کہاں ہو یا رسول اللہ کہاں ہو | Kahan Ho Ya Rasoolallah Kahan Ho Lyrics in Urdu
کہاں ہو، یا رسول اللہ ! کہاں ہو
مِری آنکھوں سے کیوں ایسے نِہاں ہو
گدا بن کر میں ڈھونڈوں تم کو دَر دَر
مِرے آقا ! مجھے چھوڑا ہے کس پر
اگر میں خواب میں دیدار پاؤں
لِپٹ قدموں سے بس قربان جاؤں
تمنّا ہے تمھارے دیکھنے کی
نہیں ہے اس سے بڑھ کر کوئی نیکی
بسو دل میں، سما جاؤ نظر میں
ذرا آ جاؤ اس ویرانہ گھر میں
بنا دو میرے سینے کو مدینہ
نکالو بحرِ غم سے یہ سفینہ
مِری بگڑی ہوئی حالت بنا دو
مِری سوئی ہوئی قسمت جگا دو
تمھارے سینکڑوں ہم سے گدا ہیں
ہمارے آپ ہی اِک آسرا ہیں
کِھلائیں نعمتیں مجھ بے ہنر کو
دِیا آرام مجھ گندے بشر کو
نہیں ہے ساتھ میرے کوئی توشہ
کٹھن منزل، تمھارا ہے بھروسہ
کُھلیں جب روزِ محشر میرے دفتر
رہے پردہ مِرا، محبوب داور !
میں بے زَر، بے ہنر، بے پَر ہُوں، سالک !
مگر اُن کا ہُوں وہ ہیں میرے مالک
شاعر:
مفتی احمد یار خان نعیمی
نعت خواں:
اسد رضا عطاری
علامہ حافظ بلال قادری
مِری آنکھوں سے کیوں ایسے نِہاں ہو
گدا بن کر میں ڈھونڈوں تم کو دَر دَر
مِرے آقا ! مجھے چھوڑا ہے کس پر
اگر میں خواب میں دیدار پاؤں
لِپٹ قدموں سے بس قربان جاؤں
تمنّا ہے تمھارے دیکھنے کی
نہیں ہے اس سے بڑھ کر کوئی نیکی
بسو دل میں، سما جاؤ نظر میں
ذرا آ جاؤ اس ویرانہ گھر میں
بنا دو میرے سینے کو مدینہ
نکالو بحرِ غم سے یہ سفینہ
مِری بگڑی ہوئی حالت بنا دو
مِری سوئی ہوئی قسمت جگا دو
تمھارے سینکڑوں ہم سے گدا ہیں
ہمارے آپ ہی اِک آسرا ہیں
کِھلائیں نعمتیں مجھ بے ہنر کو
دِیا آرام مجھ گندے بشر کو
نہیں ہے ساتھ میرے کوئی توشہ
کٹھن منزل، تمھارا ہے بھروسہ
کُھلیں جب روزِ محشر میرے دفتر
رہے پردہ مِرا، محبوب داور !
میں بے زَر، بے ہنر، بے پَر ہُوں، سالک !
مگر اُن کا ہُوں وہ ہیں میرے مالک
شاعر:
مفتی احمد یار خان نعیمی
نعت خواں:
اسد رضا عطاری
علامہ حافظ بلال قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں