جاتے ہیں بڑی شان سے معراج کے دولہا | Jaate Hain Badi Shaan Se Meraj Ke Dulha Lyrics in Urdu
معراج والے دولہا ! معراج والے دولہا !
معراج والے دولہا ! معراج والے دولہا !
اسرا میں گُزرے جس دم بیڑے پہ قُدسِیوں کے
ہونے لگی سلامی، پرچم جُھکا دیے ہیں
جاتے ہیں بڑی شان سے معراج کے دولہا
اللہ نے محبوب کو ہے پاس بُلایا
جاتے ہیں بڑی شان سے معراج کے دولہا
پیغام لیے آئے ہیں جبریل زمیں پر
اے سرورِ کونین ! چلیں عرشِ بریں پر
طالب ہے خدا آج کی شب آپ کا، سرور !
دیدارِ خُدا کر لیں، شہا ! قُرب میں جا کر
اللہ نے محبوب کو ہے پاس بُلایا
جاتے ہیں بڑی شان سے معراج کے دولہا
جبریلِ امیں کہنے لگے چُوم کے تلوے
بُرّاق ہے تیّار کھڑی آئیے چلیے
بے تاب ہیں عرشی اُنہیں دِکھلائیے جلوے
سب حُور و ملک دید کے مُشتاق ہیں کب سے
اللہ نے محبوب کو ہے پاس بُلایا
جاتے ہیں بڑی شان سے معراج کے دولہا
مُشتاق تھی اقصیٰ میں رسُولوں کی جماعت
سرکار نے کی سارے رسُولوں کی اِمامت
اقصیٰ سے چلے قُربِ خُدا کے لیے حضرت
سب شانِ نبی دیکھتے کرتے رہے حیرت
اللہ نے محبوب کو ہے پاس بُلایا
جاتے ہیں بڑی شان سے معراج کے دولہا
مرتبہ میرے نبی کا کیا عظیمُ الشّان ہے
رب تعالیٰ نے کِیا کیسا اُنہیں ذیشان ہے
واقِعہ معراج کا ہے معجزہ سرکار کا
رب تعالیٰ نے کِیا اپنا اُنہیں مہمان ہے
ہم اُن سے وفاداری کا اظہار کریں گے
معراج کی شب محفلِ سرکار کریں گے
سرکار کی سرکار میں معراج کے صدقے
بخشش کے لیے عرض گنہگار کریں گے
اللہ نے محبوب کو ہے پاس بُلایا
جاتے ہیں بڑی شان سے معراج کے دولہا
معراج کی شب عرش پہ سرکار کا جانا
دیدارِ خُدا کر کے بھی پھر لوٹ کے آنا
سرکار کی خاطر سبھی کچھ ٹھہر سا جانا
کیا شانِ رسالت ہے کہ ششدر ہے زمانہ
دی سرورِ عالم کو رسُولوں نے سلامی
کی شاہِ مدینہ کی فرِشْتوں نے غلامی
ہر سمت سے آتی ہے صدا صلے علیٰ کی
ہے دُھوم مچی عرش پہ معراجِ نبی کی
اللہ نے محبوب کو ہے پاس بُلایا
جاتے ہیں بڑی شان سے معراج کے دولہا
باڑا جو بٹا نُور کا، آقا ! شبِ اسرا
اُس میں سے مِلے شوقِ فریدی کو بھی حِصّہ
لِلّٰہ عطا کیجیے معراج کا صدقہ
کاسہ لیے دہلیز پہ حاضر ہے یہ منگتا
اللہ نے محبوب کو ہے پاس بُلایا
جاتے ہیں بڑی شان سے معراج کے دولہا
سرِ لا مکاں سے طلب ہوئی
سوئے مُنتہا وہ چلے نبی
کوئی حد ہے اُن کے عروج کی
بلغ العلیٰ بکمالہٖ
وہی لا مکاں کے مکیں ہوئے
سرِ عرش تخت نشیں ہوئے
یہ نبی ہیں جن کے ہیں یہ مکاں
وہ خُدا ہے جس کا مکاں نہیں
شاعر:
حافظ شوق فریدی
نعت خواں:
حافظ طاہر قادری
حافظ احسن قادری
معراج والے دولہا ! معراج والے دولہا !
اسرا میں گُزرے جس دم بیڑے پہ قُدسِیوں کے
ہونے لگی سلامی، پرچم جُھکا دیے ہیں
جاتے ہیں بڑی شان سے معراج کے دولہا
اللہ نے محبوب کو ہے پاس بُلایا
جاتے ہیں بڑی شان سے معراج کے دولہا
پیغام لیے آئے ہیں جبریل زمیں پر
اے سرورِ کونین ! چلیں عرشِ بریں پر
طالب ہے خدا آج کی شب آپ کا، سرور !
دیدارِ خُدا کر لیں، شہا ! قُرب میں جا کر
اللہ نے محبوب کو ہے پاس بُلایا
جاتے ہیں بڑی شان سے معراج کے دولہا
جبریلِ امیں کہنے لگے چُوم کے تلوے
بُرّاق ہے تیّار کھڑی آئیے چلیے
بے تاب ہیں عرشی اُنہیں دِکھلائیے جلوے
سب حُور و ملک دید کے مُشتاق ہیں کب سے
اللہ نے محبوب کو ہے پاس بُلایا
جاتے ہیں بڑی شان سے معراج کے دولہا
مُشتاق تھی اقصیٰ میں رسُولوں کی جماعت
سرکار نے کی سارے رسُولوں کی اِمامت
اقصیٰ سے چلے قُربِ خُدا کے لیے حضرت
سب شانِ نبی دیکھتے کرتے رہے حیرت
اللہ نے محبوب کو ہے پاس بُلایا
جاتے ہیں بڑی شان سے معراج کے دولہا
مرتبہ میرے نبی کا کیا عظیمُ الشّان ہے
رب تعالیٰ نے کِیا کیسا اُنہیں ذیشان ہے
واقِعہ معراج کا ہے معجزہ سرکار کا
رب تعالیٰ نے کِیا اپنا اُنہیں مہمان ہے
ہم اُن سے وفاداری کا اظہار کریں گے
معراج کی شب محفلِ سرکار کریں گے
سرکار کی سرکار میں معراج کے صدقے
بخشش کے لیے عرض گنہگار کریں گے
اللہ نے محبوب کو ہے پاس بُلایا
جاتے ہیں بڑی شان سے معراج کے دولہا
معراج کی شب عرش پہ سرکار کا جانا
دیدارِ خُدا کر کے بھی پھر لوٹ کے آنا
سرکار کی خاطر سبھی کچھ ٹھہر سا جانا
کیا شانِ رسالت ہے کہ ششدر ہے زمانہ
دی سرورِ عالم کو رسُولوں نے سلامی
کی شاہِ مدینہ کی فرِشْتوں نے غلامی
ہر سمت سے آتی ہے صدا صلے علیٰ کی
ہے دُھوم مچی عرش پہ معراجِ نبی کی
اللہ نے محبوب کو ہے پاس بُلایا
جاتے ہیں بڑی شان سے معراج کے دولہا
باڑا جو بٹا نُور کا، آقا ! شبِ اسرا
اُس میں سے مِلے شوقِ فریدی کو بھی حِصّہ
لِلّٰہ عطا کیجیے معراج کا صدقہ
کاسہ لیے دہلیز پہ حاضر ہے یہ منگتا
اللہ نے محبوب کو ہے پاس بُلایا
جاتے ہیں بڑی شان سے معراج کے دولہا
سرِ لا مکاں سے طلب ہوئی
سوئے مُنتہا وہ چلے نبی
کوئی حد ہے اُن کے عروج کی
بلغ العلیٰ بکمالہٖ
وہی لا مکاں کے مکیں ہوئے
سرِ عرش تخت نشیں ہوئے
یہ نبی ہیں جن کے ہیں یہ مکاں
وہ خُدا ہے جس کا مکاں نہیں
شاعر:
حافظ شوق فریدی
نعت خواں:
حافظ طاہر قادری
حافظ احسن قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں