جدائی کا کوئی بیتا ہوا لمحہ رلاتا ہے | تو کعبہ یاد آتا ہے بڑا ہی یاد آتا ہے | Judai Ka Koi Beeta Hua Lamha Rulata Hai Lyrics in Urdu
گر تو نہ سنے گا تو میری کون سنے گا
گر تو نہ کرے گا تو کرم کون کرے گا
جُدائی کا کوئی بیتا ہُوا لمحہ رُلاتا ہے
کوئی آنسو میری بھیگی ہوئی پلکیں سجاتا ہے
تو کعبہ یاد آتا ہے، بڑا ہی یاد آتا ہے
تو کعبہ یاد آتا ہے، بڑا ہی یاد آتا ہے
بڑے ہی خاص تھے لمحے جو کعبے میں گُزار آئے
بڑی اُمّید ہے دِل میں وہ لمحے بار بار آئیں
یہاں کوئی دِوَانہ جو مجھے زمزم پِلاتا ہے
تو کعبہ یاد آتا ہے، بڑا ہی یاد آتا ہے
غلافِ خانَۂ کعبہ پکڑ کر اپنے ہاتھوں میں
کبھی دِن کے اُجالوں میں، کبھی پُرنُور راتوں میں
وہاں کی داستاں کوئی ہمیں آ کر سُناتا ہے
تو کعبہ یاد آتا ہے، بڑا ہی یاد آتا ہے
مچلتے ہیں کئی ارمان اُس پَل میرے اِس دِل میں
تڑپ کے اُمّتی کوئی میرے آقا کی محفل میں
دُعا کے واسطے رو کر جو ہاتھوں کو اُٹھاتا ہے
تو کعبہ یاد آتا ہے، بڑا ہی یاد آتا ہے
وہاں رحمت برستی ہے، یہاں آنکھیں برستی ہیں
برستی یہ میری آنکھیں زیارت کو ترستی ہیں
جنیدِ قاسمی کوئی جو سینے سے لگاتا ہے
تو کعبہ یاد آتا ہے، بڑا ہی یاد آتا ہے
شاعر:
جنید قاسمی
نعت خواں:
سید حسان اللہ حسینی
گر تو نہ کرے گا تو کرم کون کرے گا
جُدائی کا کوئی بیتا ہُوا لمحہ رُلاتا ہے
کوئی آنسو میری بھیگی ہوئی پلکیں سجاتا ہے
تو کعبہ یاد آتا ہے، بڑا ہی یاد آتا ہے
تو کعبہ یاد آتا ہے، بڑا ہی یاد آتا ہے
بڑے ہی خاص تھے لمحے جو کعبے میں گُزار آئے
بڑی اُمّید ہے دِل میں وہ لمحے بار بار آئیں
یہاں کوئی دِوَانہ جو مجھے زمزم پِلاتا ہے
تو کعبہ یاد آتا ہے، بڑا ہی یاد آتا ہے
غلافِ خانَۂ کعبہ پکڑ کر اپنے ہاتھوں میں
کبھی دِن کے اُجالوں میں، کبھی پُرنُور راتوں میں
وہاں کی داستاں کوئی ہمیں آ کر سُناتا ہے
تو کعبہ یاد آتا ہے، بڑا ہی یاد آتا ہے
مچلتے ہیں کئی ارمان اُس پَل میرے اِس دِل میں
تڑپ کے اُمّتی کوئی میرے آقا کی محفل میں
دُعا کے واسطے رو کر جو ہاتھوں کو اُٹھاتا ہے
تو کعبہ یاد آتا ہے، بڑا ہی یاد آتا ہے
وہاں رحمت برستی ہے، یہاں آنکھیں برستی ہیں
برستی یہ میری آنکھیں زیارت کو ترستی ہیں
جنیدِ قاسمی کوئی جو سینے سے لگاتا ہے
تو کعبہ یاد آتا ہے، بڑا ہی یاد آتا ہے
شاعر:
جنید قاسمی
نعت خواں:
سید حسان اللہ حسینی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں