دنیا جس کو ماں کہتی ہے ذات بڑی با برکت ہے | Duniya Jis Ko Maa Kehti Hai Zaat Badi Ba-Barkat Hai Lyrics in Urdu
دنیا جس کو ماں کہتی ہے، ذات بڑی با برکت ہے
ماں ایسی ہستی ہے جس کے قدم کے نیچے جنّت ہے
ماں نے اپنے خونِ جگر سے دنیا کو سیراب کیا
غوث وقُطب اور پیر پیمبر سب کو ماں نے جنم دیا
ماں کے حسیں پیکر میں دیکھو شان ربُّ العِزَّت ہے
ماں ایسی ہستی ہے جس کے قدم کے نیچے جنّت ہے
تھپکی دے کر، نغمہ گا کر ماں اُس کو بہلاتی ہے
دودھ کی صورت میں وہ اپنا دل کا خون پلاتی ہے
ماں کے گوشے میں پوشیدہ اک پاکیزہ شفقت ہے
ماں ایسی ہستی ہے جس کے قدم کے نیچے جنّت ہے
گھر والے سب سو جاتے ہیں، جاگتی ماں رہ جاتی ہے
بچّے کے آرام کی خاطر ہر دکھ کو سہہ جاتی ہے
ماں کے آنچل کے سائے میں چین سکوں ہے راحت ہے
ماں ایسی ہستی ہے جس کے قدم کے نیچے جنّت ہے
ماں کی دعائیں لے کر جب میں اپنے گھر سے نکلتا ہوں
ایسا لگتا ہے کہ جنّت کی وادی میں ٹہلتا ہوں
ماں کی دعا کے صدقے میں ہر سو جہاں میں شہرت ہے
ماں ایسی ہستی ہے جس کے قدم کے نیچے جنّت ہے
ماں کی اک چھوٹی سی ہنسی سے دل کا چمن کھل جاتا ہے
ماں کی آنکھ میں آنسو ہو تو عرشِ خدا ہل جاتا ہے
ماں کی عظمت جو نہ سمجھے اس پے خدا کی لعنت ہے
ماں ایسی ہستی ہے جس کے قدم کے نیچے جنّت ہے
اُس کے دل سے جا کر پوچھو جس کی ماں مر جاتی ہے
من کا آنگن، دل کی دنیا سب سونا کر جاتی ہے
ماں ہی گھر کی رونق ہے اور ماں ہی گھر کی زینت ہے
ماں ایسی ہستی ہے جس کے قدم کے نیچے جنّت ہے
پیارے بچّو ! تم بھی سمجھو ماں کی دل سے قدر کرو
ماں کی خدمت فرض ہے تم پر، ماں کو کبھی تکلیف نہ دو
شبنم ! تم بھی سمجھو ماں کی ذات سراپا رحمت ہے
ماں ایسی ہستی ہے جس کے قدم کے نیچے جنّت ہے
شاعر:
ایوب شبنم
نشید خواں:
اختر پرواز نعیمی
ماں ایسی ہستی ہے جس کے قدم کے نیچے جنّت ہے
ماں نے اپنے خونِ جگر سے دنیا کو سیراب کیا
غوث وقُطب اور پیر پیمبر سب کو ماں نے جنم دیا
ماں کے حسیں پیکر میں دیکھو شان ربُّ العِزَّت ہے
ماں ایسی ہستی ہے جس کے قدم کے نیچے جنّت ہے
تھپکی دے کر، نغمہ گا کر ماں اُس کو بہلاتی ہے
دودھ کی صورت میں وہ اپنا دل کا خون پلاتی ہے
ماں کے گوشے میں پوشیدہ اک پاکیزہ شفقت ہے
ماں ایسی ہستی ہے جس کے قدم کے نیچے جنّت ہے
گھر والے سب سو جاتے ہیں، جاگتی ماں رہ جاتی ہے
بچّے کے آرام کی خاطر ہر دکھ کو سہہ جاتی ہے
ماں کے آنچل کے سائے میں چین سکوں ہے راحت ہے
ماں ایسی ہستی ہے جس کے قدم کے نیچے جنّت ہے
ماں کی دعائیں لے کر جب میں اپنے گھر سے نکلتا ہوں
ایسا لگتا ہے کہ جنّت کی وادی میں ٹہلتا ہوں
ماں کی دعا کے صدقے میں ہر سو جہاں میں شہرت ہے
ماں ایسی ہستی ہے جس کے قدم کے نیچے جنّت ہے
ماں کی اک چھوٹی سی ہنسی سے دل کا چمن کھل جاتا ہے
ماں کی آنکھ میں آنسو ہو تو عرشِ خدا ہل جاتا ہے
ماں کی عظمت جو نہ سمجھے اس پے خدا کی لعنت ہے
ماں ایسی ہستی ہے جس کے قدم کے نیچے جنّت ہے
اُس کے دل سے جا کر پوچھو جس کی ماں مر جاتی ہے
من کا آنگن، دل کی دنیا سب سونا کر جاتی ہے
ماں ہی گھر کی رونق ہے اور ماں ہی گھر کی زینت ہے
ماں ایسی ہستی ہے جس کے قدم کے نیچے جنّت ہے
پیارے بچّو ! تم بھی سمجھو ماں کی دل سے قدر کرو
ماں کی خدمت فرض ہے تم پر، ماں کو کبھی تکلیف نہ دو
شبنم ! تم بھی سمجھو ماں کی ذات سراپا رحمت ہے
ماں ایسی ہستی ہے جس کے قدم کے نیچے جنّت ہے
شاعر:
ایوب شبنم
نشید خواں:
اختر پرواز نعیمی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں