اپنے آنسو بہاؤں گا میں | اپنے رب کو مناؤں گا میں | Apne Rab Ko Manaunga Main Lyrics in Urdu
اپنے آنسو بہاؤں گا میں
اپنے رب کو مناؤں گا میں
بوجھ دِل پہ گُناہوں کا ہے
کیسے اِس کو اُٹھاؤں گا میں
داغ جس پر لگے معصیت کے
اب وہ دامن بچاؤں گا میں
اپنے آنسو بہاؤں گا میں
اپنے رب کو مناؤں گا میں
نفس کی خواہشوں کو کُھرَچْ کر
دِل کے در سے مِٹاؤں گا میں
داستاں اپنے غم اور الم کی
اپنے رب کو سُناؤں گا میں
اپنے آنسو بہاؤں گا میں
اپنے رب کو مناؤں گا میں
دیپ اُمّید کا اور یقیں کا
اپنے دِل میں جلاؤں گا میں
ذکرِ ربّی جو رُوح کی غِذا ہے
اپنی رُوح کو کِھلاؤں گا میں
اپنے آنسو بہاؤں گا میں
اپنے رب کو مناؤں گا میں
یادِ آقا کے پھولوں سے اب
دِل کا گُلشن سجاؤں گا میں
حُکمِ رب اور حُکمِ نبی کو
حرزِ جاں اب بناؤں گا میں
اپنے آنسو بہاؤں گا میں
اپنے رب کو مناؤں گا میں
مال و زر ہو یا ہو جاں وہ میری
رب کی خاطر لُٹاؤں گا میں
خونِ دل کا ہر ایک ایک قطرہ
رب کی راہ میں بہاؤں گا میں
اپنے آنسو بہاؤں گا میں
اپنے رب کو مناؤں گا میں
لے کے سینے میں اِک نیک دِل کو
سوئے عُقبیٰ یُوں جاؤں گا میں
رب کے فضل و کرم سے، حِجازی !
چین دِل کا یُوں پاؤں گا میں
اپنے آنسو بہاؤں گا میں
اپنے رب کو مناؤں گا میں
شاعر:
وسیم حجازی
نعت خواں:
محمد انس نذیر
اپنے رب کو مناؤں گا میں
بوجھ دِل پہ گُناہوں کا ہے
کیسے اِس کو اُٹھاؤں گا میں
داغ جس پر لگے معصیت کے
اب وہ دامن بچاؤں گا میں
اپنے آنسو بہاؤں گا میں
اپنے رب کو مناؤں گا میں
نفس کی خواہشوں کو کُھرَچْ کر
دِل کے در سے مِٹاؤں گا میں
داستاں اپنے غم اور الم کی
اپنے رب کو سُناؤں گا میں
اپنے آنسو بہاؤں گا میں
اپنے رب کو مناؤں گا میں
دیپ اُمّید کا اور یقیں کا
اپنے دِل میں جلاؤں گا میں
ذکرِ ربّی جو رُوح کی غِذا ہے
اپنی رُوح کو کِھلاؤں گا میں
اپنے آنسو بہاؤں گا میں
اپنے رب کو مناؤں گا میں
یادِ آقا کے پھولوں سے اب
دِل کا گُلشن سجاؤں گا میں
حُکمِ رب اور حُکمِ نبی کو
حرزِ جاں اب بناؤں گا میں
اپنے آنسو بہاؤں گا میں
اپنے رب کو مناؤں گا میں
مال و زر ہو یا ہو جاں وہ میری
رب کی خاطر لُٹاؤں گا میں
خونِ دل کا ہر ایک ایک قطرہ
رب کی راہ میں بہاؤں گا میں
اپنے آنسو بہاؤں گا میں
اپنے رب کو مناؤں گا میں
لے کے سینے میں اِک نیک دِل کو
سوئے عُقبیٰ یُوں جاؤں گا میں
رب کے فضل و کرم سے، حِجازی !
چین دِل کا یُوں پاؤں گا میں
اپنے آنسو بہاؤں گا میں
اپنے رب کو مناؤں گا میں
شاعر:
وسیم حجازی
نعت خواں:
محمد انس نذیر
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں