ہم مدینے سے اللہ کیوں آ گئے | Hum Madine Se Allah Kyun Aa Gaye Lyrics in Urdu
ہم مدینے سے اللہ کیوں آ گئے
قلبِ حیراں کی تسکین وہیں رہ گئی
دل وہیں رہ گیا، جاں وہیں رہ گئی
خم اُسی در پہ اپنی جبیں رہ گئی
یاد آتے ہیں ہم کو وہ شام و سحر
وہ سُکونِ دل و جان و روح و نظر
یہ اُنہی کا کرم ہے، انہی کی عطا
ایک کیفیتِ دل نشیں رہ گئی
اللہ اللہ ! وہاں کا سُجُود و قیام
اللہ اللہ ! وہاں کا دُرُود و سلام
اللہ اللہ ! وہاں کا وہ کیفِ دوام
وہ صلوٰۃِ سُکُوں آفریں رہ گئی
جس جگہ سجدہ ریزی کی لذّ ت مِلی
جس جگہ ہر قدم اُن کی رحمت مِلی
جس جگہ نُور رہتا ہے شام و سحر
وہ فلک رہ گیا، وہ زمیں رہ گئی
پڑھ کے نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ فَتْحٌ قَرِیْب
جب ہوئے ہم رواں سوئے کوئے حبیب
برکتیں، رحمتیں ساتھ چلنے لگیں
بے بسی زندگی کی یہیں رہ گئی
زندگانی وہیں، کاش ! ہوتی بسر
کاش، بہزاد ! آتے نہ ہم لوٹ کر
اور پُوری ہوئی ہر تمنّا مگر
یہ تمنّائے قلبِ حزیں رہ گئی
شاعر:
بہزاد لکھنوی
نعت خواں:
ذوالفقار علی حسینی
زہیب اشرفی
فرحان علی قادری
قلبِ حیراں کی تسکین وہیں رہ گئی
دل وہیں رہ گیا، جاں وہیں رہ گئی
خم اُسی در پہ اپنی جبیں رہ گئی
یاد آتے ہیں ہم کو وہ شام و سحر
وہ سُکونِ دل و جان و روح و نظر
یہ اُنہی کا کرم ہے، انہی کی عطا
ایک کیفیتِ دل نشیں رہ گئی
اللہ اللہ ! وہاں کا سُجُود و قیام
اللہ اللہ ! وہاں کا دُرُود و سلام
اللہ اللہ ! وہاں کا وہ کیفِ دوام
وہ صلوٰۃِ سُکُوں آفریں رہ گئی
جس جگہ سجدہ ریزی کی لذّ ت مِلی
جس جگہ ہر قدم اُن کی رحمت مِلی
جس جگہ نُور رہتا ہے شام و سحر
وہ فلک رہ گیا، وہ زمیں رہ گئی
پڑھ کے نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ فَتْحٌ قَرِیْب
جب ہوئے ہم رواں سوئے کوئے حبیب
برکتیں، رحمتیں ساتھ چلنے لگیں
بے بسی زندگی کی یہیں رہ گئی
زندگانی وہیں، کاش ! ہوتی بسر
کاش، بہزاد ! آتے نہ ہم لوٹ کر
اور پُوری ہوئی ہر تمنّا مگر
یہ تمنّائے قلبِ حزیں رہ گئی
شاعر:
بہزاد لکھنوی
نعت خواں:
ذوالفقار علی حسینی
زہیب اشرفی
فرحان علی قادری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں