سویا ہوا نصیب جگانے کی رات ہے | اپنے خدا کو آج منانے کی رات ہے | Apne Khuda Ko Aaj Manane Ki Raat Hai Lyrics in Urdu
سویا ہُوا نصیب جگانے کی رات ہے
اپنے خُدا کو آج منانے کی رات ہے
ہر سُو برس رہی ہے عطاؤں کی بارِشیں
دستِ دُعا کو آج اُٹھانے کی رات ہے
دونوں جہاں کی رفعتیں اِس کے طُفیل ہیں
اپنا سرِ نیاز جُھکانے کی رات ہے
تیرہ دِلوں میں اِس سے ہی آئے گی روشنی
ذکرِ خُدا کی شمع جلانے کی رات ہے
دِل کی زمیں کو اشکوں سے سیراب کیجیے
دستِ عمل میں پھول کِھلانے کی رات ہے
اُترے گا اِس کے دم سے سبھی معصیت کا زنگ
آنسو ندامتوں کے بہانے کی رات ہے
سرور ! بسا کے اپنے دِلوں میں خُدا کا خوف
ہر ایک رنج و غم کو مِٹانے کی رات ہے
شاعر:
سرور حسین نقشبندی
نعت خواں:
سرور حسین نقشبندی
اپنے خُدا کو آج منانے کی رات ہے
ہر سُو برس رہی ہے عطاؤں کی بارِشیں
دستِ دُعا کو آج اُٹھانے کی رات ہے
دونوں جہاں کی رفعتیں اِس کے طُفیل ہیں
اپنا سرِ نیاز جُھکانے کی رات ہے
تیرہ دِلوں میں اِس سے ہی آئے گی روشنی
ذکرِ خُدا کی شمع جلانے کی رات ہے
دِل کی زمیں کو اشکوں سے سیراب کیجیے
دستِ عمل میں پھول کِھلانے کی رات ہے
اُترے گا اِس کے دم سے سبھی معصیت کا زنگ
آنسو ندامتوں کے بہانے کی رات ہے
سرور ! بسا کے اپنے دِلوں میں خُدا کا خوف
ہر ایک رنج و غم کو مِٹانے کی رات ہے
شاعر:
سرور حسین نقشبندی
نعت خواں:
سرور حسین نقشبندی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں