گناہوں کی نہیں جاتی ہے عادت یا رسول اللہ | Gunahon Ki Nahin Jati Hai Aadat Ya Rasool Allah Lyrics in Urdu
گُناہوں کی نہیں جاتی ہے عادت، یا رسول اللہ
!
تمہیں اب کچھ کرو، ماہِ رسالت یا رسول اللہ !
گُناہوں سے مجھے ہو جائے نفرت، یا رسول اللہ !
نکل جائے بُری ہر ایک خصلت، یا رسول اللہ !
گُنہ لمحہ بہ لمحہ ہائے ! اب بڑھتے ہی جاتے ہیں
نہیں پر اِس پہ ہائے کچھ نَدامت، یا رسول اللہ !
گُنہ کر کر کے ہائے ! ہو گیا دِل سخت پتّھر سے
کروں کس سے کہاں جا کر شکایت، یا رسول اللہ !
میں بچنا چاہتا ہوں ہائے ! پھر بھی بچ نہیں پاتا
گُناہوں کی پڑی ہے ایسی عادت، یا رسول اللہ !
کمر اعمالِ بد نے ہائے ! میری توڑ کر رکھ دی
تباہی سے بچا لو، جانِ رَحمت یا رسول اللہ !
مِرے مُنہ کی سیاہی سے اندھیری رات شرمائے
مِرا چہرا ہو تاباں، نورِ عزّت یا رسول اللہ !
بَوَقتِ نَزع، آقا ! ہو نہ جاؤں میں کہیں برباد
مِرا ایمان رکھ لینا سلامت، یا رسول اللہ !
تِرے رب کی قسم میں لائقِ نارِ جہنّم ہُوں
بچا سکتی ہے بس تیری شَفاعت، یا رسول اللہ !
یہاں جیسے ہماری عیب پوشی آپ کرتے ہیں
وہاں بھی آپ رکھ لیجے گا عزّت، یا رسول اللہ !
فَسادِ نفسِ ظالم سے بچا لو از پئے شَیخَین
کرو شیطان سے میری حفاظت، یا رسول اللہ !
سہی جاتی نہیں ہیں سختیاں سَکرات کی، سرکار !
سرِ بالیں اب آؤ، جانِ رحمت یا رسول اللہ !
مِرا یہ خواب ہو جائے، شہا ! شرمندۂ تعبیر
مدینے میں پیوں جامِ شہادت، یا رسول اللہ !
مِرے دِل سے ہَوَس دنیا کی دولت کی نکل جائے
عطا کر دو مجھے بس اپنی اُلفت، یا رسول اللہ !
مِرے آنسو نہ ہوں برباد دنیا کی محبّت میں
رُلائے بس مجھے تیری محبّت، یا رسول اللہ !
پھنسا جاتا ہے دنیا کی محبّت میں دلِ عطّار
کرو عطّار سے یہ دُور آفت، یا رسول اللہ !
شاعر:
محمد الیاس عطار قادری
نعت خواں:
حاجی مشتاق عطاری
اویس رضا قادری
حافظ احمد رضا قادری
تمہیں اب کچھ کرو، ماہِ رسالت یا رسول اللہ !
گُناہوں سے مجھے ہو جائے نفرت، یا رسول اللہ !
نکل جائے بُری ہر ایک خصلت، یا رسول اللہ !
گُنہ لمحہ بہ لمحہ ہائے ! اب بڑھتے ہی جاتے ہیں
نہیں پر اِس پہ ہائے کچھ نَدامت، یا رسول اللہ !
گُنہ کر کر کے ہائے ! ہو گیا دِل سخت پتّھر سے
کروں کس سے کہاں جا کر شکایت، یا رسول اللہ !
میں بچنا چاہتا ہوں ہائے ! پھر بھی بچ نہیں پاتا
گُناہوں کی پڑی ہے ایسی عادت، یا رسول اللہ !
کمر اعمالِ بد نے ہائے ! میری توڑ کر رکھ دی
تباہی سے بچا لو، جانِ رَحمت یا رسول اللہ !
مِرے مُنہ کی سیاہی سے اندھیری رات شرمائے
مِرا چہرا ہو تاباں، نورِ عزّت یا رسول اللہ !
بَوَقتِ نَزع، آقا ! ہو نہ جاؤں میں کہیں برباد
مِرا ایمان رکھ لینا سلامت، یا رسول اللہ !
تِرے رب کی قسم میں لائقِ نارِ جہنّم ہُوں
بچا سکتی ہے بس تیری شَفاعت، یا رسول اللہ !
یہاں جیسے ہماری عیب پوشی آپ کرتے ہیں
وہاں بھی آپ رکھ لیجے گا عزّت، یا رسول اللہ !
فَسادِ نفسِ ظالم سے بچا لو از پئے شَیخَین
کرو شیطان سے میری حفاظت، یا رسول اللہ !
سہی جاتی نہیں ہیں سختیاں سَکرات کی، سرکار !
سرِ بالیں اب آؤ، جانِ رحمت یا رسول اللہ !
مِرا یہ خواب ہو جائے، شہا ! شرمندۂ تعبیر
مدینے میں پیوں جامِ شہادت، یا رسول اللہ !
مِرے دِل سے ہَوَس دنیا کی دولت کی نکل جائے
عطا کر دو مجھے بس اپنی اُلفت، یا رسول اللہ !
مِرے آنسو نہ ہوں برباد دنیا کی محبّت میں
رُلائے بس مجھے تیری محبّت، یا رسول اللہ !
پھنسا جاتا ہے دنیا کی محبّت میں دلِ عطّار
کرو عطّار سے یہ دُور آفت، یا رسول اللہ !
شاعر:
محمد الیاس عطار قادری
نعت خواں:
حاجی مشتاق عطاری
اویس رضا قادری
حافظ احمد رضا قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں