کس بلندی پہ ستارہ ہے میرا بچپن سے | Kis Bulandi Pe Sitara Hai Mera Bachpan Se Lyrics in Urdu
نامِ محمّد صلِّ عَلےٰ
آنکھوں کی ٹھنڈک، دِل کی جِلا
آؤ اُن کا ذِکر کریں
جو ہیں دافعِ رنج و بلا
کِس بُلندی پہ سِتارہ ہے میرا بچپن سے
ذکرِ سرکار حوالہ ہے میرا بچپن سے
میں نے دیکھی نہیں غُربت کبھی اپنے گھر میں
اُن کے ٹُکڑوں پہ گُزارہ ہے میرا بچپن سے
ذکرِ سرکار حوالہ ہے میرا بچپن سے
کِس بُلندی پہ سِتارہ ہے میرا بچپن سے
ذکرِ سرکار حوالہ ہے میرا بچپن سے
اُن کی رحمت سے ہی بنتے ہیں میرے کام سبھی
اُن کی نسبت ہی وسیلہ ہے میرا بچپن سے
ذکرِ سرکار حوالہ ہے میرا بچپن سے
کِس بُلندی پہ سِتارہ ہے میرا بچپن سے
ذکرِ سرکار حوالہ ہے میرا بچپن سے
یا نبی یا نبی کرتے ہوئے دِن گُزرے ہیں
یہی اِک وِرد وظیفہ ہے میرا بچپن سے
ذکرِ سرکار حوالہ ہے میرا بچپن سے
کِس بُلندی پہ سِتارہ ہے میرا بچپن سے
ذکرِ سرکار حوالہ ہے میرا بچپن سے
آل کے ساتھ صحابہ کا بھی لازِم ہے ادب
صاف سُتھرا یہ عقیدہ ہے میرا بچپن سے
ذکرِ سرکار حوالہ ہے میرا بچپن سے
کِس بُلندی پہ سِتارہ ہے میرا بچپن سے
ذکرِ سرکار حوالہ ہے میرا بچپن سے
یہ دُعا مانگو کہ ٹوٹے نہ کبھی فارُوقی
اُن کی یادوں سے جو رِشتہ ہے میرا بچپن سے
ذکرِ سرکار حوالہ ہے میرا بچپن سے
کِس بُلندی پہ سِتارہ ہے میرا بچپن سے
ذکرِ سرکار حوالہ ہے میرا بچپن سے
شاعر:
سہیل کلیم فاروقی
نعت خواں:
ساحل رضا قادری
آنکھوں کی ٹھنڈک، دِل کی جِلا
آؤ اُن کا ذِکر کریں
جو ہیں دافعِ رنج و بلا
کِس بُلندی پہ سِتارہ ہے میرا بچپن سے
ذکرِ سرکار حوالہ ہے میرا بچپن سے
میں نے دیکھی نہیں غُربت کبھی اپنے گھر میں
اُن کے ٹُکڑوں پہ گُزارہ ہے میرا بچپن سے
ذکرِ سرکار حوالہ ہے میرا بچپن سے
کِس بُلندی پہ سِتارہ ہے میرا بچپن سے
ذکرِ سرکار حوالہ ہے میرا بچپن سے
اُن کی رحمت سے ہی بنتے ہیں میرے کام سبھی
اُن کی نسبت ہی وسیلہ ہے میرا بچپن سے
ذکرِ سرکار حوالہ ہے میرا بچپن سے
کِس بُلندی پہ سِتارہ ہے میرا بچپن سے
ذکرِ سرکار حوالہ ہے میرا بچپن سے
یا نبی یا نبی کرتے ہوئے دِن گُزرے ہیں
یہی اِک وِرد وظیفہ ہے میرا بچپن سے
ذکرِ سرکار حوالہ ہے میرا بچپن سے
کِس بُلندی پہ سِتارہ ہے میرا بچپن سے
ذکرِ سرکار حوالہ ہے میرا بچپن سے
آل کے ساتھ صحابہ کا بھی لازِم ہے ادب
صاف سُتھرا یہ عقیدہ ہے میرا بچپن سے
ذکرِ سرکار حوالہ ہے میرا بچپن سے
کِس بُلندی پہ سِتارہ ہے میرا بچپن سے
ذکرِ سرکار حوالہ ہے میرا بچپن سے
یہ دُعا مانگو کہ ٹوٹے نہ کبھی فارُوقی
اُن کی یادوں سے جو رِشتہ ہے میرا بچپن سے
ذکرِ سرکار حوالہ ہے میرا بچپن سے
کِس بُلندی پہ سِتارہ ہے میرا بچپن سے
ذکرِ سرکار حوالہ ہے میرا بچپن سے
شاعر:
سہیل کلیم فاروقی
نعت خواں:
ساحل رضا قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں