جو گزری ہے وہ کس کس کو بتائیں یا رسول اللہ | Jo Guzri Hai Wo Kis Kis Ko Batayen Ya Rasoolallah Lyrics in Urdu
جو گزری ہے وہ کس کس کو بتائیں، یا رسول اللہ
!
کسے حالِ دلِ مضطر سنائیں، یا رسول اللہ !
یہ حسرت ہے کہ تصویرِ ادب بن کر مواجہ میں
چراغِ دیدۂ پُر نم جلائیں، یا رسول اللہ !
پڑا ہوں رکھ کے زنجیرِ غُلامی آپ کے در پر
سجائی ہیں لبوں پر التجائیں، یا رسول اللہ !
بدن پر اَنْ گِنَتْ زخموں کے اب تک ہیں نِشاں باقی
اِنہیں دامانِ رحمت میں چُھپائیں، یا رسول اللہ !
مِرے آنسو بھی لے جائیں، مِری آنکھیں بھی لے جائیں
مدینے کی طرف جاتی ہوائیں، یا رسول اللہ !
مدینے میں کھڑا ہے ایک مجرم ہتھکڑی پہنے
اِسے بھی عمر بھر کی ہوں سزائیں، یا رسول اللہ !
نکل کر قبرِ انور سے دِلاسہ دیں غُلاموں کو
سجی ہیں ہر قدم پر کربلائیں، یا رسول اللہ !
ادب کی اوڑھنی لے کر درِ اقدس پہ آ جائیں
کہاں جنگل میں بھٹکیں گی صدائیں، یا رسول اللہ !
سوئے افلاک اُڑنے سے ذرا پہلے مواجہ پر
دُرودِ پاک پڑھتی ہیں دعائیں، یا رسول اللہ !
نہیں پانی کا قطرہ آب خوروں میں کوئی باقی
کرم کی بھیج دیں کالی گھٹائیں، یا رسول اللہ !
کھڑی رہتی ہیں اپنے گھر کے دروازے میں پہروں تک
کدھر جائیں جواں بیٹوں کی مائیں، یا رسول اللہ !
تَصَوُّر میں جوارِ گنبدِ خضرا میں سب بچّے
گھروندے آرزوؤں کے بنائیں، یا رسول اللہ !
کنیزیں اپنے اشکوں کی زباں میں عرض کرتی ہیں
ہمیں بھی اپنی چوکھٹ پر بُلائیں، یا رسول اللہ !
رعُونت کے جھروکے میں کھڑی ہیں تان کر سینہ
ابھی تک اَنْ گِنَتْ جُھوٹی انائیں، یا رسول اللہ !
اتاریں پیرہن جرمِ ضعیفی کا غُلام آخِر
تماشا کیا زمانے کو دِکھائیں، یا رسول اللہ !
دُہائی دے رہی ہیں آپ کے اسمِ گرامی کی
کئی صدیوں سے زخمی فاختائیں، یا رسول اللہ !
غُلاموں کے مُقَدّر میں سُکونِ دل کی دولت دیں
صفِ ماتم اندھیرے بھی بچھائیں، یا رسول اللہ !
شبِ میلاد بچّے شوق سے گھر کے منڈیروں پر
ادب سے جل رہی آنکھیں بِچھائیں، یا رسول اللہ !
ریاضِ بے نوا کی التجا ہے اپنے بردے کو
بڑی شفقت سے سینے سے لگائیں، یا رسول اللہ !
شاعر:
ریاض حسین چودھری
نعت خواں:
خالد حسنین خالد
اسد رضا عطاری
کسے حالِ دلِ مضطر سنائیں، یا رسول اللہ !
یہ حسرت ہے کہ تصویرِ ادب بن کر مواجہ میں
چراغِ دیدۂ پُر نم جلائیں، یا رسول اللہ !
پڑا ہوں رکھ کے زنجیرِ غُلامی آپ کے در پر
سجائی ہیں لبوں پر التجائیں، یا رسول اللہ !
بدن پر اَنْ گِنَتْ زخموں کے اب تک ہیں نِشاں باقی
اِنہیں دامانِ رحمت میں چُھپائیں، یا رسول اللہ !
مِرے آنسو بھی لے جائیں، مِری آنکھیں بھی لے جائیں
مدینے کی طرف جاتی ہوائیں، یا رسول اللہ !
مدینے میں کھڑا ہے ایک مجرم ہتھکڑی پہنے
اِسے بھی عمر بھر کی ہوں سزائیں، یا رسول اللہ !
نکل کر قبرِ انور سے دِلاسہ دیں غُلاموں کو
سجی ہیں ہر قدم پر کربلائیں، یا رسول اللہ !
ادب کی اوڑھنی لے کر درِ اقدس پہ آ جائیں
کہاں جنگل میں بھٹکیں گی صدائیں، یا رسول اللہ !
سوئے افلاک اُڑنے سے ذرا پہلے مواجہ پر
دُرودِ پاک پڑھتی ہیں دعائیں، یا رسول اللہ !
نہیں پانی کا قطرہ آب خوروں میں کوئی باقی
کرم کی بھیج دیں کالی گھٹائیں، یا رسول اللہ !
کھڑی رہتی ہیں اپنے گھر کے دروازے میں پہروں تک
کدھر جائیں جواں بیٹوں کی مائیں، یا رسول اللہ !
تَصَوُّر میں جوارِ گنبدِ خضرا میں سب بچّے
گھروندے آرزوؤں کے بنائیں، یا رسول اللہ !
کنیزیں اپنے اشکوں کی زباں میں عرض کرتی ہیں
ہمیں بھی اپنی چوکھٹ پر بُلائیں، یا رسول اللہ !
رعُونت کے جھروکے میں کھڑی ہیں تان کر سینہ
ابھی تک اَنْ گِنَتْ جُھوٹی انائیں، یا رسول اللہ !
اتاریں پیرہن جرمِ ضعیفی کا غُلام آخِر
تماشا کیا زمانے کو دِکھائیں، یا رسول اللہ !
دُہائی دے رہی ہیں آپ کے اسمِ گرامی کی
کئی صدیوں سے زخمی فاختائیں، یا رسول اللہ !
غُلاموں کے مُقَدّر میں سُکونِ دل کی دولت دیں
صفِ ماتم اندھیرے بھی بچھائیں، یا رسول اللہ !
شبِ میلاد بچّے شوق سے گھر کے منڈیروں پر
ادب سے جل رہی آنکھیں بِچھائیں، یا رسول اللہ !
ریاضِ بے نوا کی التجا ہے اپنے بردے کو
بڑی شفقت سے سینے سے لگائیں، یا رسول اللہ !
شاعر:
ریاض حسین چودھری
نعت خواں:
خالد حسنین خالد
اسد رضا عطاری
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں