سارے نبیوں کے عہدے بڑے ہیں لیکن آقا کا منصب جدا ہے | Sare Nabiyon Ke Ohde Bade Hain Lekin Aaqa Ka Mansab Juda Hai Lyrics in Urdu
سارے نبیوں کے عہدے بڑے ہیں لیکن آقا کا منصب جُدا ہے
وہ امامِ صفِ انبیاء ہیں اُن کا رُتبہ بڑوں سے بڑا ہے
کوئی لفظوں میں کیسے بتا دے، اُن کے رُتبے کی حد ہے تو کیا ہے
ہم نے اپنے بڑوں سے سُنا ہے، صرف اللہ اُن سے بڑا ہے
نام جنّت کا تم نے سُنا ہے، میں نے اس کا نظارہ کِیا ہے
میں یہاں سے تمہیں کیا بتا دُوں، اُن کی نگری کی گلیوں میں کیا ہے
کتنا پیارا ہے موسم وہاں کا، کتنی پُرکیف ساری فضا ہے
تم میرے ساتھ خود چل کے دیکھو گردِ طیبہ بھی خاکِ شفا ہے
وہ جو اِک شہرِ نورالہدیٰ ہے، جلوه گاہوں کا اِک سِلسِلہ ہے
جس کی ہر صبح شمس الضحی ہے، جس کی ہر شام بدرالدجیٰ ہے
مستقل اُن کی چوکھٹ عطا ہو، میرے معبود ! یہ التجا ہے
کوئی پوچھے تو یہ کہہ سکوں میں، بابِ جبریل میرا پتہ ہے
شاعر:
پروفیسر سید اقبال عظیم
نعت خواں:
سید حسان اللہ حسینی
ثقلین رشید
وہ امامِ صفِ انبیاء ہیں اُن کا رُتبہ بڑوں سے بڑا ہے
کوئی لفظوں میں کیسے بتا دے، اُن کے رُتبے کی حد ہے تو کیا ہے
ہم نے اپنے بڑوں سے سُنا ہے، صرف اللہ اُن سے بڑا ہے
نام جنّت کا تم نے سُنا ہے، میں نے اس کا نظارہ کِیا ہے
میں یہاں سے تمہیں کیا بتا دُوں، اُن کی نگری کی گلیوں میں کیا ہے
کتنا پیارا ہے موسم وہاں کا، کتنی پُرکیف ساری فضا ہے
تم میرے ساتھ خود چل کے دیکھو گردِ طیبہ بھی خاکِ شفا ہے
وہ جو اِک شہرِ نورالہدیٰ ہے، جلوه گاہوں کا اِک سِلسِلہ ہے
جس کی ہر صبح شمس الضحی ہے، جس کی ہر شام بدرالدجیٰ ہے
مستقل اُن کی چوکھٹ عطا ہو، میرے معبود ! یہ التجا ہے
کوئی پوچھے تو یہ کہہ سکوں میں، بابِ جبریل میرا پتہ ہے
شاعر:
پروفیسر سید اقبال عظیم
نعت خواں:
سید حسان اللہ حسینی
ثقلین رشید
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں