کوئے جاناں میں یار جا نہ سکا | Koo-e-Janan Mein Yaar Ja Na Saka Lyrics in Urdu
کُوئے جاناں میں، یار! جا نہ سکا
زخم دِل کے اُنہیں دِکھا نہ سکا
سانس تھی آخری میری اُس دم
داستانِ الم سُنا نہ سکا
اِک فقط اُس مدینے والے کے
ناز میرے کوئی اُٹھا نہ سکا
جُرم اِتنے تھے باخُدا میرے
کوئی اُن کے سِوا چُھپا نہ سکا
جس نے دیکھا وہ گنبدِ خضرا
اپنی نظروں کو پھر ہٹا نہ سکا
داغِ عصیاں ہیں اِتنے چہرے پر
رُخ سے پردہ کبھی ہٹا نہ سکا
تذکرہ کب ہُوا تھا کربل کا
آج تک میں اِسے بُھلا نہ سکا
اُس کو کہتے ہیں فاطمہ زہرا
جس پہ اُنگلی کوئی اُٹھا نہ سکا
جیسا اصغر نے تیر کھایا ہے
تیر ایسا کوئی بھی کھا نہ سکا
سُن کے خُطبہ وہ حُرّ چلے آئے
خُلد میں تو یزید آ نہ سکا
جانے کیا ہوگا تیرا محشر میں
نجدِیا گر اُنہیں منا نہ سکا
یہ کرم ہے میرے رضا خاں کا
سُنِّیَت کو کوئی ہِلا نہ سکا
ذاتِ اختر رضا کے جیسی ابھی
یہ زمانہ مِثال لا نہ سکا
کوشِشیں کیں بہت زمانے نے
شمعِ ایماں میری بُجھا نہ سکا
عشق سینے میں ہے مُقیم اُن کا
دِل تو دنیا سے میں لگا نہ سکا
نعت خواں:
ذاکر اسماعیلی
زخم دِل کے اُنہیں دِکھا نہ سکا
سانس تھی آخری میری اُس دم
داستانِ الم سُنا نہ سکا
اِک فقط اُس مدینے والے کے
ناز میرے کوئی اُٹھا نہ سکا
جُرم اِتنے تھے باخُدا میرے
کوئی اُن کے سِوا چُھپا نہ سکا
جس نے دیکھا وہ گنبدِ خضرا
اپنی نظروں کو پھر ہٹا نہ سکا
داغِ عصیاں ہیں اِتنے چہرے پر
رُخ سے پردہ کبھی ہٹا نہ سکا
تذکرہ کب ہُوا تھا کربل کا
آج تک میں اِسے بُھلا نہ سکا
اُس کو کہتے ہیں فاطمہ زہرا
جس پہ اُنگلی کوئی اُٹھا نہ سکا
جیسا اصغر نے تیر کھایا ہے
تیر ایسا کوئی بھی کھا نہ سکا
سُن کے خُطبہ وہ حُرّ چلے آئے
خُلد میں تو یزید آ نہ سکا
جانے کیا ہوگا تیرا محشر میں
نجدِیا گر اُنہیں منا نہ سکا
یہ کرم ہے میرے رضا خاں کا
سُنِّیَت کو کوئی ہِلا نہ سکا
ذاتِ اختر رضا کے جیسی ابھی
یہ زمانہ مِثال لا نہ سکا
کوشِشیں کیں بہت زمانے نے
شمعِ ایماں میری بُجھا نہ سکا
عشق سینے میں ہے مُقیم اُن کا
دِل تو دنیا سے میں لگا نہ سکا
نعت خواں:
ذاکر اسماعیلی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں