جس کو کہتے ہیں سلطان پیغمبراں | وہ پیغمبر مدینے میں موجود ہے | Wo Paigambar Madine Mein Maujood Hai Lyrics in Urdu
جس کو کہتے ہیں سُلطانِ پیغمبراں
وہ پیغمبر مدینے میں موجود ہے
رہبروں کی جسے سَربَراہی مِلی
ایسا رہبر مدینے میں موجود ہے
اہلِ دنیا کے سردار ہیں انبیاء
رب نے اُونچا کِیا سب کا ہے مرتبہ
انبیاء جس کو سردار اپنا کہیں
ہاں وہ اَفْسَر مدینے میں موجود ہے
جس کو کہتے ہیں سُلطانِ پیغمبراں
وہ پیغمبر مدینے میں موجود ہے
روز آتے ہیں رب کے فرشتے جہاں
مصطفیٰ نے کہا جس کو باغِ جناں
جس کی عظمت پہ نازاں ہے عرشِ بریں
ایسا اِک گھر مدینے میں موجود ہے
جس کو کہتے ہیں سُلطانِ پیغمبراں
وہ پیغمبر مدینے میں موجود ہے
کس قدر اُس کے دل میں تھا عشقِ نبی
سانپ نے ڈس لِیا اور اُف تک نہ کی
اَصْدَقُ الصّادِقِیں رَاحَۃُ العَاشِقِیں
یارِ سرور مدینے میں موجود ہے
جس کو کہتے ہیں سُلطانِ پیغمبراں
وہ پیغمبر مدینے میں موجود ہے
جو فِراقِ مدینہ میں رنجُور ہے
کون کہتا ہے طیبہ سے وہ دُور ہے
ظاہِراً ہو کہیں ہاں مگر فِکر میں
وہ گداگر مدینے میں موجود ہے
جس کو کہتے ہیں سُلطانِ پیغمبراں
وہ پیغمبر مدینے میں موجود ہے
میں ہُوں، شوقِ فریدی ! غُلامِ نبی
مجھ کو اُن سے جُدا مت سمجھنا کبھی
دُور ہُوں میں مدینے سے تو کیا ہُوا
قلبِ مُضطر مدینے میں موجود ہے
جس کو کہتے ہیں سُلطانِ پیغمبراں
وہ پیغمبر مدینے میں موجود ہے
شاعر:
شوق فریدی
نعت خواں:
زہیب اشرفی
وہ پیغمبر مدینے میں موجود ہے
رہبروں کی جسے سَربَراہی مِلی
ایسا رہبر مدینے میں موجود ہے
اہلِ دنیا کے سردار ہیں انبیاء
رب نے اُونچا کِیا سب کا ہے مرتبہ
انبیاء جس کو سردار اپنا کہیں
ہاں وہ اَفْسَر مدینے میں موجود ہے
جس کو کہتے ہیں سُلطانِ پیغمبراں
وہ پیغمبر مدینے میں موجود ہے
روز آتے ہیں رب کے فرشتے جہاں
مصطفیٰ نے کہا جس کو باغِ جناں
جس کی عظمت پہ نازاں ہے عرشِ بریں
ایسا اِک گھر مدینے میں موجود ہے
جس کو کہتے ہیں سُلطانِ پیغمبراں
وہ پیغمبر مدینے میں موجود ہے
کس قدر اُس کے دل میں تھا عشقِ نبی
سانپ نے ڈس لِیا اور اُف تک نہ کی
اَصْدَقُ الصّادِقِیں رَاحَۃُ العَاشِقِیں
یارِ سرور مدینے میں موجود ہے
جس کو کہتے ہیں سُلطانِ پیغمبراں
وہ پیغمبر مدینے میں موجود ہے
جو فِراقِ مدینہ میں رنجُور ہے
کون کہتا ہے طیبہ سے وہ دُور ہے
ظاہِراً ہو کہیں ہاں مگر فِکر میں
وہ گداگر مدینے میں موجود ہے
جس کو کہتے ہیں سُلطانِ پیغمبراں
وہ پیغمبر مدینے میں موجود ہے
میں ہُوں، شوقِ فریدی ! غُلامِ نبی
مجھ کو اُن سے جُدا مت سمجھنا کبھی
دُور ہُوں میں مدینے سے تو کیا ہُوا
قلبِ مُضطر مدینے میں موجود ہے
جس کو کہتے ہیں سُلطانِ پیغمبراں
وہ پیغمبر مدینے میں موجود ہے
شاعر:
شوق فریدی
نعت خواں:
زہیب اشرفی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں