مظہر نور خدا سرکار تاج الاولیاء | Mazhar-e-Noor-e-Khuda Sarkar Taj-ul-Auliya Lyrics in Urdu
مظہرِ نُورِ خدا سرکار تاج الاولیاء
جلوۂ شمسُ الضُّحیٰ سرکار تاج الاولیاء
مالکِ علمِ لَدُنّی، پیکرِ صبر و رضا
تیورِ شیرِ خدا سرکار تاج الاولیاء
روشنی جس کی ولایت کی ہے پھیلی چار سُو
وہ چراغِ فاطمہ سرکار تاج الاولیاء
زُہد و تقویٰ، پارسائی میں یقیناً آپ ہیں
نائبِ غوث الوریٰ، سرکار تاج الاولیاء !
بیٹھے بیٹھے ہی کرا دیتے ہیں کعبے کا طواف
جان لو اِس سے ہے کیا سرکار تاج الاولیاء
اپنے منگتوں کو کبھی مایُوس لوٹاتے نہیں
منبعِ جُود و سخا سرکار تاج الاولیاء
جس طرف بھی دیکھیے ہے عُرسِ صد سالہ کی دُھوم
مرحبا صد مرحبا سرکار تاج الاولیاء
بٹتا ہے شام و سحر فیضان غوثِ پاک کا
ایسا ہے روضہ تِرا، سرکار تاج الاولیاء !
بھیک لینے آئے ہیں منگتے تیرے دربار میں
ہو کرم سب پر شہا سرکار تاج الاولیاء !
ناز کر اپنے مُقَدّر پر، اے شہرِ ناگپُور !
تجھ میں ہے جلوہ نُما سرکار تاج الاولیاء
حشر تک پُھولے پَھلے یہ مسلکِ احمد رضا
ہے یہی دل کی دُعا، سرکار تاج الاولیاء !
ہر طرف پھیلی ہے جو گُلزار کی یہ نِکہتیں
آپ ہی کی ہے عطا، سرکار تاج الاولیاء !
شاعر:
سید شاہ گلزار اسماعیل واستی قادری
(گلزار ملت)
نعت خواں:
سید عبد الوصی قادری رضوی
جلوۂ شمسُ الضُّحیٰ سرکار تاج الاولیاء
مالکِ علمِ لَدُنّی، پیکرِ صبر و رضا
تیورِ شیرِ خدا سرکار تاج الاولیاء
روشنی جس کی ولایت کی ہے پھیلی چار سُو
وہ چراغِ فاطمہ سرکار تاج الاولیاء
زُہد و تقویٰ، پارسائی میں یقیناً آپ ہیں
نائبِ غوث الوریٰ، سرکار تاج الاولیاء !
بیٹھے بیٹھے ہی کرا دیتے ہیں کعبے کا طواف
جان لو اِس سے ہے کیا سرکار تاج الاولیاء
اپنے منگتوں کو کبھی مایُوس لوٹاتے نہیں
منبعِ جُود و سخا سرکار تاج الاولیاء
جس طرف بھی دیکھیے ہے عُرسِ صد سالہ کی دُھوم
مرحبا صد مرحبا سرکار تاج الاولیاء
بٹتا ہے شام و سحر فیضان غوثِ پاک کا
ایسا ہے روضہ تِرا، سرکار تاج الاولیاء !
بھیک لینے آئے ہیں منگتے تیرے دربار میں
ہو کرم سب پر شہا سرکار تاج الاولیاء !
ناز کر اپنے مُقَدّر پر، اے شہرِ ناگپُور !
تجھ میں ہے جلوہ نُما سرکار تاج الاولیاء
حشر تک پُھولے پَھلے یہ مسلکِ احمد رضا
ہے یہی دل کی دُعا، سرکار تاج الاولیاء !
ہر طرف پھیلی ہے جو گُلزار کی یہ نِکہتیں
آپ ہی کی ہے عطا، سرکار تاج الاولیاء !
شاعر:
سید شاہ گلزار اسماعیل واستی قادری
(گلزار ملت)
نعت خواں:
سید عبد الوصی قادری رضوی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں