جشن کا منظر تھا ماحول سہانا تھا | عرش نہ کیوں سجتا سرکار نے آنا تھا | Jashn Ka Manzar Tha Mahaul Suhana Tha Lyrics in Urdu
جشن کا منظر تھا، ماحول سُہانا تھا
عرش نہ کیوں سجتا، سرکار نے آنا تھا
فرش پہ نغمے تھے آقا کی رسالت کے
عرش پہ چرچے تھے حکومت کی عظمت کے
حُوروں کے لب پہ خوشیوں کا ترانہ تھا
عرش نہ کیوں سجتا، سرکار نے آنا تھا
جشن کا منظر تھا، ماحول سُہانا تھا
عرش نہ کیوں سجتا، سرکار نے آنا تھا
رُت بدل جائے اور رات سنور جائے
حُکم خُدا کا ہُوا کہ وقت ٹھہر جائے
رُک گیا فوراً جو گردش میں زمانہ تھا
عرش نہ کیوں سجتا، سرکار نے آنا تھا
جشن کا منظر تھا، ماحول سُہانا تھا
عرش نہ کیوں سجتا، سرکار نے آنا تھا
مسجدِ اقصیٰ میں کیا منظر تھے پیارے
پیچھے قطاروں میں حاضر تھے نبی سارے
آگے مُصَلّے پر سُلطانِ زمانہ تھا
عرش نہ کیوں سجتا، سرکار نے آنا تھا
جشن کا منظر تھا، ماحول سُہانا تھا
عرش نہ کیوں سجتا، سرکار نے آنا تھا
منزلِ سدرہ پر جبریل نے عرض کِیا
شاہِ دو عالم ! میں آگے نہیں چل سکتا
یہ ہی حد میری، یہی میرا ٹِھکانا تھا
عرش نہ کیوں سجتا، سرکار نے آنا تھا
جشن کا منظر تھا، ماحول سُہانا تھا
عرش نہ کیوں سجتا، سرکار نے آنا تھا
ایک وسیلہ ہے رب سے مُلاقاتوں کا
آپ کو حق نے دِیا تحفہ جو نمازوں کا
اصل میں اُمّت کی بخشش کا بہانہ تھا
عرش نہ کیوں سجتا، سرکار نے آنا تھا
جشن کا منظر تھا، ماحول سُہانا تھا
عرش نہ کیوں سجتا، سرکار نے آنا تھا
نُور میں، فارُوقی ! ڈُوبا یہ جہاں ہوگا
وقت وہ کیا ہوگا، کیسا وہ سماں ہوگا
مسندِ عرش پہ جب حسنین کا نانا تھا
عرش نہ کیوں سجتا، سرکار نے آنا تھا
جشن کا منظر تھا، ماحول سُہانا تھا
عرش نہ کیوں سجتا، سرکار نے آنا تھا
شاعر:
سہیل کلیم فاروقی
نعت خوان:
فراز عطاری
حافظ احمد رضا قادری
طلحہ قادری
عرش نہ کیوں سجتا، سرکار نے آنا تھا
فرش پہ نغمے تھے آقا کی رسالت کے
عرش پہ چرچے تھے حکومت کی عظمت کے
حُوروں کے لب پہ خوشیوں کا ترانہ تھا
عرش نہ کیوں سجتا، سرکار نے آنا تھا
جشن کا منظر تھا، ماحول سُہانا تھا
عرش نہ کیوں سجتا، سرکار نے آنا تھا
رُت بدل جائے اور رات سنور جائے
حُکم خُدا کا ہُوا کہ وقت ٹھہر جائے
رُک گیا فوراً جو گردش میں زمانہ تھا
عرش نہ کیوں سجتا، سرکار نے آنا تھا
جشن کا منظر تھا، ماحول سُہانا تھا
عرش نہ کیوں سجتا، سرکار نے آنا تھا
مسجدِ اقصیٰ میں کیا منظر تھے پیارے
پیچھے قطاروں میں حاضر تھے نبی سارے
آگے مُصَلّے پر سُلطانِ زمانہ تھا
عرش نہ کیوں سجتا، سرکار نے آنا تھا
جشن کا منظر تھا، ماحول سُہانا تھا
عرش نہ کیوں سجتا، سرکار نے آنا تھا
منزلِ سدرہ پر جبریل نے عرض کِیا
شاہِ دو عالم ! میں آگے نہیں چل سکتا
یہ ہی حد میری، یہی میرا ٹِھکانا تھا
عرش نہ کیوں سجتا، سرکار نے آنا تھا
جشن کا منظر تھا، ماحول سُہانا تھا
عرش نہ کیوں سجتا، سرکار نے آنا تھا
ایک وسیلہ ہے رب سے مُلاقاتوں کا
آپ کو حق نے دِیا تحفہ جو نمازوں کا
اصل میں اُمّت کی بخشش کا بہانہ تھا
عرش نہ کیوں سجتا، سرکار نے آنا تھا
جشن کا منظر تھا، ماحول سُہانا تھا
عرش نہ کیوں سجتا، سرکار نے آنا تھا
نُور میں، فارُوقی ! ڈُوبا یہ جہاں ہوگا
وقت وہ کیا ہوگا، کیسا وہ سماں ہوگا
مسندِ عرش پہ جب حسنین کا نانا تھا
عرش نہ کیوں سجتا، سرکار نے آنا تھا
جشن کا منظر تھا، ماحول سُہانا تھا
عرش نہ کیوں سجتا، سرکار نے آنا تھا
شاعر:
سہیل کلیم فاروقی
نعت خوان:
فراز عطاری
حافظ احمد رضا قادری
طلحہ قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں