کوئی سو بار پوچھے میں کہوں ہر بار کافی ہے | Koi Sau Baar Poochhe Main Kahun Har Baar Kafi Hai Lyrics in Urdu
کوئی سو بار پُوچھے، میں کہُوں ہر بار کافی ہے
میں دیوانہ ہُوں، مجھ کو بس تیرا دیدار کافی ہے
مسیحائے زمانہ نے کِیا واپس مجھے کہہ کر
مریضِ یار ! جا تجھ کو نگاہِ یار کافی ہے
پہنچ کر تیری چوکھٹ پر تیرا دیوانہ کہتا ہے
مجھے جنّت سے کیا لینا، تیرا دربار کافی ہے
زمانے کے ہر اِک مرحب کو مٹّی میں مِلانا ہو
سرِ میداں خیالِ حیدرِ کرّار کافی ہے
لکھی نعتِ نبی پھانسی کا پھندا چُوم کر جس نے
وہ ہندوستان کا شاعر قتیلِ دار کافی ہے
سِکھایا جو وظیفہ والدہ نے غوثِ اعظم کو
غُلامو ! کافی کافی کی یہی تکرار کافی ہے
جو غدّارِ نبی کو زیر کرنا ہو، وصی ! پھر تو
امام احمد رضا کے نام کا اِک وار کافی ہے
شاعر:
سید عبد الوصی قادری رضوی
نعت خواں:
سید عبد الوصی قادری رضوی
میں دیوانہ ہُوں، مجھ کو بس تیرا دیدار کافی ہے
مسیحائے زمانہ نے کِیا واپس مجھے کہہ کر
مریضِ یار ! جا تجھ کو نگاہِ یار کافی ہے
پہنچ کر تیری چوکھٹ پر تیرا دیوانہ کہتا ہے
مجھے جنّت سے کیا لینا، تیرا دربار کافی ہے
زمانے کے ہر اِک مرحب کو مٹّی میں مِلانا ہو
سرِ میداں خیالِ حیدرِ کرّار کافی ہے
لکھی نعتِ نبی پھانسی کا پھندا چُوم کر جس نے
وہ ہندوستان کا شاعر قتیلِ دار کافی ہے
سِکھایا جو وظیفہ والدہ نے غوثِ اعظم کو
غُلامو ! کافی کافی کی یہی تکرار کافی ہے
جو غدّارِ نبی کو زیر کرنا ہو، وصی ! پھر تو
امام احمد رضا کے نام کا اِک وار کافی ہے
شاعر:
سید عبد الوصی قادری رضوی
نعت خواں:
سید عبد الوصی قادری رضوی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں