ملتا ہے کیا نماز میں سجدے میں جا کے دیکھ | Milta Hai Kya Namaz Mein Sajde Mein Ja Ke Dekh Lyrics in Urdu
مِلتا ہے کیا نماز میں سجدے میں جا کے دیکھ
اللہ کے حضور تُو سر کو جُھکا کے دیکھ
مِلتا ہے کیا نماز میں سجدے میں جا کے دیکھ
بیشک بُرائیوں سے بچاتی نماز ہے
بندوں کو کبریا سے مِلاتی نماز ہے
مشکل کو، رنج و غم کو مِٹاتی نماز ہے
آئے نہ گر یقین تو پھر آزما کے دیکھ
مِلتا ہے کیا نماز میں سجدے میں جا کے دیکھ
خلّاقِ کائنات کا فرمان ہے نماز
مومن کی آن بان ہے، پہچان ہے نماز
اِک دین کا سُتُون ہے اور شان ہے نماز
پڑھ کر نماز اپنے خُدا کو منا کے دیکھ
مِلتا ہے کیا نماز میں سجدے میں جا کے دیکھ
کرتی نماز سُرخ رُو رب کے حضور ہے
ظاہر کا حُسْن اور یہ باطن کا نُور ہے
شیطانی وار کو بھی یہ کر دیتی چُور ہے
دُنیا سے ہٹ، نماز میں دل کو لگا کے دیکھ
مِلتا ہے کیا نماز میں سجدے میں جا کے دیکھ
رشوت سے تیرے دل میں کراہت یہ لائے گی
غافل ! نماز سُود سے تجھ کو بچائے گی
آداب زندگی کے تجھے یہ سکھائے گی
اِک بار خود کو راہِ خدا میں تو لا کے دیکھ
مِلتا ہے کیا نماز میں سجدے میں جا کے دیکھ
شوقِ فریدی ! رب کی رضا ہے نماز میں
آتی نظر نبی کی ادا ہے نماز میں
ابنِ علی کا سر بھی کٹا ہے نماز میں
کتنے بلند ہیں یہ تقاضے وفا کے دیکھ
مِلتا ہے کیا نماز میں سجدے میں جا کے دیکھ
اللہ کے حضور تُو سر کو جُھکا کے دیکھ
شاعر:
حافظ شوق فریدی
نعت خواں:
حافظ طاہر قادری
ساحل رضا قادری
اللہ کے حضور تُو سر کو جُھکا کے دیکھ
مِلتا ہے کیا نماز میں سجدے میں جا کے دیکھ
بیشک بُرائیوں سے بچاتی نماز ہے
بندوں کو کبریا سے مِلاتی نماز ہے
مشکل کو، رنج و غم کو مِٹاتی نماز ہے
آئے نہ گر یقین تو پھر آزما کے دیکھ
مِلتا ہے کیا نماز میں سجدے میں جا کے دیکھ
خلّاقِ کائنات کا فرمان ہے نماز
مومن کی آن بان ہے، پہچان ہے نماز
اِک دین کا سُتُون ہے اور شان ہے نماز
پڑھ کر نماز اپنے خُدا کو منا کے دیکھ
مِلتا ہے کیا نماز میں سجدے میں جا کے دیکھ
کرتی نماز سُرخ رُو رب کے حضور ہے
ظاہر کا حُسْن اور یہ باطن کا نُور ہے
شیطانی وار کو بھی یہ کر دیتی چُور ہے
دُنیا سے ہٹ، نماز میں دل کو لگا کے دیکھ
مِلتا ہے کیا نماز میں سجدے میں جا کے دیکھ
رشوت سے تیرے دل میں کراہت یہ لائے گی
غافل ! نماز سُود سے تجھ کو بچائے گی
آداب زندگی کے تجھے یہ سکھائے گی
اِک بار خود کو راہِ خدا میں تو لا کے دیکھ
مِلتا ہے کیا نماز میں سجدے میں جا کے دیکھ
شوقِ فریدی ! رب کی رضا ہے نماز میں
آتی نظر نبی کی ادا ہے نماز میں
ابنِ علی کا سر بھی کٹا ہے نماز میں
کتنے بلند ہیں یہ تقاضے وفا کے دیکھ
مِلتا ہے کیا نماز میں سجدے میں جا کے دیکھ
اللہ کے حضور تُو سر کو جُھکا کے دیکھ
شاعر:
حافظ شوق فریدی
نعت خواں:
حافظ طاہر قادری
ساحل رضا قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں