دل میں ہو یاد تری گوشۂ تنہائی ہو | Dil Mein Ho Yaad Teri Gosha-e-Tanhai Ho Lyrics in Urdu
دل میں ہو یاد تِری گوشۂ تنہائی ہو
پھر تو خلوت میں عجب اَنجمن آرائی ہو
آستانہ پہ تِرے سر ہو اَجل آئی ہو
اور، اے جانِ جہاں ! تُو بھی تماشائی ہو
خاکِ پامال غریباں کو نہ کیوں زندہ کرے
جس کے دامن کی ہوا بادِ مسیحائی ہو
اُس کی قسمت پہ فدا تختِ شہی کی راحت
خاکِ طیبہ پہ جسے چین کی نیند آئی ہو
تاج والوں کی یہ خواہش ہے کہ اُن کے دَر پر
ہم کو حاصل شرفِ ناصیہ فرسائی ہو
اِک جھلک دیکھنے کی تاب نہیں عالم کو
وہ اگر جلوہ کریں کون تماشائی ہو
آج جو عیب کسی پر نہیں کُھلنے دیتے
کب وہ چاہیں گے مِری حشر میں رُسوائی ہو
کیوں کریں بزمِ شبستانِ جناں کی خواہش
جلوۂ یار جو شمعِ شبِ تنہائی ہو
خِلْعَتِ مغفرت اس کے لئے رحمت لائے
جس نے خاکِ درِ شہ جائے کفن پائی ہو
یہی منظور تھا قدرت کو کہ سایہ نہ بنے
ایسے یکتا کے لئے ایسی ہی یکتائی ہو
ذکرِ خُدّام نہیں مجھ کو بتا دیں دشمن
کوئی نعمت بھی کسی اَور سے گر پائی ہو
جب اُٹھے دستِ اجل سے میری ہستی کا حجاب
کاش اس پردہ کے اندر تِری زیبائی ہو
دیکھیں جاں بخشیٔ لب کو تو کہیں خضر و مسیح
کیوں مَرے کوئی اگر ایسی مسیحائی ہو
کبھی ایسا نہ ہُوا اُن کے کرم کے صدقے
ہاتھ کے پھیلنے سے پہلے نہ بھیک آئی ہو
بند جب خوابِ اَجل سے ہوں حسن کی آنکھیں
اس کی نظروں میں تِرا جلوۂ زیبائی ہو
شاعر:
مولانا حسن رضا خان بریلوی
نعت خواں:
اویس رضا قادری
پھر تو خلوت میں عجب اَنجمن آرائی ہو
آستانہ پہ تِرے سر ہو اَجل آئی ہو
اور، اے جانِ جہاں ! تُو بھی تماشائی ہو
خاکِ پامال غریباں کو نہ کیوں زندہ کرے
جس کے دامن کی ہوا بادِ مسیحائی ہو
اُس کی قسمت پہ فدا تختِ شہی کی راحت
خاکِ طیبہ پہ جسے چین کی نیند آئی ہو
تاج والوں کی یہ خواہش ہے کہ اُن کے دَر پر
ہم کو حاصل شرفِ ناصیہ فرسائی ہو
اِک جھلک دیکھنے کی تاب نہیں عالم کو
وہ اگر جلوہ کریں کون تماشائی ہو
آج جو عیب کسی پر نہیں کُھلنے دیتے
کب وہ چاہیں گے مِری حشر میں رُسوائی ہو
کیوں کریں بزمِ شبستانِ جناں کی خواہش
جلوۂ یار جو شمعِ شبِ تنہائی ہو
خِلْعَتِ مغفرت اس کے لئے رحمت لائے
جس نے خاکِ درِ شہ جائے کفن پائی ہو
یہی منظور تھا قدرت کو کہ سایہ نہ بنے
ایسے یکتا کے لئے ایسی ہی یکتائی ہو
ذکرِ خُدّام نہیں مجھ کو بتا دیں دشمن
کوئی نعمت بھی کسی اَور سے گر پائی ہو
جب اُٹھے دستِ اجل سے میری ہستی کا حجاب
کاش اس پردہ کے اندر تِری زیبائی ہو
دیکھیں جاں بخشیٔ لب کو تو کہیں خضر و مسیح
کیوں مَرے کوئی اگر ایسی مسیحائی ہو
کبھی ایسا نہ ہُوا اُن کے کرم کے صدقے
ہاتھ کے پھیلنے سے پہلے نہ بھیک آئی ہو
بند جب خوابِ اَجل سے ہوں حسن کی آنکھیں
اس کی نظروں میں تِرا جلوۂ زیبائی ہو
شاعر:
مولانا حسن رضا خان بریلوی
نعت خواں:
اویس رضا قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں