مرا ہر غم مٹانے کو مرا اللّه کافی ہے | Mera Har Gham Mitane Ko Mera Allah Kafi Hai Lyrics in Urdu
مِرا ہر غم مٹانے کو مِرا اللّه کافی ہے
مِری بِگڑی بنانے کو مِرا اللّه کافی ہے
لہُو میرے جِگر کا ہے اُسی کے فضل سے جاری
اُسی کی مہربانی سے ہے سانسوں کی رواداری
مِرا جیون بچانے کو مِرا اللّه کافی ہے
مِرا ہر غم مٹانے کو مِرا اللّه کافی ہے
وہی سبزہ اُگاتا ہے، وہی گُلشن سجاتا ہے
اناجوں کا شجر اُس کے کرم سے لہلہاتا ہے
مجھے کھانا کِھلانے کو مِرا اللّه کافی ہے
مِرا ہر غم مٹانے کو مِرا اللّه کافی ہے
سمندر کے لبوں میں اور بل کھاتی گھٹاؤں میں
وہی تو بانٹتا ہے روز تازہ دم ہواؤں میں
نیا موسم بنانے کو مِرا اللّه کافی ہے
مِرا ہر غم مٹانے کو مِرا اللّه کافی ہے
ہواؤں کو چلاتا ہے، وہی برسات لاتا ہے
وہی گیہُوں کے پودوں میں نئی بالی اُگاتا ہے
مِری کھیتی لگانے کو مِرا اللّه کافی ہے
مِرا ہر غم مِٹانے کو مِرا اللّه کافی ہے
وہی دریا میں موسیٰ کے لیے رستہ بناتا ہے
وہی یونس کو مچھلی کے شِکم میں بھی بچاتا ہے
ہر ایک منظر دِکھانے کو مِرا اللّه کافی ہے
مِرا ہر غم مٹانے کو مِرا اللّه کافی ہے
چمکتا ہے فلک پر چاند، سُورج جگمگاتا ہے
فلک کے نیلے پردوں پر بھی تارا ٹمٹماتا ہے
رُخِ عالم سجانے کو مِرا اللّه کافی ہے
مِرا ہر غم مِٹانے کو مِرا اللّه کافی ہے
یہ عظمت نعت پڑھتا ہے اُسی کی مہربانی سے
قصیدہ گُنگُناتا ہے اُسی کی مہربانی سے
مجھے شُہرت دِلانے کو مِرا اللّه کافی ہے
مِرا ہر غم مٹانے کو مِرا اللّه کافی ہے
شاعر:
عظمت رضا بھاگلپوری
نعت خواں:
عظمت رضا بھاگلپوری
مِری بِگڑی بنانے کو مِرا اللّه کافی ہے
لہُو میرے جِگر کا ہے اُسی کے فضل سے جاری
اُسی کی مہربانی سے ہے سانسوں کی رواداری
مِرا جیون بچانے کو مِرا اللّه کافی ہے
مِرا ہر غم مٹانے کو مِرا اللّه کافی ہے
وہی سبزہ اُگاتا ہے، وہی گُلشن سجاتا ہے
اناجوں کا شجر اُس کے کرم سے لہلہاتا ہے
مجھے کھانا کِھلانے کو مِرا اللّه کافی ہے
مِرا ہر غم مٹانے کو مِرا اللّه کافی ہے
سمندر کے لبوں میں اور بل کھاتی گھٹاؤں میں
وہی تو بانٹتا ہے روز تازہ دم ہواؤں میں
نیا موسم بنانے کو مِرا اللّه کافی ہے
مِرا ہر غم مٹانے کو مِرا اللّه کافی ہے
ہواؤں کو چلاتا ہے، وہی برسات لاتا ہے
وہی گیہُوں کے پودوں میں نئی بالی اُگاتا ہے
مِری کھیتی لگانے کو مِرا اللّه کافی ہے
مِرا ہر غم مِٹانے کو مِرا اللّه کافی ہے
وہی دریا میں موسیٰ کے لیے رستہ بناتا ہے
وہی یونس کو مچھلی کے شِکم میں بھی بچاتا ہے
ہر ایک منظر دِکھانے کو مِرا اللّه کافی ہے
مِرا ہر غم مٹانے کو مِرا اللّه کافی ہے
چمکتا ہے فلک پر چاند، سُورج جگمگاتا ہے
فلک کے نیلے پردوں پر بھی تارا ٹمٹماتا ہے
رُخِ عالم سجانے کو مِرا اللّه کافی ہے
مِرا ہر غم مِٹانے کو مِرا اللّه کافی ہے
یہ عظمت نعت پڑھتا ہے اُسی کی مہربانی سے
قصیدہ گُنگُناتا ہے اُسی کی مہربانی سے
مجھے شُہرت دِلانے کو مِرا اللّه کافی ہے
مِرا ہر غم مٹانے کو مِرا اللّه کافی ہے
شاعر:
عظمت رضا بھاگلپوری
نعت خواں:
عظمت رضا بھاگلپوری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں