عشق سے مالا مال ہوتے ہیں | ان کے نوکر کمال ہوتے ہیں | Un Ke Naukar Kamal Hote Hain Lyrics in Urdu
کمال ہوتے ہیں، کمال ہوتے ہیں
کمال ہوتے ہیں، کمال ہوتے ہیں
عشق سے مالا مال ہوتے ہیں
اُن کے نوکر کمال ہوتے ہیں
کمال ہوتے ہیں، کمال ہوتے ہیں
اُن کے نوکر کمال ہوتے ہیں
اپنے منگتوں کے سر پہ شام و سحر
بی بی زہرا کے لال ہوتے ہیں
اُن کے نوکر کمال ہوتے ہیں
عشق سے مالا مال ہوتے ہیں
اُن کے نوکر کمال ہوتے ہیں
میرے لجپال کے سخی دَر سے
سب کے پُورے سوال ہوتے ہیں
اُن کے نوکر کمال ہوتے ہیں
کمال ہوتے ہیں، کمال ہوتے ہیں
اُن کے نوکر کمال ہوتے ہیں
اُن کا صدقہ جو لوگ کھاتے ہیں
وہی ٹُکڑے حلال ہوتے ہیں
اُن کے نوکر کمال ہوتے ہیں
عشق سے مالا مال ہوتے ہیں
اُن کے نوکر کمال ہوتے ہیں
عشقِ خیر الوریٰ میں جب دیکھو
آگے آگے بِلال ہوتے ہیں
اُن کے نوکر کمال ہوتے ہیں
کمال ہوتے ہیں، کمال ہوتے ہیں
اُن کے نوکر کمال ہوتے ہیں
عاشِقوں کو، سُہیل فاروقی !
یار ہی کے خیال ہوتے ہیں
اُن کے نوکر کمال ہوتے ہیں
عشق سے مالا مال ہوتے ہیں
اُن کے نوکر کمال ہوتے ہیں
شاعر:
سہیل کلیم فاروقی
نعت خواں:
عمیر زبیر
کمال ہوتے ہیں، کمال ہوتے ہیں
عشق سے مالا مال ہوتے ہیں
اُن کے نوکر کمال ہوتے ہیں
کمال ہوتے ہیں، کمال ہوتے ہیں
اُن کے نوکر کمال ہوتے ہیں
اپنے منگتوں کے سر پہ شام و سحر
بی بی زہرا کے لال ہوتے ہیں
اُن کے نوکر کمال ہوتے ہیں
عشق سے مالا مال ہوتے ہیں
اُن کے نوکر کمال ہوتے ہیں
میرے لجپال کے سخی دَر سے
سب کے پُورے سوال ہوتے ہیں
اُن کے نوکر کمال ہوتے ہیں
کمال ہوتے ہیں، کمال ہوتے ہیں
اُن کے نوکر کمال ہوتے ہیں
اُن کا صدقہ جو لوگ کھاتے ہیں
وہی ٹُکڑے حلال ہوتے ہیں
اُن کے نوکر کمال ہوتے ہیں
عشق سے مالا مال ہوتے ہیں
اُن کے نوکر کمال ہوتے ہیں
عشقِ خیر الوریٰ میں جب دیکھو
آگے آگے بِلال ہوتے ہیں
اُن کے نوکر کمال ہوتے ہیں
کمال ہوتے ہیں، کمال ہوتے ہیں
اُن کے نوکر کمال ہوتے ہیں
عاشِقوں کو، سُہیل فاروقی !
یار ہی کے خیال ہوتے ہیں
اُن کے نوکر کمال ہوتے ہیں
عشق سے مالا مال ہوتے ہیں
اُن کے نوکر کمال ہوتے ہیں
شاعر:
سہیل کلیم فاروقی
نعت خواں:
عمیر زبیر
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں