خدا کا نور ہے غالب | Khuda Ka Noor Hai Ghalib Lyrics in Urdu (Part 1 | Part 2)
زمینوں آسمانوں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
چمکتے چاند تاروں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
جو کِھلتے ہیں ، مہکتے ہیں ، چمن میں پُھولوں کو دیکھو
یہاں کے لالہ زاروں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
کہیں پہ پُھول کِھلتے ہیں ، کہیں مُرجھانے لگتے ہیں
خزاؤں میں، بہاروں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
وہ جس نے سارے عالم کو سمایا ہے، سجایا ہے
پہاڑوں ، آبشاروں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
تَصَوُّر میں، تَخَیُّل میں اُسے محسُوس کرتا ہوں
سمندر، ریگ زاروں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
مُبارک ہو تمہیں، غالِب ! ثنا خوانی، مدح خوانی
کتابُ الله کے پاروں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
شاعر:
عزیز الله غالب
نعت خواں:
عائشہ عبد الجبار
محمد حسان رضا قادری
چِڑیوں کی چہکار میں تُو
سانسوں کی تکرار میں تُُو
پُھولوں کی مہکار میں تُو
گُلشن میں گُلزار میں تُو
چمن میں، لالہ زار میں تُو
دریاؤں کی دھار میں تُو
صحرا میں کوہسار میں تُو
چوٹی پر اور غار میں تُو
آقا کے رُخسار میں تُو
اور اُن کے انوار میں تُو
یوں زُلفِ خمدار میں تُو
تُو ہی تُو سرکار میں تُو
صِدّیقی دربار میں تُو
فارُوقی ادوار میں تُو
عُثماں کے کِردار میں تُو
حیدر کی للکار میں تُو
اندھیروں میں اُجالوں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
جہاں کے سب نظاروں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
اُسی کے خامَۂ قُدرت نے بخشا حُسن عالم کو
گُلوں میں لالہ زاروں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
اندھیروں میں اُجالوں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
جہاں کے سب نظاروں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
بدل جاتی ہیں بنجر کھیتیاں بھی سبزہ زاروں میں
خزاؤں اور بہاروں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
اندھیروں میں اُجالوں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
جہاں کے سب نظاروں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
دلِ تیرہ کو یہ نُورِ ہدایت بخش دیتا ہے
کلامِ حق کے پاروں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
اندھیروں میں اُجالوں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
جہاں کے سب نظاروں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
ملائک، جِنّ و اِنساں سب اُسی کی حمد کرتے ہیں
بیانوں اور کلاموں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
اندھیروں میں اُجالوں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
جہاں کے سب نظاروں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
اُسی کے حُکم کے تابِع ہیں یہ شمس و قمر بیشک
سبھی روشن سِتاروں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
اندھیروں میں اُجالوں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
جہاں کے سب نظاروں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
بھٹک سکتے نہیں، شوقِ فریدی ! راہِ حق سے ہم
نبی والے ہیں سینوں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
اندھیروں میں اُجالوں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
جہاں کے سب نظاروں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
شاعر:
حافظ شوق فریدی
نعت خواں:
محمد حسان رضا قادری
چمکتے چاند تاروں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
جو کِھلتے ہیں ، مہکتے ہیں ، چمن میں پُھولوں کو دیکھو
یہاں کے لالہ زاروں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
کہیں پہ پُھول کِھلتے ہیں ، کہیں مُرجھانے لگتے ہیں
خزاؤں میں، بہاروں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
وہ جس نے سارے عالم کو سمایا ہے، سجایا ہے
پہاڑوں ، آبشاروں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
تَصَوُّر میں، تَخَیُّل میں اُسے محسُوس کرتا ہوں
سمندر، ریگ زاروں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
مُبارک ہو تمہیں، غالِب ! ثنا خوانی، مدح خوانی
کتابُ الله کے پاروں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
شاعر:
عزیز الله غالب
نعت خواں:
عائشہ عبد الجبار
محمد حسان رضا قادری
چِڑیوں کی چہکار میں تُو
سانسوں کی تکرار میں تُُو
پُھولوں کی مہکار میں تُو
گُلشن میں گُلزار میں تُو
چمن میں، لالہ زار میں تُو
دریاؤں کی دھار میں تُو
صحرا میں کوہسار میں تُو
چوٹی پر اور غار میں تُو
آقا کے رُخسار میں تُو
اور اُن کے انوار میں تُو
یوں زُلفِ خمدار میں تُو
تُو ہی تُو سرکار میں تُو
صِدّیقی دربار میں تُو
فارُوقی ادوار میں تُو
عُثماں کے کِردار میں تُو
حیدر کی للکار میں تُو
اندھیروں میں اُجالوں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
جہاں کے سب نظاروں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
اُسی کے خامَۂ قُدرت نے بخشا حُسن عالم کو
گُلوں میں لالہ زاروں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
اندھیروں میں اُجالوں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
جہاں کے سب نظاروں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
بدل جاتی ہیں بنجر کھیتیاں بھی سبزہ زاروں میں
خزاؤں اور بہاروں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
اندھیروں میں اُجالوں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
جہاں کے سب نظاروں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
دلِ تیرہ کو یہ نُورِ ہدایت بخش دیتا ہے
کلامِ حق کے پاروں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
اندھیروں میں اُجالوں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
جہاں کے سب نظاروں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
ملائک، جِنّ و اِنساں سب اُسی کی حمد کرتے ہیں
بیانوں اور کلاموں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
اندھیروں میں اُجالوں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
جہاں کے سب نظاروں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
اُسی کے حُکم کے تابِع ہیں یہ شمس و قمر بیشک
سبھی روشن سِتاروں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
اندھیروں میں اُجالوں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
جہاں کے سب نظاروں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
بھٹک سکتے نہیں، شوقِ فریدی ! راہِ حق سے ہم
نبی والے ہیں سینوں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
اندھیروں میں اُجالوں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
جہاں کے سب نظاروں میں خُدا کا نُور ہے غالِب
شاعر:
حافظ شوق فریدی
نعت خواں:
محمد حسان رضا قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں