فراق مدینہ میں دل غم زدہ ہے | Firaq-e-Madina Mein Dil Ghamzada Hai Lyrics in Urdu
فراقِ مدینہ میں دل غم زدہ ہے
جِگر ٹُکڑے ٹُکڑے ہُوا جا رہا ہے
چُھڑا کر مدینہ، میر ا چین چِھینا
بتا نفسِ ظالم تُجھے کیا مِلا ہے
دِکھایا ہے دِن یہ مُقَدّر نے مجھ کو
نہ شکوہ کسی سے، نہ کوئی گِلہ ہے
میری آنکھ سے چِھینا طیبہ کا منظر
یہ کِس بات کا تو نے بدلہ لِیا ہے
رہُوں بس اِسی غم میں بے چین، سرور !
مُقَدّر نے جو داغِ فُرقت دِیا ہے
مُقَدّر سے جس جارہُوں پر، شہا ! ہو
نظر میں مدینہ، میری اِلتِجا ہے
سُکُوں تھا مجھے کوچۂ مُصطفیٰ میں
وطن میں مِرا سب سُکُوں لُٹ گیا ہے
میرے دِل کے ارماں رہے دِل ہی دِل میں
یہی غم میرے دِل کو تڑپا رہا ہے
نہ دُنیا کی فِکریں، نہ غم تھا وہاں پر
یہاں آ کے دِل آفتوں میں گِرا ہے
پہاڑوں کی دِلکش قطاروں کے جلوے
وہ منظر مجھے آج یاد آ رہا ہے
اُنہیں چومنا ہاتھ لہرا کے پیہم
وہ منظر مجھے آج یاد آ رہا ہے
عقیدت سے خاکِ مدینہ اُٹھا کر
اُسے چومنا آج یاد آ رہا ہے
کبھی دیدِ سرور کی حسرت میں ممبر
کو تکنا وہ چُھپ چُھپ کے یاد آ رہا ہے
کبھی دیکھ کر سبز گنبد کا منظر
جُھکانا نظر آج یاد آ رہا ہے
نہ چھوٹے میرے ہاتھ سے اُن کا دامن
جِیوں جب تلک، یا خُدا ! یہ دُعا ہے
مہکتی ہے پیاری، وہ جنّت کی کیاری
وہاں بیٹھنا آج یاد آ رہا ہے
بچھڑ کر عبیدِ رضا ان کے در سے
پریشان ہے، خوار ہے، غم زدہ ہے
شاعر:
اویس رضا قادری
نعت خواں:
اویس رضا قادری
محمد اشفاق عطاری
جِگر ٹُکڑے ٹُکڑے ہُوا جا رہا ہے
چُھڑا کر مدینہ، میر ا چین چِھینا
بتا نفسِ ظالم تُجھے کیا مِلا ہے
دِکھایا ہے دِن یہ مُقَدّر نے مجھ کو
نہ شکوہ کسی سے، نہ کوئی گِلہ ہے
میری آنکھ سے چِھینا طیبہ کا منظر
یہ کِس بات کا تو نے بدلہ لِیا ہے
رہُوں بس اِسی غم میں بے چین، سرور !
مُقَدّر نے جو داغِ فُرقت دِیا ہے
مُقَدّر سے جس جارہُوں پر، شہا ! ہو
نظر میں مدینہ، میری اِلتِجا ہے
سُکُوں تھا مجھے کوچۂ مُصطفیٰ میں
وطن میں مِرا سب سُکُوں لُٹ گیا ہے
میرے دِل کے ارماں رہے دِل ہی دِل میں
یہی غم میرے دِل کو تڑپا رہا ہے
نہ دُنیا کی فِکریں، نہ غم تھا وہاں پر
یہاں آ کے دِل آفتوں میں گِرا ہے
پہاڑوں کی دِلکش قطاروں کے جلوے
وہ منظر مجھے آج یاد آ رہا ہے
اُنہیں چومنا ہاتھ لہرا کے پیہم
وہ منظر مجھے آج یاد آ رہا ہے
عقیدت سے خاکِ مدینہ اُٹھا کر
اُسے چومنا آج یاد آ رہا ہے
کبھی دیدِ سرور کی حسرت میں ممبر
کو تکنا وہ چُھپ چُھپ کے یاد آ رہا ہے
کبھی دیکھ کر سبز گنبد کا منظر
جُھکانا نظر آج یاد آ رہا ہے
نہ چھوٹے میرے ہاتھ سے اُن کا دامن
جِیوں جب تلک، یا خُدا ! یہ دُعا ہے
مہکتی ہے پیاری، وہ جنّت کی کیاری
وہاں بیٹھنا آج یاد آ رہا ہے
بچھڑ کر عبیدِ رضا ان کے در سے
پریشان ہے، خوار ہے، غم زدہ ہے
شاعر:
اویس رضا قادری
نعت خواں:
اویس رضا قادری
محمد اشفاق عطاری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں