وہ ماہ فروزاں وہ نیر تاباں | میرا مصطفیٰ ہے | Wo Mah-e-Farozan Wo Nayyar-e-Taaban Lyrics in Urdu
وہ ماہِ فروزاں وہ نیّرِ تاباں
میرا مصطفیٰ ہے، میرا مصطفیٰ ہے
وہ بارہ رَبِیعُ الْاَوَّل کو آیا
جو اوّل بنا ہے، میرا مصطفیٰ ہے
تو کیا تو نے دیکھا وہ آنا وہ جانا
کہ حیرت میں ہے اب تلک یہ زمانہ
وہ رب کا بُلانا، تو سب کو دِکھانا
یہ جو آ رہا ہے، میرا مصطفیٰ ہے
قُدْسی کھڑے ہیں حیران ہو کے
کہ سِدرہ سے آگے بشر جا رہا ہے
جاتا ہے دیکھو وہ بے خوف کیسے
کہ سب جانتا ہے یہ راہیں وہ جیسے
وہ یوں جا رہا ہے، جیسے کہ کوئی
گھر والا اپنے ہی گھر جا رہا ہے
وہ قِصّہ حلیمہ کے آنگن کا دیکھو
جوانی سے پہلے تم بچپن کا پوچھو
ابھی مصطفیٰ نے اُٹھائی ہے انگلی
قمر سے تو پوچھو کدھر جا رہا ہے
کہاں تو، اے شاکر ! کہاں اُن کی نعتیں
کہاں اپنی ذاتیں، کہاں اُن کی باتیں
یہ کیوں کہہ رہے ہو بشر جا رہا ہے
حقیقت میں خیر البشر جا رہا ہے
نعت خواں:
قاری شاہد محمود قادری
میرا مصطفیٰ ہے، میرا مصطفیٰ ہے
وہ بارہ رَبِیعُ الْاَوَّل کو آیا
جو اوّل بنا ہے، میرا مصطفیٰ ہے
تو کیا تو نے دیکھا وہ آنا وہ جانا
کہ حیرت میں ہے اب تلک یہ زمانہ
وہ رب کا بُلانا، تو سب کو دِکھانا
یہ جو آ رہا ہے، میرا مصطفیٰ ہے
قُدْسی کھڑے ہیں حیران ہو کے
کہ سِدرہ سے آگے بشر جا رہا ہے
جاتا ہے دیکھو وہ بے خوف کیسے
کہ سب جانتا ہے یہ راہیں وہ جیسے
وہ یوں جا رہا ہے، جیسے کہ کوئی
گھر والا اپنے ہی گھر جا رہا ہے
وہ قِصّہ حلیمہ کے آنگن کا دیکھو
جوانی سے پہلے تم بچپن کا پوچھو
ابھی مصطفیٰ نے اُٹھائی ہے انگلی
قمر سے تو پوچھو کدھر جا رہا ہے
کہاں تو، اے شاکر ! کہاں اُن کی نعتیں
کہاں اپنی ذاتیں، کہاں اُن کی باتیں
یہ کیوں کہہ رہے ہو بشر جا رہا ہے
حقیقت میں خیر البشر جا رہا ہے
نعت خواں:
قاری شاہد محمود قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں