کونین کے دولہا کے صدقے میں خدائی ہے | سنتے ہیں کہ محشر میں تضمین کے ساتھ | Kaunain Ke Dulha Ke Sadqe Mein Khudai Hai Lyrics in Urdu
کونین کے دولہا کے صدقے میں خُدائی ہے
محبوبِ کریما نے ہاں شان وہ پائی ہے
مولا نے فَتَرۡضٰی خوشخبری سُنائی ہے
سُنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رَسائی ہے
گر اُن کی رَسائی ہے لو جب تو بن آئی ہے
رحمت نے سرِ محشر کیا رنگ جمائی ہے
سوغاتِ کرم دیکھو لَا تَقۡنَطُوۡا لائی ہے
آقا کی شفاعت نے کیا دُھوم مچائی ہے
مچلا ہے کہ رحمت نے اُمّید بندھائی ہے
کیا بات تِری، مجرم ! کیا بات بَنائی ہے
اعمالِ سیہ نے جب پِھٹکار دِیا ہم کو
ہم کیا کہیں اپنوں نے کیا پیار دِیا ہم کو
ماں باپ نے بھی، آقا ! دُھتکار دِیا ہم کو
سب نے صفِ محشر میں لَلکار دِیا ہم کو
اے بے کسوں کے آقا ! اب تیری دُہائی ہے
سرکار کی عظمت کا جب ذکرِ جلی چھیڑو
بازارِ محبّت میں پھر ہوش و خِرَد بھیجو
گلدستۂ تَن مَن دَھن ہر چیز ہی، اے لوگو!
یُوں تو سب اُنہیں کا ہے، پَر دِل کی اگر پُوچھو
یہ ٹوٹے ہوئے دِل ہی خاص اُن کی کمائی ہے
یوں بزمِ محبّت سے ہرگز نہ تُو خالی اُٹھ
محبوب کی چوکھٹ سے لے کر کے، سوالی ! اُٹھ
سرکارِ مدینہ کے اے قلبِ فدائی ! اُٹھ
اے دِل ! یہ سُلگنا کیا، جلنا ہے تو جل بھی اُٹھ
دَم گُھٹنے لگا، ظالِم ! کیا دُھونی رَمائی ہے
دنیا کی نُمائش پر احباب نہ اترائو
اب خوابِ تغافُل سے، اے یار ! ذرا جاگو
دیتی ہے صدا میّت کوئی تو ذرا سُن لو
مجرم کو نہ شرماؤ، احباب ! کفن ڈَھک دو
مُنھ دیکھ کے کیا ہوگا، پردے میں بھلائی ہے
حُبِّ شہِ طیبہ سے ہموار ہوئے رستے
ہم حشر میں ورنہ پھر بس ایڑیاں ہی گِھستے
اور آتشِ دوزخ کے شُعلوں میں بھی ہم پَھنسے
اے عشق ! تِرے صَدقے جلنے سے چُھٹے سَستے
جو آگ بُجھا دے گی، وہ آگ لگائی ہے
طیبہ و حرم دونوں ہیں جاۓ شَرَف عابِد
یہ فیصلہ سُن لے اب نہ بات بڑھا، زاہِد !
سر سُوئے حرم خَم ہے، دِل طیبہ کا ہے ساجِد
طیبہ نہ سہی اَفضل، مَکّہ ہی بڑا، زاہِد !
ہم عِشق کے بندے ہیں، کیوں بات بڑھائی ہے
وہ جن کی بزرگی کا کونین میں ہے ہَلّہ
مختارِ شریعت ہیں لا رَیب رسولُ اللہ
ایُّوب ! نہیں کوئی اُس ذات کا ہم پلّہ
مَطْلَع میں یہ شک کیا تھا، واللہ رضا ! واللہ
صرف اُن کی رَسائی ہے، صرف اُن کی رَسائی ہے
کلام:
امام احمد رضا خان
تضمین:
محمد ایوب رضا امجدی
نعت خواں:
صابر رضا ازہری سورت
محبوبِ کریما نے ہاں شان وہ پائی ہے
مولا نے فَتَرۡضٰی خوشخبری سُنائی ہے
سُنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رَسائی ہے
گر اُن کی رَسائی ہے لو جب تو بن آئی ہے
رحمت نے سرِ محشر کیا رنگ جمائی ہے
سوغاتِ کرم دیکھو لَا تَقۡنَطُوۡا لائی ہے
آقا کی شفاعت نے کیا دُھوم مچائی ہے
مچلا ہے کہ رحمت نے اُمّید بندھائی ہے
کیا بات تِری، مجرم ! کیا بات بَنائی ہے
اعمالِ سیہ نے جب پِھٹکار دِیا ہم کو
ہم کیا کہیں اپنوں نے کیا پیار دِیا ہم کو
ماں باپ نے بھی، آقا ! دُھتکار دِیا ہم کو
سب نے صفِ محشر میں لَلکار دِیا ہم کو
اے بے کسوں کے آقا ! اب تیری دُہائی ہے
سرکار کی عظمت کا جب ذکرِ جلی چھیڑو
بازارِ محبّت میں پھر ہوش و خِرَد بھیجو
گلدستۂ تَن مَن دَھن ہر چیز ہی، اے لوگو!
یُوں تو سب اُنہیں کا ہے، پَر دِل کی اگر پُوچھو
یہ ٹوٹے ہوئے دِل ہی خاص اُن کی کمائی ہے
یوں بزمِ محبّت سے ہرگز نہ تُو خالی اُٹھ
محبوب کی چوکھٹ سے لے کر کے، سوالی ! اُٹھ
سرکارِ مدینہ کے اے قلبِ فدائی ! اُٹھ
اے دِل ! یہ سُلگنا کیا، جلنا ہے تو جل بھی اُٹھ
دَم گُھٹنے لگا، ظالِم ! کیا دُھونی رَمائی ہے
دنیا کی نُمائش پر احباب نہ اترائو
اب خوابِ تغافُل سے، اے یار ! ذرا جاگو
دیتی ہے صدا میّت کوئی تو ذرا سُن لو
مجرم کو نہ شرماؤ، احباب ! کفن ڈَھک دو
مُنھ دیکھ کے کیا ہوگا، پردے میں بھلائی ہے
حُبِّ شہِ طیبہ سے ہموار ہوئے رستے
ہم حشر میں ورنہ پھر بس ایڑیاں ہی گِھستے
اور آتشِ دوزخ کے شُعلوں میں بھی ہم پَھنسے
اے عشق ! تِرے صَدقے جلنے سے چُھٹے سَستے
جو آگ بُجھا دے گی، وہ آگ لگائی ہے
طیبہ و حرم دونوں ہیں جاۓ شَرَف عابِد
یہ فیصلہ سُن لے اب نہ بات بڑھا، زاہِد !
سر سُوئے حرم خَم ہے، دِل طیبہ کا ہے ساجِد
طیبہ نہ سہی اَفضل، مَکّہ ہی بڑا، زاہِد !
ہم عِشق کے بندے ہیں، کیوں بات بڑھائی ہے
وہ جن کی بزرگی کا کونین میں ہے ہَلّہ
مختارِ شریعت ہیں لا رَیب رسولُ اللہ
ایُّوب ! نہیں کوئی اُس ذات کا ہم پلّہ
مَطْلَع میں یہ شک کیا تھا، واللہ رضا ! واللہ
صرف اُن کی رَسائی ہے، صرف اُن کی رَسائی ہے
کلام:
امام احمد رضا خان
تضمین:
محمد ایوب رضا امجدی
نعت خواں:
صابر رضا ازہری سورت
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں