نہ کلیم کا تصور نہ خیال طور سینا | بولو مدینہ مدینہ مدینہ | Na Kaleem Ka Tasawwur Na Khayal-e-Toor-e-Seena Lyrics in Urdu
بولو مدینہ مدینہ مدینہ
بولو مدینہ مدینہ مدینہ
نہ کلیم کا تَصَوُّر، نہ خیالِ طُورِ سینا
میری آرزُو محمّد، میری جُستجُو مدینہ
میں گدائے مصطفیٰ ہُوں، میری عظمتیں نہ پُوچھو
مجھے دیکھ کر جہنّم کو بھی آ گیا پسینہ
مجھے، دُشمنو ! نہ چھیڑو، میرا ہے کوئی جہاں میں
میں ابھی پُکار لُوں گا، نہیں دُور ہے مدینہ
میں مریضِ مصطفیٰ ہُوں، مجھے چھیڑو نہ، طبیبو !
میری زندگی جو چاہو، مجھے لے چلو مدینہ
میرے ڈُوبنے میں باقی نہ کوئی کسر رہی تھی
کہا المدد محمّد، تو اُبھر گیا سفینہ
سِوا اِس کے میرے دل میں کوئی آرزُو نہیں ہے
مجھے موت بھی جو آئے تو ہو سامنے مدینہ
نہیں مال و زر تو کیا ہے، میں غریب ہُوں یہی نا
میرے عشق مجھ کو لے چل تُو ہی جانبِ مدینہ
کبھی، اے شکیل ! دل سے نہ مِٹے خیالِ احمد
اِسی آرزُو میں مرنا، اِسی آرزُو میں جینا
نعت خواں:
سید فصیح الدین سہروردی
الحاج خورشید احمد
بولو مدینہ مدینہ مدینہ
نہ کلیم کا تَصَوُّر، نہ خیالِ طُورِ سینا
میری آرزُو محمّد، میری جُستجُو مدینہ
میں گدائے مصطفیٰ ہُوں، میری عظمتیں نہ پُوچھو
مجھے دیکھ کر جہنّم کو بھی آ گیا پسینہ
مجھے، دُشمنو ! نہ چھیڑو، میرا ہے کوئی جہاں میں
میں ابھی پُکار لُوں گا، نہیں دُور ہے مدینہ
میں مریضِ مصطفیٰ ہُوں، مجھے چھیڑو نہ، طبیبو !
میری زندگی جو چاہو، مجھے لے چلو مدینہ
میرے ڈُوبنے میں باقی نہ کوئی کسر رہی تھی
کہا المدد محمّد، تو اُبھر گیا سفینہ
سِوا اِس کے میرے دل میں کوئی آرزُو نہیں ہے
مجھے موت بھی جو آئے تو ہو سامنے مدینہ
نہیں مال و زر تو کیا ہے، میں غریب ہُوں یہی نا
میرے عشق مجھ کو لے چل تُو ہی جانبِ مدینہ
کبھی، اے شکیل ! دل سے نہ مِٹے خیالِ احمد
اِسی آرزُو میں مرنا، اِسی آرزُو میں جینا
نعت خواں:
سید فصیح الدین سہروردی
الحاج خورشید احمد
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں