مسلم الثبوت ہے فضیلت معاویہ | Musallam-us-Suboot Hai Fazeelat-e-Muawiya Lyrics in Urdu
مُسلَّمُ الثُّبوت ہے فضیلتِ مُعاویہ
عیاں ہے شمس کی طرح کرامتِ مُعاویہ
وہ جس سے روٹھ جائیں تو رسول اُس سے روٹھ جائیں
نبی سے اِس طرح کی ہے قرابتِ مُعاویہ
خُدا کے فضل سے مِلی اُنہیں وہ عظمتِ گِراں
کوئی نہ تَوْل پائے گا جلالتِ مُعاویہ
نَسَب میں ہیں تجلّیاں قبیلۂ رسول کی
قُریشیت سے بڑھ گئی شرافتِ مُعاویہ
ہیں اُن کی خواہرِعزیز جُملہ مومنوں کی ماں
بڑی شرف مآب ہے نجابتِ مُعاویہ
گُلِ حیات اُن کا ہے صحابِیَت سے عِطر بیز
اِسی لئے ہے نو بہ نو نَضارَتِ مُعاویہ
تمام مومنوں کے آپ پیارے ماموں جان ہیں
ہمیں بہت عزیز ہے یہ نسبتِ مُعاویہ
حسن کے دستِ پاک سے بنے خلیفۂ رسول
رضائے آلِ مصطفیٰ خلافتِ مُعاویہ
مُعاویہ کے پیار سے ہمارا بیڑا پار ہے
گُناہ بخشوائے گی شفاعتِ مُعاویہ
اُنہیں کوئی بُرا کہے تو اُس کے منہ میں خاک و آگ
نہ سُن سکیں گے ہم کبھی اِہانتِ مُعاویہ
جو عاشقِ رسول ہیں وہ اُن سے پیار کرتے ہیں
فقط مُنافقوں کو ہے عداوتِ مُعاویہ
یزید کے فریب کا مُعاویہ سے کیا حساب
نبھا نہ پایا وہ شقی نیابتِ مُعاویہ
وہ کر گئے نصیحتیں اُصولِ حق پہ چلنے کی
پِسَر کے فعلِ بد سے ہے براءَتِ مُعاویہ
وہ اہلِ بیت کے مُحب، وہ اہلِ بیت کے حبیب
دو آتِشہ ہوئی ہے یوں وجاہتِ مُعاویہ
ہیں اپنے اجتہاد میں وہ دونوں مُستحقِّ اجر
رکھیں ہم اُلفتِ علی، عقیدتِ مُعاویہ
بڑوں کے اختلاف میں پڑیں نہ ہم یہی ہے خیر
ہو دل میں عِزّتِ علی، اِرادتِ مُعاویہ
وہ نَجمِ بُرجِ رُشد ہیں، وہ ہادیٔ رَہِ اِرَم
فلاحِ دوجہاں بنی قیادتِ مُعاویہ
مِلا اُنہیں بھی افتخار وحیِ پاک لکھنے کا
ہے لازوال تا ابد کتابتِ مُعاویہ
کہا ہے عادل و ثِقہ محدّثین نے اُنہیں
حدیث میں ہے مُستند روایتِ مُعاویہ
اُنہیں دُعا نبی نے دی ہے مہدی اور ہادی کی
ہر ایک شک سے دور ہے ہدایتِ مُعاویہ
تبرُّکاتِ مصطفیٰ لحد کے واسطے چُنے
عقیدے کا چراغ ہے وصِیّتِ مُعاویہ
کُشادہ اُن کا دستِ پاک آسمان کی طرح
مثالِ بارشِ رواں سخاوتِ مُعاویہ
صحابہ، تابِعین ہوں کہ اولیاءِ دین ہوں
سب اہلِ حق نے مانی ہے امامتِ مُعاویہ
نہ رافضی، نہ خارجی، فقط ہیں سُنّی معتدل
یزید سے جُدائی اور رفاقتِ مُعاویہ
ہر اِک عدو پہ لعنتیں خُدا کی اور رسول کی
ہے باعثِ رضائے رب اطاعتِ مُعاویہ
یہ گوہرِ حیات ہے، یہ توشۂ نجات ہے
دلِ فرید کو مِلی محبّتِ مُعاویہ
شاعر:
سلمان رضا فریدی مصباحی
نعت خواں:
اویس رضا قادری
حافظ طاہر قادری
سبطر اختری
عیاں ہے شمس کی طرح کرامتِ مُعاویہ
وہ جس سے روٹھ جائیں تو رسول اُس سے روٹھ جائیں
نبی سے اِس طرح کی ہے قرابتِ مُعاویہ
خُدا کے فضل سے مِلی اُنہیں وہ عظمتِ گِراں
کوئی نہ تَوْل پائے گا جلالتِ مُعاویہ
نَسَب میں ہیں تجلّیاں قبیلۂ رسول کی
قُریشیت سے بڑھ گئی شرافتِ مُعاویہ
ہیں اُن کی خواہرِعزیز جُملہ مومنوں کی ماں
بڑی شرف مآب ہے نجابتِ مُعاویہ
گُلِ حیات اُن کا ہے صحابِیَت سے عِطر بیز
اِسی لئے ہے نو بہ نو نَضارَتِ مُعاویہ
تمام مومنوں کے آپ پیارے ماموں جان ہیں
ہمیں بہت عزیز ہے یہ نسبتِ مُعاویہ
حسن کے دستِ پاک سے بنے خلیفۂ رسول
رضائے آلِ مصطفیٰ خلافتِ مُعاویہ
مُعاویہ کے پیار سے ہمارا بیڑا پار ہے
گُناہ بخشوائے گی شفاعتِ مُعاویہ
اُنہیں کوئی بُرا کہے تو اُس کے منہ میں خاک و آگ
نہ سُن سکیں گے ہم کبھی اِہانتِ مُعاویہ
جو عاشقِ رسول ہیں وہ اُن سے پیار کرتے ہیں
فقط مُنافقوں کو ہے عداوتِ مُعاویہ
یزید کے فریب کا مُعاویہ سے کیا حساب
نبھا نہ پایا وہ شقی نیابتِ مُعاویہ
وہ کر گئے نصیحتیں اُصولِ حق پہ چلنے کی
پِسَر کے فعلِ بد سے ہے براءَتِ مُعاویہ
وہ اہلِ بیت کے مُحب، وہ اہلِ بیت کے حبیب
دو آتِشہ ہوئی ہے یوں وجاہتِ مُعاویہ
ہیں اپنے اجتہاد میں وہ دونوں مُستحقِّ اجر
رکھیں ہم اُلفتِ علی، عقیدتِ مُعاویہ
بڑوں کے اختلاف میں پڑیں نہ ہم یہی ہے خیر
ہو دل میں عِزّتِ علی، اِرادتِ مُعاویہ
وہ نَجمِ بُرجِ رُشد ہیں، وہ ہادیٔ رَہِ اِرَم
فلاحِ دوجہاں بنی قیادتِ مُعاویہ
مِلا اُنہیں بھی افتخار وحیِ پاک لکھنے کا
ہے لازوال تا ابد کتابتِ مُعاویہ
کہا ہے عادل و ثِقہ محدّثین نے اُنہیں
حدیث میں ہے مُستند روایتِ مُعاویہ
اُنہیں دُعا نبی نے دی ہے مہدی اور ہادی کی
ہر ایک شک سے دور ہے ہدایتِ مُعاویہ
تبرُّکاتِ مصطفیٰ لحد کے واسطے چُنے
عقیدے کا چراغ ہے وصِیّتِ مُعاویہ
کُشادہ اُن کا دستِ پاک آسمان کی طرح
مثالِ بارشِ رواں سخاوتِ مُعاویہ
صحابہ، تابِعین ہوں کہ اولیاءِ دین ہوں
سب اہلِ حق نے مانی ہے امامتِ مُعاویہ
نہ رافضی، نہ خارجی، فقط ہیں سُنّی معتدل
یزید سے جُدائی اور رفاقتِ مُعاویہ
ہر اِک عدو پہ لعنتیں خُدا کی اور رسول کی
ہے باعثِ رضائے رب اطاعتِ مُعاویہ
یہ گوہرِ حیات ہے، یہ توشۂ نجات ہے
دلِ فرید کو مِلی محبّتِ مُعاویہ
شاعر:
سلمان رضا فریدی مصباحی
نعت خواں:
اویس رضا قادری
حافظ طاہر قادری
سبطر اختری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں