تو دامنِ خیرات کیا اُن سے مِلا
دوجہاں اُن سے مِلے، بے اِنْتِہا اُن سے مِلا
اِس سے آگے اور کیا بولُوں خُدا اُن سے مِلا
لَا وَرَبِّ الْعَرْش جِس کو جو مِلا اُن سے مِلا
بٹتی ہے کونین میں نعمت رسول اللہ کی
ٹھوکریں کھاتا رہا جو اُن سے مُستغنی ہوا
لائقِ عبرت بنا جو اُن سے مُستغنی ہوا
ہو کے بے ایماں مرا جو اُن سے مُستغنی ہوا
وہ جہنّم میں گیا جو اُن سے مُستغنی ہوا
ہے خلیل اللہ کو حاجت رسول اللہ کی
در بدر پھرتا رہا جو اُن سے مُستغنی ہوا
ہر جگہ رُسوا ہوا جو اُن سے مُستغنی ہوا
راہِ جنّت سے پھرا جو اُن سے مُستغنی ہوا
وہ جہنّم میں گیا جو اُن سے مُستغنی ہوا
ہے خلیل اللہ کو حاجت رسول اللہ کی
ہم نے سِیکھے ہیں اِسی مکتب سے آدابِ حضور
ہم اسی مے خانے سے پیتے ہیں مئے نابِ حضور
ہر جگہ پہچان ہے اپنی شِفایابِ حضور
اہلِ سُنّت کا ہے بیڑا پار، اَصحابِ حضور
نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی
ہم وہ خوش قِسمت ہیں اُن کی یاد میں رونا مِلا
اور صِلے میں آنکھ کو دیدار کا ہونا مِلا
قبر ایسی خُلد کا جیسے کوئی کونا مِلا
خاک ہو کر عِشق میں آرام سے سونا مِلا
جان کی اِکسیر ہے اُلفت رسول اللہ کی
ما وَرا اِدراک سے ہے حُسنِ اعضاۓ حضور
آپ کا ہمسر کہاں سے کوئی لے آئے حضور
آپ کیا ہیں کون سمجھے کون سمجھائے حضور
ہے گُلِ باغِ قُدُس رُخسارِ زَیبائے حضور
سروِ گُلزارِ قِدم قامت رسول اللہ کی
ویسے تو، رازی ! ہر اِک انساں ہے مداحِ حضور
ایک اِک یہ گوشہِ امکاں ہے مداحِ حضور
ہر زبان و ہر دلِ حیراں ہے مداحِ حضور
اے رضا ! خود صاحبِ قرآن ہے مَدّاحِ حضور
تُجھ سے کب مُمکن ہے پھر مِدحت رسول اللہ کی
کلام:
امام احمد رضا خان
تضمین:
میرزا امجد رازی
اویس رضا قادری
نعت خواں:
اویس رضا قادری
یہ حکومت اور یہ سطوت رسول اللہ کی
شانِ لَوْلاکَ لَما خِلعت رسول اللہ کی
عرشِ حق ہے مسندِ رفعت رسول اللہ کی
دیکھنی ہے حشر میں عِزّت رسول اللہ کی
کِس قدر پُر نُور ہے صُورت رسول اللہ کی
دیدِ حق ہے بالیقیں رُویت رسول اللہ کی
مرحبا یہ شان یہ عظمت رسول اللہ کی
عرشِ حق ہے مسندِ رفعت رسول اللہ کی
دیکھنی ہے حشر میں عِزّت رسول اللہ کی
پھوٹیں گے کنجِ لحد سے اپنی سَوْتے نُور کے
جِھلمِلائیں گے شبِ مرقد میں لمعے نُور کے
اِس قدر بھر جائیں گے برزخ میں جلوے نُور کے
قبر میں لہرائیں گے تا حشر چشمے نُور کے
جلوہ فرما ہوگی جب طلعت رسول اللہ کی
ہُوبَہُو قہرِ خدائے پاک تھی برقِ غضب
پُوچھ اُن کا کیا ہوا جِن پر پڑی برقِ غضب
اللہ اللہ خاک ہستی کر گئی برقِ غضب
کافِروں پر تیغِ والا سے گِری برقِ غضب
اَبر آسا چھا گئی ہیبت رسول اللہ کی
دیکھ لے تو دامنِ خیرات کیا اُن سے مِلا
دوجہاں اُن سے مِلے، بے اِنْتِہا اُن سے مِلا
اِس سے آگے اور کیا بولُوں خُدا اُن سے مِلا
لَا وَرَبِّ الْعَرْش جِس کو جو مِلا اُن سے مِلا
بٹتی ہے کونین میں نعمت رسول اللہ کی
ٹھوکریں کھاتا رہا جو اُن سے مُستغنی ہوا
لائقِ عبرت بنا جو اُن سے مُستغنی ہوا
ہو کے بے ایماں مرا جو اُن سے مُستغنی ہوا
وہ جہنّم میں گیا جو اُن سے مُستغنی ہوا
ہے خلیل اللہ کو حاجت رسول اللہ کی
در بدر پھرتا رہا جو اُن سے مُستغنی ہوا
ہر جگہ رُسوا ہوا جو اُن سے مُستغنی ہوا
راہِ جنّت سے پھرا جو اُن سے مُستغنی ہوا
وہ جہنّم میں گیا جو اُن سے مُستغنی ہوا
ہے خلیل اللہ کو حاجت رسول اللہ کی
ہم نے سِیکھے ہیں اِسی مکتب سے آدابِ حضور
ہم اسی مے خانے سے پیتے ہیں مئے نابِ حضور
ہر جگہ پہچان ہے اپنی شِفایابِ حضور
اہلِ سُنّت کا ہے بیڑا پار، اَصحابِ حضور
نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی
ہم وہ خوش قِسمت ہیں اُن کی یاد میں رونا مِلا
اور صِلے میں آنکھ کو دیدار کا ہونا مِلا
قبر ایسی خُلد کا جیسے کوئی کونا مِلا
خاک ہو کر عِشق میں آرام سے سونا مِلا
جان کی اِکسیر ہے اُلفت رسول اللہ کی
ما وَرا اِدراک سے ہے حُسنِ اعضاۓ حضور
آپ کا ہمسر کہاں سے کوئی لے آئے حضور
آپ کیا ہیں کون سمجھے کون سمجھائے حضور
ہے گُلِ باغِ قُدُس رُخسارِ زَیبائے حضور
سروِ گُلزارِ قِدم قامت رسول اللہ کی
ویسے تو، رازی ! ہر اِک انساں ہے مداحِ حضور
ایک اِک یہ گوشہِ امکاں ہے مداحِ حضور
ہر زبان و ہر دلِ حیراں ہے مداحِ حضور
اے رضا ! خود صاحبِ قرآن ہے مَدّاحِ حضور
تُجھ سے کب مُمکن ہے پھر مِدحت رسول اللہ کی
کلام:
امام احمد رضا خان
تضمین:
میرزا امجد رازی
اویس رضا قادری
نعت خواں:
اویس رضا قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں